Binance Square

Zakir Hueen

1 подписок(и/а)
25 подписчиков(а)
82 понравилось
0 поделились
Посты
·
--
اعلیٰ ظرفقیقت نہایت تلخ ہوتی ہے جس کا سامنا کرنا بہت دشوار $BTC گزار مرحلہ ہوتاہے۔بعض اوقات انسان حقائق کو سمجھے بغیر بڑی بات منہ سے نکال دیتاہے مگر اسے پورا کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل ہوتاہے۔یہ واقعہ بھی ایک تلخ حقیقت پر مبنی ہے جسے بھلانا ناممکن ہے۔واقعہ یوں ہے کہ میری عزیزہ مسرت نے اپنے بیٹے کی شادی بہت امیر خاندان میں کی۔ جنہوں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں کار‘کوٹھی اور کافی سارے زیور کے علاوہ ایک عدد ملازمہ بھی دی۔شادی کے موقع پر تو میں ان کے ہاں نہ جا سکی۔جب کئی ماہ بعد میرا مسرت کے گھر جانا ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ مسرت کی بہو جہیز میں ایک عدد ملازمہ بھی لائی ہے۔میں مسرت کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھی کہ ایک چھوٹی سی بچی جس کی عمر تقریباً سات‘آٹھ سال کے لگ بھگ تھی۔ (جاری ہے)$BNB چائے لے کر آگئی۔ مسرت نے مجھے بتایا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو میری بہو کے ساتھ جہیز میں آئی ہے۔میں نے بچی سے اس کا نام پوچھا تو اس نے شکیلہ بتایا۔سانو لے رنگ کی دبلی پتلی سی شکیلہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔اس کی ماں نے غربت کی وجہ سے اپنی بچی کو بطور جہیز دوسرے شہر بھیج دیا تھا۔یہ سوچ کر مجھ پر ایک عجیب کپکپاہٹ سی طاری ہو گئی۔میں حیران تھی کہ اس کے والدین نے اس ننھی سی بچی کو خود سے دور بلکہ دوسرے شہر بھیجنے کا حوصلہ کیسے کیا ہو گا۔کیا اس کی ماں کو اپنی ننھی شہزادی کو خود سے دور کرکے دوسروں کے کام کاج کے لیے بھیجتے ہوئے دل کی طرف سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہو گا۔اس وقت تو میں کچھ نہ بولی لیکن مسرت سے اتنا ضرور کہا کہ”یہ سرا سر ظلم ہے کہ اتنی سی بچی اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے بغیر یہاں رہے اور پھر سارا دن تم لوگوں کی خدمت اور کام کاج بھی کرے۔“ مسرت نے جواب دیا کہ”میں نے اپنی بہو کی ماں سے کہا تھا کہ ہمیں اس بچی کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کا یہ جواب سن کر کہ ’میری بیٹی کو تو ضرورت ہے‘میں چپ کر گئی۔اس وقت مجھے کہیں اور ضروری کام سے جانا تھا لہٰذا میں نے مسرت سے اس بارے میں زیادہ بحث نہیں کی اور واپسی کی راہ لی۔گھر آکر بھی میں شکیلہ کے بارے میں سوچتی رہی میری خواہش تھی کہ شکیلہ کچھ پڑھ لکھ جائے تو شاید اس کی زندگی سنور جائے۔اس کے پیش نظر میں چند دن کے بعد دوبارہ مسرت کے ہاں گئی۔شکیلہ اس وقت برتن دھو رہی تھی۔میں نے غور سے اس کے ہاتھوں کو دیکھا تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا۔وہ ننھے ننھے ہاتھ جن میں کھلونے ہونے چاہیے تھے،سارا دن کام کرنے اور مشقت اُٹھانے کی وجہ سے ابھی سے کھر درے دکھائی دے رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر مسرت نے اپنی بیٹی ارم سے کہا کہ آنٹی کیلئے چائے بناؤ اور شکیلہ کو بازار سے کچھ سودا لانے کا کہہ کر میرے ساتھ دوسرے کمرے میں آگئی۔ہم باتوں میں مصروف تھیں کہ مسرت کی بہو شازمہ”شکیلہ شکیلہ“پکارتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی ۔مجھے دیکھ کر شازمہ نے سلام کیا اور اپنی ساس سے شکیلہ کے بارے میں پوچھنے لگی۔اتنی دیر میں شکیلہ بھی بازار سے آچکی تھی۔ شازمہ شکیلہ کو دیکھ کر کہنے لگی کہ”تم بہت سست ہو،جلدی جلدی ہاتھ چلایا کرو۔میں کب سے تمہیں تلاش کررہی ہوں اور تم ہو کہ کہیں دکھائی ہی نہیں دیتی۔“میں نے شازمہ سے کہا کہ”بچی ہی تو ہے وہ بے چاری کتنا کام کر سکتی ہے۔“مسرت کو شاید میری بات اچھی نہیں لگی،اس نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔شکیلہ یہ سب سن رہی تھی۔وہ کہنے لگی”خالہ جان میں بیچاری نہیں ہوں۔میں اچھا خاصا کماتی ہوں۔باجی کی امی نے میری امی کو میری کمائی کے بارہ ہزار دئیے تھے۔اسی لیے میں ان کے ساتھ یہاں کام کرنے اپنی مرضی سے آئی ہوں۔مجھ پر کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔“اس نے اپنی انگلی لہراتے ہوئے جواب دیا۔شکیلہ کی یہ بات سن کر میں نے کچھ سوچا اور کہا”اگر میں تمہاری امی کو پندرہ ہزار روپے دے دوں تو کیا تم میرے ساتھ میرے گھر میں رہو گی۔میں تمہیں پڑھاؤں گی بھی اور تم سے زیادہ کام بھی نہیں لوں گی۔“میری بات سن کر شکیلہ یک دم کھل اُٹھی مگر دوسرے ہی لمحے اس کا چہرہ بجھ سا گیا۔اس کی یہ بدلتی کیفیات دیکھ کر میں نے حیران ہوتے ہوئے اس سے پوچھا”کیا ہوا۔“وہ آہستہ سے بولی”کچھ نہیں خالہ جان۔“ ”کوئی بات تو ہے شکیلہ ،بتاؤنا۔“میرے اصرار پر وہ گویا ہوئی”خالہ جان میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی طرح پڑھائی کروں۔یہاں باجی مجھے کبھی کبھار پڑھاتی ہیں لیکن انہیں میرے کام سے زیادہ پیار ہے۔کیونکہ میں ان کے جہیز کا حصہ ہوں ۔انہوں نے میری امی کو پورے ․․․․․․․“مجھے معلوم تھا وہ کیا کہنا چاہتی ہے اسی لیے میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا”تو کیا ہوا تم میرے پاس رہو۔پیسوں کی فکر نہ کرو۔“میری اس بات پر شکیلہ نے مجھے جو جواب دیا،وہ میرے لئے ایک ایسا سبق تھا جسے میں کبھی بھلا نہ پاؤں گی اور شاید آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔شکیلہ نے کہا تھا کہ”خالہ جان زبان‘زبان ہوتی ہے۔میری امی نے ان لوگوں کو زبان دی ہوئی ہے کہ میری بیٹی شکیلہ اتنے عرصے تک اپنی تنخواہ پر یہاں کام کرے گی تو میں انہیں کیسے جھوٹا کر سکتی ہوں۔آپ مجھے بے شک اس سے دو گنا پیسوں کا لالچ دیں لیکن میں اپنی ماں کی بات نہیں ٹال سکتی۔اگر میں نے اس طرح کیا تو میری چھوٹی بہن جو ابھی پانچ سال کی ہے اسے کون کام دے گا۔“میرے پاس اُس کی اس بات کا کوئی جواب نہ تھا لیکن میں سوچ رہی تھی یہ چھوٹی سی بچی کتنی اعلیٰ ظرف ہے۔$ETH

اعلیٰ ظرف

قیقت نہایت تلخ ہوتی ہے جس کا سامنا کرنا بہت دشوار $BTC گزار مرحلہ ہوتاہے۔بعض اوقات انسان حقائق کو سمجھے بغیر بڑی بات منہ سے نکال دیتاہے مگر اسے پورا کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل ہوتاہے۔یہ واقعہ بھی ایک تلخ حقیقت پر مبنی ہے جسے بھلانا ناممکن ہے۔واقعہ یوں ہے کہ میری عزیزہ مسرت نے اپنے بیٹے کی شادی بہت امیر خاندان میں کی۔
جنہوں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں کار‘کوٹھی اور کافی سارے زیور کے علاوہ ایک عدد ملازمہ بھی دی۔شادی کے موقع پر تو میں ان کے ہاں نہ جا سکی۔جب کئی ماہ بعد میرا مسرت کے گھر جانا ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ مسرت کی بہو جہیز میں ایک عدد ملازمہ بھی لائی ہے۔میں مسرت کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھی کہ ایک چھوٹی سی بچی جس کی عمر تقریباً سات‘آٹھ سال کے لگ بھگ تھی۔

(جاری ہے)$BNB

چائے لے کر آگئی۔ مسرت نے مجھے بتایا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو میری بہو کے ساتھ جہیز میں آئی ہے۔میں نے بچی سے اس کا نام پوچھا تو اس نے شکیلہ بتایا۔سانو لے رنگ کی دبلی پتلی سی شکیلہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔اس کی ماں نے غربت کی وجہ سے اپنی بچی کو بطور جہیز دوسرے شہر بھیج دیا تھا۔یہ سوچ کر مجھ پر ایک عجیب کپکپاہٹ سی طاری ہو گئی۔میں حیران تھی کہ اس کے والدین نے اس ننھی سی بچی کو خود سے دور بلکہ دوسرے شہر بھیجنے کا حوصلہ کیسے کیا ہو گا۔کیا اس کی ماں کو اپنی ننھی شہزادی کو خود سے دور کرکے دوسروں کے کام کاج کے لیے بھیجتے ہوئے دل کی طرف سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہو گا۔اس وقت تو میں کچھ نہ بولی لیکن مسرت سے اتنا ضرور کہا کہ”یہ سرا سر ظلم ہے کہ اتنی سی بچی اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے بغیر یہاں رہے اور پھر سارا دن تم لوگوں کی خدمت اور کام کاج بھی کرے۔“
مسرت نے جواب دیا کہ”میں نے اپنی بہو کی ماں سے کہا تھا کہ ہمیں اس بچی کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کا یہ جواب سن کر کہ ’میری بیٹی کو تو ضرورت ہے‘میں چپ کر گئی۔اس وقت مجھے کہیں اور ضروری کام سے جانا تھا لہٰذا میں نے مسرت سے اس بارے میں زیادہ بحث نہیں کی اور واپسی کی راہ لی۔گھر آکر بھی میں شکیلہ کے بارے میں سوچتی رہی میری خواہش تھی کہ شکیلہ کچھ پڑھ لکھ جائے تو شاید اس کی زندگی سنور جائے۔اس کے پیش نظر میں چند دن کے بعد دوبارہ مسرت کے ہاں گئی۔شکیلہ اس وقت برتن دھو رہی تھی۔میں نے غور سے اس کے ہاتھوں کو دیکھا تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا۔وہ ننھے ننھے ہاتھ جن میں کھلونے ہونے چاہیے تھے،سارا دن کام کرنے اور مشقت اُٹھانے کی وجہ سے ابھی سے کھر درے دکھائی دے رہے تھے۔
مجھے دیکھ کر مسرت نے اپنی بیٹی ارم سے کہا کہ آنٹی کیلئے چائے بناؤ اور شکیلہ کو بازار سے کچھ سودا لانے کا کہہ کر میرے ساتھ دوسرے کمرے میں آگئی۔ہم باتوں میں مصروف تھیں کہ مسرت کی بہو شازمہ”شکیلہ شکیلہ“پکارتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی ۔مجھے دیکھ کر شازمہ نے سلام کیا اور اپنی ساس سے شکیلہ کے بارے میں پوچھنے لگی۔اتنی دیر میں شکیلہ بھی بازار سے آچکی تھی۔ شازمہ شکیلہ کو دیکھ کر کہنے لگی کہ”تم بہت سست ہو،جلدی جلدی ہاتھ چلایا کرو۔میں کب سے تمہیں تلاش کررہی ہوں اور تم ہو کہ کہیں دکھائی ہی نہیں دیتی۔“میں نے شازمہ سے کہا کہ”بچی ہی تو ہے وہ بے چاری کتنا کام کر سکتی ہے۔“مسرت کو شاید میری بات اچھی نہیں لگی،اس نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔شکیلہ یہ سب سن رہی تھی۔وہ کہنے لگی”خالہ جان میں بیچاری نہیں ہوں۔میں اچھا خاصا کماتی ہوں۔باجی کی امی نے میری امی کو میری کمائی کے بارہ ہزار دئیے تھے۔اسی لیے میں ان کے ساتھ یہاں کام کرنے اپنی مرضی سے آئی ہوں۔مجھ پر کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔“اس نے اپنی انگلی لہراتے ہوئے جواب دیا۔شکیلہ کی یہ بات سن کر میں نے کچھ سوچا اور کہا”اگر میں تمہاری امی کو پندرہ ہزار روپے دے دوں تو کیا تم میرے ساتھ میرے گھر میں رہو گی۔میں تمہیں پڑھاؤں گی بھی اور تم سے زیادہ کام بھی نہیں لوں گی۔“میری بات سن کر شکیلہ یک دم کھل اُٹھی مگر دوسرے ہی لمحے اس کا چہرہ بجھ سا گیا۔اس کی یہ بدلتی کیفیات دیکھ کر میں نے حیران ہوتے ہوئے اس سے پوچھا”کیا ہوا۔“وہ آہستہ سے بولی”کچھ نہیں خالہ جان۔“
”کوئی بات تو ہے شکیلہ ،بتاؤنا۔“میرے اصرار پر وہ گویا ہوئی”خالہ جان میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی طرح پڑھائی کروں۔یہاں باجی مجھے کبھی کبھار پڑھاتی ہیں لیکن انہیں میرے کام سے زیادہ پیار ہے۔کیونکہ میں ان کے جہیز کا حصہ ہوں ۔انہوں نے میری امی کو پورے ․․․․․․․“مجھے معلوم تھا وہ کیا کہنا چاہتی ہے اسی لیے میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا”تو کیا ہوا تم میرے پاس رہو۔پیسوں کی فکر نہ کرو۔“میری اس بات پر شکیلہ نے مجھے جو جواب دیا،وہ میرے لئے ایک ایسا سبق تھا جسے میں کبھی بھلا نہ پاؤں گی اور شاید آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔شکیلہ نے کہا تھا کہ”خالہ جان زبان‘زبان ہوتی ہے۔میری امی نے ان لوگوں کو زبان دی ہوئی ہے کہ میری بیٹی شکیلہ اتنے عرصے تک اپنی تنخواہ پر یہاں کام کرے گی تو میں انہیں کیسے جھوٹا کر سکتی ہوں۔آپ مجھے بے شک اس سے دو گنا پیسوں کا لالچ دیں لیکن میں اپنی ماں کی بات نہیں ٹال سکتی۔اگر میں نے اس طرح کیا تو میری چھوٹی بہن جو ابھی پانچ سال کی ہے اسے کون کام دے گا۔“میرے پاس اُس کی اس بات کا کوئی جواب نہ تھا لیکن میں سوچ رہی تھی یہ چھوٹی سی بچی کتنی اعلیٰ ظرف ہے۔$ETH
امیدڈیلا ویر جو امریکہ کی چھوٹی سی ریاست ہے وہاں کے $XRP نرسنگ ہوم میں ایک روز گئی تو ایک مریضہ کو بے ہوش وینٹی لیٹر پر دنیا ومافیہا سے بے نیاز پایا۔میری میزبان بہن نے بتایا کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھا ہواہے۔یہ اس کا شوہر ہے اور یہ نہایت ہی وفادار شوہر ہے۔اکثر اس کی بیوی اس کو کہتی تھی کہ میں اگر مر گئی تو تم دوسری شادی کرلو گے مگر اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ دوسری شادی نہیں کرے گا۔”مگر اس کی بیوی کو ہوا کیا ہے؟۔“مجھے ایک دم سے اس خاتون کو دیکھ کر ترس آیا اور اپنی میزبان خاتون سے سوال کر بیٹھی۔ ”یہ شوگر کی مریضہ تھی اور ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر بھی رہتا تھا۔سٹروک ہوا تو دماغی توازن کے ساتھ ساتھ ٹانگوں سے معذور بھی ہو گئی تھی۔ (جاری ہے)$BTC ڈاکٹروں نے کافی عرصے سے جواب دے دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ یہ خاتون وینٹی لیٹر سے آزاد ہو جائے۔ (وینٹی لیٹر مصنوعی طور پر سانس اور دل کی حرکت چلتی ہے) مگر اس کا شوہر یہی چاہتا ہے کہ یہ زندہ رہے۔وہ امید پر قائم ہے کہ شاید کسی نہ کسی دن وہ دماغی طور پر صحیح ہو جائے گی۔اس کے دل کی حرکت خود بخود چلنے لگے گی اور وہ اپنے قدموں سے چل پھر سکے گی۔یہاں کے ڈاکٹروں نے بے شک جواب دے دیاہے مگر وہ اس چیز کو نہیں مانتا۔اس کے دو جوان بیٹے اسی شہر میں اپنے اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں مگر اس شخص کا گھر ٹوٹ گیا ہے۔وہ گھنٹوں یہاں آن کر بیٹھتا ہے ،اخبار پڑھتاہے ،اس سے باتیں کرتا ہے گوکہ وہ بے ہوش ہے مگر وہ باقاعدہ گفتگو کرتاہے اور اس لئے کرتاہے کہ شاید وہ اس کی آواز سن کر ہوش میں آجائے۔“ ”تو کیا ان کے بیٹے ماں کے پاس نہیں آتے ؟انھیں ماں کا خیال نہیں؟“ میری بات کا جواب دیتے ہوئے میری بہن نے بتایا کہ یہ گھرانہ پاکستانی ہے‘بچے بھی ماں کا خیال کرتے ہیں مگر اتنا نہیں کہ جتنا باپ کرتاہے۔بچے یہاں پر اپنے سٹور چلارہے ہیں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اتنا وقت ہی نہیں ملتا۔“ ”بچوں کو چاہئے کہ ماں کو اپنے گھر لے آئیں دونوں بیٹے باری باری ماں کو دیکھ سکتے ہیں۔“میں نے مجبور ہو کر کہہ دیا۔”رکھنے کو تو رکھ لیں‘ان کی بیویاں بھی کام کرتی ہیں گھرمیں دیکھ بھال کرنے کے لئے باقاعدہ پورا سٹاف ہونا چاہئے‘اس لئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا ضروری سمجھاہے کہ بروقت اگر ایمرجنسی پڑ جائے تو ہسپتال میں ان پر پوری دیکھ بھال ہو سکے۔اس شخص نے جائیداد بانٹ کر دونوں بیٹوں کو دے دی ہے اور اپنا جو حصہ ہے وہ پورے کا پورا اپنی اہلیہ پر لگا رہا ہے۔ایک پرائیویٹ نرس رات کے لئے اور ایک نرس دن کے لئے مقرر کی ہوئی ہے۔یہاں پر علاج معالجہ ویسے ہی اتنا مہنگا ہے مگر یہ شخص پانی کی طرح پیسہ اپنی اہلیہ پر لٹا رہا ہے کہ شاید یہ بچ جائے۔اسے خود بھی یقین نہیں ہے کہ بچ بھی جائے گی کہ نہیں مگر جب تک سانس تب تک آس والی بات ہے۔وہ امید کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور ہر وقت اپنی بیوی کی صحت یابی کی دعا کرتا رہتاہے۔“ نرسنگ ہوم سے نکل کر میں گھر کی سمت آرہی تھی تو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ اچھی بھلی بیویاں ہوتے ہوئے لوگ دوسری شادیاں رچا لیتے ہیں پھر شوہر اتنے وفادار ثابت نہیں ہوتے‘اکثر عورتیں روتی ہیں اور اپنے غموں کی داستانیں سناتی ہیں کہ ان کے شوہر کتنے ظلم ان پر ڈھاتے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے دوسری شادی رچا لیتے ہیں مگر یہ شخص ایک آزاد ملک میں رہتاہے جہاں لوگ وفاداری بہت جلد تبدیل کر لیتے ہیں لیکن وہ اپنی اہلیہ سے کیا ہوا وعدہ ایفا کررہاہے۔چاہے تو اپنی جان چھڑانے کے لئے اسی کو وینٹی لیٹر سے چھٹکارا دلا سکتاہے مگر شاید خوف خدا ہے یا بیوی کی محبت ہے کہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔مجھے تو انہونی سی بات لگی تھی۔لیکن اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں جو بے وفا بھی ہیں اور وفا شعار بھی۔اس مثال کو آنکھوں سے دیکھ کر میں حقیقتاً متاثر ہوئی اور کافی عرصہ اس شخص کی وفا شعاری میرے ذہن پر چھائی رہی جو شدید بیماری کے باوجود امید کا دامن تھامے ہوئے تھا۔$SOL

امید

ڈیلا ویر جو امریکہ کی چھوٹی سی ریاست ہے وہاں کے $XRP نرسنگ ہوم میں ایک روز گئی تو ایک مریضہ کو بے ہوش وینٹی لیٹر پر دنیا ومافیہا سے بے نیاز پایا۔میری میزبان بہن نے بتایا کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھا ہواہے۔یہ اس کا شوہر ہے اور یہ نہایت ہی وفادار شوہر ہے۔اکثر اس کی بیوی اس کو کہتی تھی کہ میں اگر مر گئی تو تم دوسری شادی کرلو گے مگر اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ دوسری شادی نہیں کرے گا۔”مگر اس کی بیوی کو ہوا کیا ہے؟۔“مجھے ایک دم سے اس خاتون کو دیکھ کر ترس آیا اور اپنی میزبان خاتون سے سوال کر بیٹھی۔
”یہ شوگر کی مریضہ تھی اور ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر بھی رہتا تھا۔سٹروک ہوا تو دماغی توازن کے ساتھ ساتھ ٹانگوں سے معذور بھی ہو گئی تھی۔

(جاری ہے)$BTC
ڈاکٹروں نے کافی عرصے سے جواب دے دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ یہ خاتون وینٹی لیٹر سے آزاد ہو جائے۔
(وینٹی لیٹر مصنوعی طور پر سانس اور دل کی حرکت چلتی ہے) مگر اس کا شوہر یہی چاہتا ہے کہ یہ زندہ رہے۔وہ امید پر قائم ہے کہ شاید کسی نہ کسی دن وہ دماغی طور پر صحیح ہو جائے گی۔اس کے دل کی حرکت خود بخود چلنے لگے گی اور وہ اپنے قدموں سے چل پھر سکے گی۔یہاں کے ڈاکٹروں نے بے شک جواب دے دیاہے مگر وہ اس چیز کو نہیں مانتا۔اس کے دو جوان بیٹے اسی شہر میں اپنے اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں مگر اس شخص کا گھر ٹوٹ گیا ہے۔وہ گھنٹوں یہاں آن کر بیٹھتا ہے ،اخبار پڑھتاہے ،اس سے باتیں کرتا ہے گوکہ وہ بے ہوش ہے مگر وہ باقاعدہ گفتگو کرتاہے اور اس لئے کرتاہے کہ شاید وہ اس کی آواز سن کر ہوش میں آجائے۔“
”تو کیا ان کے بیٹے ماں کے پاس نہیں آتے ؟انھیں ماں کا خیال نہیں؟“
میری بات کا جواب دیتے ہوئے میری بہن نے بتایا کہ یہ گھرانہ پاکستانی ہے‘بچے بھی ماں کا خیال کرتے ہیں مگر اتنا نہیں کہ جتنا باپ کرتاہے۔بچے یہاں پر اپنے سٹور چلارہے ہیں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اتنا وقت ہی نہیں ملتا۔“
”بچوں کو چاہئے کہ ماں کو اپنے گھر لے آئیں دونوں بیٹے باری باری ماں کو دیکھ سکتے ہیں۔“میں نے مجبور ہو کر کہہ دیا۔”رکھنے کو تو رکھ لیں‘ان کی بیویاں بھی کام کرتی ہیں گھرمیں دیکھ بھال کرنے کے لئے باقاعدہ پورا سٹاف ہونا چاہئے‘اس لئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا ضروری سمجھاہے کہ بروقت اگر ایمرجنسی پڑ جائے تو ہسپتال میں ان پر پوری دیکھ بھال ہو سکے۔اس شخص نے جائیداد بانٹ کر دونوں بیٹوں کو دے دی ہے اور اپنا جو حصہ ہے وہ پورے کا پورا اپنی اہلیہ پر لگا رہا ہے۔ایک پرائیویٹ نرس رات کے لئے اور ایک نرس دن کے لئے مقرر کی ہوئی ہے۔یہاں پر علاج معالجہ ویسے ہی اتنا مہنگا ہے مگر یہ شخص پانی کی طرح پیسہ اپنی اہلیہ پر لٹا رہا ہے کہ شاید یہ بچ جائے۔اسے خود بھی یقین نہیں ہے کہ بچ بھی جائے گی کہ نہیں مگر جب تک سانس تب تک آس والی بات ہے۔وہ امید کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور ہر وقت اپنی بیوی کی صحت یابی کی دعا کرتا رہتاہے۔“
نرسنگ ہوم سے نکل کر میں گھر کی سمت آرہی تھی تو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ اچھی بھلی بیویاں ہوتے ہوئے لوگ دوسری شادیاں رچا لیتے ہیں پھر شوہر اتنے وفادار ثابت نہیں ہوتے‘اکثر عورتیں روتی ہیں اور اپنے غموں کی داستانیں سناتی ہیں کہ ان کے شوہر کتنے ظلم ان پر ڈھاتے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے دوسری شادی رچا لیتے ہیں مگر یہ شخص ایک آزاد ملک میں رہتاہے جہاں لوگ وفاداری بہت جلد تبدیل کر لیتے ہیں لیکن وہ اپنی اہلیہ سے کیا ہوا وعدہ ایفا کررہاہے۔چاہے تو اپنی جان چھڑانے کے لئے اسی کو وینٹی لیٹر سے چھٹکارا دلا سکتاہے مگر شاید خوف خدا ہے یا بیوی کی محبت ہے کہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔مجھے تو انہونی سی بات لگی تھی۔لیکن اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں جو بے وفا بھی ہیں اور وفا شعار بھی۔اس مثال کو آنکھوں سے دیکھ کر میں حقیقتاً متاثر ہوئی اور کافی عرصہ اس شخص کی وفا شعاری میرے ذہن پر چھائی رہی جو شدید بیماری کے باوجود امید کا دامن تھامے ہوئے تھا۔$SOL
دوستآج پھر یوسف کسی دوست کے استقبال کی تیاری میں $BTC مصروف ہے اور فرط مسرت میں کچھ گنگنا رہا ہے․․․․․اچانک نازیہ کی قدرے کرخت اور ناراضگی بھری آواز نے سُر اور تال کا ماحول خراب کر دیا․․․․․․یوسف چونک اٹھتا ہے․․․․․دیکھتا ہے تو نازیہ اپنے کپڑے سمیٹ رہی ہے․․․․․وہ سوالیہ نظروں سے نازیہ کی جانب دیکھتاہے۔ ”تم کہاں جانے کی تیاری کررہی ہوں؟“ ”آپ اپنے مرتبے کو برقرار رکھیئے۔معاشرے اور دوستوں میں اپنے سٹیٹس کا خیال رکھیئے،میں نے کہاں جانا ہے؟جب آپ دودن کے لئے گھر نہیں ہوں گے تو بہتر ہے میں امی کے ہاں چلی جاؤں گی“نازیہ کے لہجے میں قدرے طنز اور ناراضگی کا ملا جلاتاثر تھا۔ یوسف اپنی صفائی میں وہی پرانا مکالمہ بولنے کو منمنایا․․․․․․․․ لیکن نازیہ سنی ان سنی کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ (جاری ہے)$BNB شاید وہ مکالمہ اب اتنا پرانا ہو چکا تھا کہ اپنی افادیت کھو چکا تھا۔دراصل دونوں کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے اور یوسف کی فطرت کچھ عجیب سی تھی وہ معاشرے اور دوستوں کے مابین اپنا مرتبہ قائم رکھنے اور اپنی تعریفیں سننے کا ایسا عادی تھا کہ ساری تنخواہ اس مقصد پر اُڑا دیتا تھا۔پانچ سالوں میں سوائے ایک دو جوڑے کپڑوں کے اس نے نازیہ کو ہمیشہ اچھی شاپنگ کے سبز باغ ہی دکھائے تھے اور وہ ابھی تک جہیز کے کپڑے جوتے اور کاسمیٹکس استعمال کررہی تھی․․․․․ہر ماہ یوسف نازیہ سے برانڈڈمصنوعات کی شاپنگ کا وعدہ کرتا مگر عین وقت پر کوئی ایسی پارٹی آجاتی کہ نازیہ کے ساتھ کیا گیا وعدہ وفانہ ہوپاتا۔آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیش آئی تھی․․․․․اُن کا پڑوسی جوڑا فیصل اور اس کی بیوی شگفتہ اُن سے کم آمدن کے باوجود خوشحال زندگی گزاررہے تھے․․․․․یوسف ہمیشہ سوچتا تھا․․․․․․ ”فیصل اور شگفتہ بھابی پتہ نہیں کیسے اپنے بجٹ کی تنظیم کرتے ہیں․․․․․․آمدن میں وہ ہم سے کم ہیں۔“فیصل کے دوست حیدر آباد سے اسلام آباد اپنے کسی کام کے سلسلے میں آئے تو انہوں نے سوچا کیونکہ فیاضی اور سخاوت کے لئے مشہور یوسف کے پاس سے ہوتے چلیں۔دو تین روز تک انہوں نے اسلام آباد قیام کیا اور فیصل کی مہینے بھر کی کمائی اخراجات میں صرف ہو گئی․․․․․ان کی منہ زبانی اپنی تعریفیں سن کر یوسف خوشی سے کھل اٹھا۔ دوستوں کے الوداع ہونے کے بعد جب وہ گھر آیا تو دروازے پر تالہ پڑا دیکھ کر چونک اُٹھا۔اس کی پڑوسن شگفتہ نے اُسے چابیوں کا گچھا تھماتے ہوئے بتایا”نازیہ اپنے امی ابو کے گھر چلی گئی ہے ․․․․․اور یہ چابیاں آپ کے لئے امانت چھوڑ گئی ہے۔“یوسف نے گھر کھولا اور اپنے بیڈ روم میں آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔ یوسف کو دل ہی دل میں نازیہ کی فرمائش پوری نہ کر سکنے کا افسوس ہونے لگا۔وہ ذہن میں مختلف ترکیبیں لڑانے لگا اچانک اسے اپنے دوستوں کا خیال آیا جن کے باعث اسے یہ دن دیکھنا پڑا اور ان کی آزمائش کا بھی آج سے زیادہ قیمتی موقع شاید کوئی نہ ہو۔ سب سے پہلے اپنے ہی شہر میں مقیم دوست راشد کا نمبر ملایا․․․․․․․جب اس نے ساری صورتحال راشد پر واضح کی تو اس نے نہایت صفائی سے ٹال دیا․․․․․”یوسف جگر !تمہیں تو پتہ ہی ہے تمہاری بھائی کو دل کی تکلیف ہے․․․․․مجھے گھر کا سارا کام خود ہی کرنا پڑتاہے ۔کبھی بھی اپنے یار سے معذرت نہ کرتا․․․․․گر مجبورنہ ہوتا۔“ اس کے بعد یوسف نے سوچا کیوں نہ کچھ دنوں کے لیے بوریت اور ذہنی تناؤ دور کرنے کے لیے حیدر آباد والے دوستوں کے ہاں چلا جاؤں․․․․․․․خیال ذہن میں آتے ہی اس نے جھٹ سے حیدر آباد میں مقیم دوست فہیم کا نمبر ملایا۔رسمی سلام دعا کے بعد جب یوسف نے اپنا مدعا بیان کیا۔تو فہیم نے لیت ولعل سے کام لیتے ہوئے بتایا”کل ہی میرے گھر ننھے منے سے مہمان کی آمد ہوئی ہے اور تمہاری بھابی ہسپتال میں ہیں۔خوشی کا موقع بھی ہے اور مصروفیت بھی زیادہ ہے۔ورنہ تو میں خود بہت مشتاق ہوں تمہاری مہمان نوازی کے لیے۔آخر تمہارے بے پناہ احسانات ہیں۔میرے اوپر بہتر ہے اس دفعہ تم وسیم کے ہاں کراچی چلے جاؤ وہ بھی ہمارا مشترکہ دوست ہے․․․․․․ہاں اگلی بار ضرور مجھے خدمت کا موقع دینا“․․․․․․․ فہیم کی اس قدر چرب زبانی سے اگلا گھر دکھانے پر یوسف کی گمشدہ عقل کافی حد تک ٹھکانے آگئی۔اسے پتہ بھی نہ چلا․․․․․․فیصل اور شگفتہ کب سے دروازے پر کھڑے اس کی ساری باتیں سن رہے تھے”اوہ سو سوری!آئیے نا !اندر آئیے آپ لوگ باہر کیوں کھڑے ہوگئے۔“ فیصل بولا”یوسف بھیا!تمہیں کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ۔ایک مہینے تک تین وقت کا کھانا تمہیں ہمارے گھر سے ملے گا․․․․․․مگر ایک وعدہ کرو یکم پر تنخواہ کے بعد ہمارے ساتھ نازیہ بھابی کو منانے جاؤ گے اور ان سے کیے گئے تمام وعدے پورے کروگے۔آئندہ کے لیے ان کے حقوق کا خیال کروگے․․․․․اور یوں چرب زبان اور نکمے دوستوں پر پیسہ بہانے کی بجائے گھر پہ توجہ دو گے․․․․․․اور جھوٹی شان اور مرتبے کے چکروں سے باہر نکل آؤ گے“ یوسف نے فیصل کی تائید میں سر ہلادیا․․․․․․جیسے کہہ رہا ہو”واقعی ہمسایہ ماں جایا ہوتاہے“ وہ گھڑی آن پہنچی جس کا سب کو انتظار تھا․․․․․یکم تاریخ آگئی یوسف کو تنخواہ مل گئی․․․․․․چھٹی کے بعد وہ اپنے ہمسایہ جوڑے کے ساتھ نازیہ کی امی کے گھر روانہ ہو!“ معمولی تکرار اور سرزنش کے بعد یوسف کی ساس ماں نے نازیہ کو اس کے ساتھ بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔دراصل شگفتہ نے فون پر نازیہ کو ساری بات بتا دی تھی۔چاروں لوگ بازار گئے یوسف نے نازیہ کو جی بھر کے شاپنگ کر ائی اور گھر آگئے۔ اگلی صبح جب فیصل اور شگفتہ یوسف کے گھر آئے تو کیا دیکھا کہ․․․․․نازیہ برتن دھو رہی ہے اور یوسف اس کی مدد کررہا ہے۔یوسف کو کامیاب زندگی کا راز پتہ چل چکا تھا کہ دنیا میں مرد کی سب سے بہترین اور وفادار دوست اس کی بیوی ہے۔اور اصل شان اور مرتبہ بیوی کے حقوق پورے کرنے کے بعد ہی ملتاہے․․․․․․“ پر سکون زندگی کے راز کو سمجھانے کے لیے اس نے اپنے پڑوسی جوڑے کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا جو ان کو شام کے کھانے کی عودت دینے آئے تھے ۔ہمارے معاشرے میں کتنے ہی ایسے یوسف ہیں جو ظاہری جاہ وحشم اور شان وشوکت پر اپنی ساری کمائی صرف کر دیتے ہیں اور ایسے رشتوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں جن کے حقوق پورے کرنا ان کافرض ہوتاہے۔$ETH

دوست

آج پھر یوسف کسی دوست کے استقبال کی تیاری میں $BTC مصروف ہے اور فرط مسرت میں کچھ گنگنا رہا ہے․․․․․اچانک نازیہ کی قدرے کرخت اور ناراضگی بھری آواز نے سُر اور تال کا ماحول خراب کر دیا․․․․․․یوسف چونک اٹھتا ہے․․․․․دیکھتا ہے تو نازیہ اپنے کپڑے سمیٹ رہی ہے․․․․․وہ سوالیہ نظروں سے نازیہ کی جانب دیکھتاہے۔

”تم کہاں جانے کی تیاری کررہی ہوں؟“
”آپ اپنے مرتبے کو برقرار رکھیئے۔معاشرے اور دوستوں میں اپنے سٹیٹس کا خیال رکھیئے،میں نے کہاں جانا ہے؟جب آپ دودن کے لئے گھر نہیں ہوں گے تو بہتر ہے میں امی کے ہاں چلی جاؤں گی“نازیہ کے لہجے میں قدرے طنز اور ناراضگی کا ملا جلاتاثر تھا۔
یوسف اپنی صفائی میں وہی پرانا مکالمہ بولنے کو منمنایا․․․․․․․․
لیکن نازیہ سنی ان سنی کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔

(جاری ہے)$BNB

شاید وہ مکالمہ اب اتنا پرانا ہو چکا تھا کہ اپنی افادیت کھو چکا تھا۔دراصل دونوں کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے اور یوسف کی فطرت کچھ عجیب سی تھی وہ معاشرے اور دوستوں کے مابین اپنا مرتبہ قائم رکھنے اور اپنی تعریفیں سننے کا ایسا عادی تھا کہ ساری تنخواہ اس مقصد پر اُڑا دیتا تھا۔پانچ سالوں میں سوائے ایک دو جوڑے کپڑوں کے اس نے نازیہ کو ہمیشہ اچھی شاپنگ کے سبز باغ ہی دکھائے تھے اور وہ ابھی تک جہیز کے کپڑے جوتے اور کاسمیٹکس استعمال کررہی تھی․․․․․ہر ماہ یوسف نازیہ سے برانڈڈمصنوعات کی شاپنگ کا وعدہ کرتا مگر عین وقت پر کوئی ایسی پارٹی آجاتی کہ نازیہ کے ساتھ کیا گیا وعدہ وفانہ ہوپاتا۔آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیش آئی تھی․․․․․اُن کا پڑوسی جوڑا فیصل اور اس کی بیوی شگفتہ اُن سے کم آمدن کے باوجود خوشحال زندگی گزاررہے تھے․․․․․یوسف ہمیشہ سوچتا تھا․․․․․․
”فیصل اور شگفتہ بھابی پتہ نہیں کیسے اپنے بجٹ کی تنظیم کرتے ہیں․․․․․․آمدن میں وہ ہم سے کم ہیں۔“فیصل کے دوست حیدر آباد سے اسلام آباد اپنے کسی کام کے سلسلے میں آئے تو انہوں نے سوچا کیونکہ فیاضی اور سخاوت کے لئے مشہور یوسف کے پاس سے ہوتے چلیں۔دو تین روز تک انہوں نے اسلام آباد قیام کیا اور فیصل کی مہینے بھر کی کمائی اخراجات میں صرف ہو گئی․․․․․ان کی منہ زبانی اپنی تعریفیں سن کر یوسف خوشی سے کھل اٹھا۔
دوستوں کے الوداع ہونے کے بعد جب وہ گھر آیا تو دروازے پر تالہ پڑا دیکھ کر چونک اُٹھا۔اس کی پڑوسن شگفتہ نے اُسے چابیوں کا گچھا تھماتے ہوئے بتایا”نازیہ اپنے امی ابو کے گھر چلی گئی ہے ․․․․․اور یہ چابیاں آپ کے لئے امانت چھوڑ گئی ہے۔“یوسف نے گھر کھولا اور اپنے بیڈ روم میں آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔
یوسف کو دل ہی دل میں نازیہ کی فرمائش پوری نہ کر سکنے کا افسوس ہونے لگا۔وہ ذہن میں مختلف ترکیبیں لڑانے لگا اچانک اسے اپنے دوستوں کا خیال آیا جن کے باعث اسے یہ دن دیکھنا پڑا اور ان کی آزمائش کا بھی آج سے زیادہ قیمتی موقع شاید کوئی نہ ہو۔
سب سے پہلے اپنے ہی شہر میں مقیم دوست راشد کا نمبر ملایا․․․․․․․جب اس نے ساری صورتحال راشد پر واضح کی تو اس نے نہایت صفائی سے ٹال دیا․․․․․”یوسف جگر !تمہیں تو پتہ ہی ہے تمہاری بھائی کو دل کی تکلیف ہے․․․․․مجھے گھر کا سارا کام خود ہی کرنا پڑتاہے ۔کبھی بھی اپنے یار سے معذرت نہ کرتا․․․․․گر مجبورنہ ہوتا۔“
اس کے بعد یوسف نے سوچا کیوں نہ کچھ دنوں کے لیے بوریت اور ذہنی تناؤ دور کرنے کے لیے حیدر آباد والے دوستوں کے ہاں چلا جاؤں․․․․․․․خیال ذہن میں آتے ہی اس نے جھٹ سے حیدر آباد میں مقیم دوست فہیم کا نمبر ملایا۔رسمی سلام دعا کے بعد جب یوسف نے اپنا مدعا بیان کیا۔تو فہیم نے لیت ولعل سے کام لیتے ہوئے بتایا”کل ہی میرے گھر ننھے منے سے مہمان کی آمد ہوئی ہے اور تمہاری بھابی ہسپتال میں ہیں۔خوشی کا موقع بھی ہے اور مصروفیت بھی زیادہ ہے۔ورنہ تو میں خود بہت مشتاق ہوں تمہاری مہمان نوازی کے لیے۔آخر تمہارے بے پناہ احسانات ہیں۔میرے اوپر بہتر ہے اس دفعہ تم وسیم کے ہاں کراچی چلے جاؤ وہ بھی ہمارا مشترکہ دوست ہے․․․․․․ہاں اگلی بار ضرور مجھے خدمت کا موقع دینا“․․․․․․․
فہیم کی اس قدر چرب زبانی سے اگلا گھر دکھانے پر یوسف کی گمشدہ عقل کافی حد تک ٹھکانے آگئی۔اسے پتہ بھی نہ چلا․․․․․․فیصل اور شگفتہ کب سے دروازے پر کھڑے اس کی ساری باتیں سن رہے تھے”اوہ سو سوری!آئیے نا !اندر آئیے آپ لوگ باہر کیوں کھڑے ہوگئے۔“
فیصل بولا”یوسف بھیا!تمہیں کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ۔ایک مہینے تک تین وقت کا کھانا تمہیں ہمارے گھر سے ملے گا․․․․․․مگر ایک وعدہ کرو یکم پر تنخواہ کے بعد ہمارے ساتھ نازیہ بھابی کو منانے جاؤ گے اور ان سے کیے گئے تمام وعدے پورے کروگے۔آئندہ کے لیے ان کے حقوق کا خیال کروگے․․․․․اور یوں چرب زبان اور نکمے دوستوں پر پیسہ بہانے کی بجائے گھر پہ توجہ دو گے․․․․․․اور جھوٹی شان اور مرتبے کے چکروں سے باہر نکل آؤ گے“
یوسف نے فیصل کی تائید میں سر ہلادیا․․․․․․جیسے کہہ رہا ہو”واقعی ہمسایہ ماں جایا ہوتاہے“
وہ گھڑی آن پہنچی جس کا سب کو انتظار تھا․․․․․یکم تاریخ آگئی یوسف کو تنخواہ مل گئی․․․․․․چھٹی کے بعد وہ اپنے ہمسایہ جوڑے کے ساتھ نازیہ کی امی کے گھر روانہ ہو!“
معمولی تکرار اور سرزنش کے بعد یوسف کی ساس ماں نے نازیہ کو اس کے ساتھ بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔دراصل شگفتہ نے فون پر نازیہ کو ساری بات بتا دی تھی۔چاروں لوگ بازار گئے یوسف نے نازیہ کو جی بھر کے شاپنگ کر ائی اور گھر آگئے۔
اگلی صبح جب فیصل اور شگفتہ یوسف کے گھر آئے تو کیا دیکھا کہ․․․․․نازیہ برتن دھو رہی ہے اور یوسف اس کی مدد کررہا ہے۔یوسف کو کامیاب زندگی کا راز پتہ چل چکا تھا کہ دنیا میں مرد کی سب سے بہترین اور وفادار دوست اس کی بیوی ہے۔اور اصل شان اور مرتبہ بیوی کے حقوق پورے کرنے کے بعد ہی ملتاہے․․․․․․“
پر سکون زندگی کے راز کو سمجھانے کے لیے اس نے اپنے پڑوسی جوڑے کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا جو ان کو شام کے کھانے کی عودت دینے آئے تھے ۔ہمارے معاشرے میں کتنے ہی ایسے یوسف ہیں جو ظاہری جاہ وحشم اور شان وشوکت پر اپنی ساری کمائی صرف کر دیتے ہیں اور ایسے رشتوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں جن کے حقوق پورے کرنا ان کافرض ہوتاہے۔$ETH
$XRP This summary is informational, not $SOL financial advice — crypto markets are extremely volatile, and prices can move rapidly. Always do your own research before trading.$BTC If you want a short BTC to PKR conversion or a simple forecast for the coming week, just let me know!#CZAMAonBinanceSquare #USPPIJump #BitcoinETFWatch
$XRP This summary is informational, not $SOL financial advice — crypto markets are extremely volatile, and prices can move rapidly. Always do your own research before trading.$BTC
If you want a short BTC to PKR conversion or a simple forecast for the coming week, just let me know!#CZAMAonBinanceSquare #USPPIJump #BitcoinETFWatch
This summary is informational, not financial advice — crypto markets are extremely volatile, and prices can move rapidly. Always do your own research before trading.$ETH If you want a short BTC to PKR conversion or a$BNB simple forecast for the coming week, just let me know!#WhenWillBTCRebound #MarketCorrection $BTC
This summary is informational, not financial advice — crypto markets are extremely volatile, and prices can move rapidly. Always do your own research before trading.$ETH
If you want a short BTC to PKR conversion or a$BNB simple forecast for the coming week, just let me know!#WhenWillBTCRebound #MarketCorrection $BTC
دامنڈیلا ویر جو امریکہ کی چھوٹی سی ریاست ہے وہاں کے $XRP نرسنگ ہوم میں ایک روز گئی تو ایک مریضہ کو بے ہوش وینٹی لیٹر پر دنیا ومافیہا سے بے نیاز پایا۔میری میزبان بہن نے بتایا کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھا ہواہے۔یہ اس کا شوہر ہے اور یہ نہایت ہی وفادار شوہر ہے۔اکثر اس کی بیوی اس کو کہتی تھی کہ میں اگر مر گئی تو تم دوسری شادی کرلو گے مگر اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ دوسری شادی نہیں کرے گا۔”مگر اس کی بیوی کو ہوا کیا ہے؟۔“مجھے ایک دم سے اس خاتون کو دیکھ کر ترس آیا اور اپنی میزبان خاتون سے سوال کر بیٹھی۔ ”یہ شوگر کی مریضہ تھی اور ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر بھی رہتا تھا۔سٹروک ہوا تو دماغی توازن کے ساتھ ساتھ ٹانگوں سے معذور بھی ہو گئی تھی۔ (جاری ہے)$BTC ڈاکٹروں نے کافی عرصے سے جواب دے دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ یہ خاتون وینٹی لیٹر سے آزاد ہو جائے۔ (وینٹی لیٹر مصنوعی طور پر سانس اور دل کی حرکت چلتی ہے) مگر اس کا شوہر یہی چاہتا ہے کہ یہ زندہ رہے۔وہ امید پر قائم ہے کہ شاید کسی نہ کسی دن وہ دماغی طور پر صحیح ہو جائے گی۔اس کے دل کی حرکت خود بخود چلنے لگے گی اور وہ اپنے قدموں سے چل پھر سکے گی۔یہاں کے ڈاکٹروں نے بے شک جواب دے دیاہے مگر وہ اس چیز کو نہیں مانتا۔اس کے دو جوان بیٹے اسی شہر میں اپنے اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں مگر اس شخص کا گھر ٹوٹ گیا ہے۔وہ گھنٹوں یہاں آن کر بیٹھتا ہے ،اخبار پڑھتاہے ،اس سے باتیں کرتا ہے گوکہ وہ بے ہوش ہے مگر وہ باقاعدہ گفتگو کرتاہے اور اس لئے کرتاہے کہ شاید وہ اس کی آواز سن کر ہوش میں آجائے۔“ ”تو کیا ان کے بیٹے ماں کے پاس نہیں آتے ؟انھیں ماں کا خیال نہیں؟“ میری بات کا جواب دیتے ہوئے میری بہن نے بتایا کہ یہ گھرانہ پاکستانی ہے‘بچے بھی ماں کا خیال کرتے ہیں مگر اتنا نہیں کہ جتنا باپ کرتاہے۔بچے یہاں پر اپنے سٹور چلارہے ہیں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اتنا وقت ہی نہیں ملتا۔“ ”بچوں کو چاہئے کہ ماں کو اپنے گھر لے آئیں دونوں بیٹے باری باری ماں کو دیکھ سکتے ہیں۔“میں نے مجبور ہو کر کہہ دیا۔”رکھنے کو تو رکھ لیں‘ان کی بیویاں بھی کام کرتی ہیں گھرمیں دیکھ بھال کرنے کے لئے باقاعدہ پورا سٹاف ہونا چاہئے‘اس لئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا ضروری سمجھاہے کہ بروقت اگر ایمرجنسی پڑ جائے تو ہسپتال میں ان پر پوری دیکھ بھال ہو سکے۔اس شخص نے جائیداد بانٹ کر دونوں بیٹوں کو دے دی ہے اور اپنا جو حصہ ہے وہ پورے کا پورا اپنی اہلیہ پر لگا رہا ہے۔ایک پرائیویٹ نرس رات کے لئے اور ایک نرس دن کے لئے مقرر کی ہوئی ہے۔یہاں پر علاج معالجہ ویسے ہی اتنا مہنگا ہے مگر یہ شخص پانی کی طرح پیسہ اپنی اہلیہ پر لٹا رہا ہے کہ شاید یہ بچ جائے۔اسے خود بھی یقین نہیں ہے کہ بچ بھی جائے گی کہ نہیں مگر جب تک سانس تب تک آس والی بات ہے۔وہ امید کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور ہر وقت اپنی بیوی کی صحت یابی کی دعا کرتا رہتاہے۔“ نرسنگ ہوم سے نکل کر میں گھر کی سمت آرہی تھی تو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ اچھی بھلی بیویاں ہوتے ہوئے لوگ دوسری شادیاں رچا لیتے ہیں پھر شوہر اتنے وفادار ثابت نہیں ہوتے‘اکثر عورتیں روتی ہیں اور اپنے غموں کی داستانیں سناتی ہیں کہ ان کے شوہر کتنے ظلم ان پر ڈھاتے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے دوسری شادی رچا لیتے ہیں مگر یہ شخص ایک آزاد ملک میں رہتاہے جہاں لوگ وفاداری بہت جلد تبدیل کر لیتے ہیں لیکن وہ اپنی اہلیہ سے کیا ہوا وعدہ ایفا کررہاہے۔چاہے تو اپنی جان چھڑانے کے لئے اسی کو وینٹی لیٹر سے چھٹکارا دلا سکتاہے مگر شاید خوف خدا ہے یا بیوی کی محبت ہے کہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔مجھے تو انہونی سی بات لگی تھی۔لیکن اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں جو بے وفا بھی ہیں اور وفا شعار بھی۔اس مثال کو آنکھوں سے دیکھ کر میں حقیقتاً متاثر ہوئی اور کافی عرصہ اس شخص کی وفا شعاری میرے ذہن پر چھائی رہی جو شدید بیماری کے باوجود امید کا دامن تھامے ہوئے تھا۔$SOL

دامن

ڈیلا ویر جو امریکہ کی چھوٹی سی ریاست ہے وہاں کے $XRP نرسنگ ہوم میں ایک روز گئی تو ایک مریضہ کو بے ہوش وینٹی لیٹر پر دنیا ومافیہا سے بے نیاز پایا۔میری میزبان بہن نے بتایا کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھا ہواہے۔یہ اس کا شوہر ہے اور یہ نہایت ہی وفادار شوہر ہے۔اکثر اس کی بیوی اس کو کہتی تھی کہ میں اگر مر گئی تو تم دوسری شادی کرلو گے مگر اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ دوسری شادی نہیں کرے گا۔”مگر اس کی بیوی کو ہوا کیا ہے؟۔“مجھے ایک دم سے اس خاتون کو دیکھ کر ترس آیا اور اپنی میزبان خاتون سے سوال کر بیٹھی۔
”یہ شوگر کی مریضہ تھی اور ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر بھی رہتا تھا۔سٹروک ہوا تو دماغی توازن کے ساتھ ساتھ ٹانگوں سے معذور بھی ہو گئی تھی۔

(جاری ہے)$BTC
ڈاکٹروں نے کافی عرصے سے جواب دے دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ یہ خاتون وینٹی لیٹر سے آزاد ہو جائے۔
(وینٹی لیٹر مصنوعی طور پر سانس اور دل کی حرکت چلتی ہے) مگر اس کا شوہر یہی چاہتا ہے کہ یہ زندہ رہے۔وہ امید پر قائم ہے کہ شاید کسی نہ کسی دن وہ دماغی طور پر صحیح ہو جائے گی۔اس کے دل کی حرکت خود بخود چلنے لگے گی اور وہ اپنے قدموں سے چل پھر سکے گی۔یہاں کے ڈاکٹروں نے بے شک جواب دے دیاہے مگر وہ اس چیز کو نہیں مانتا۔اس کے دو جوان بیٹے اسی شہر میں اپنے اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں مگر اس شخص کا گھر ٹوٹ گیا ہے۔وہ گھنٹوں یہاں آن کر بیٹھتا ہے ،اخبار پڑھتاہے ،اس سے باتیں کرتا ہے گوکہ وہ بے ہوش ہے مگر وہ باقاعدہ گفتگو کرتاہے اور اس لئے کرتاہے کہ شاید وہ اس کی آواز سن کر ہوش میں آجائے۔“
”تو کیا ان کے بیٹے ماں کے پاس نہیں آتے ؟انھیں ماں کا خیال نہیں؟“
میری بات کا جواب دیتے ہوئے میری بہن نے بتایا کہ یہ گھرانہ پاکستانی ہے‘بچے بھی ماں کا خیال کرتے ہیں مگر اتنا نہیں کہ جتنا باپ کرتاہے۔بچے یہاں پر اپنے سٹور چلارہے ہیں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اتنا وقت ہی نہیں ملتا۔“
”بچوں کو چاہئے کہ ماں کو اپنے گھر لے آئیں دونوں بیٹے باری باری ماں کو دیکھ سکتے ہیں۔“میں نے مجبور ہو کر کہہ دیا۔”رکھنے کو تو رکھ لیں‘ان کی بیویاں بھی کام کرتی ہیں گھرمیں دیکھ بھال کرنے کے لئے باقاعدہ پورا سٹاف ہونا چاہئے‘اس لئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا ضروری سمجھاہے کہ بروقت اگر ایمرجنسی پڑ جائے تو ہسپتال میں ان پر پوری دیکھ بھال ہو سکے۔اس شخص نے جائیداد بانٹ کر دونوں بیٹوں کو دے دی ہے اور اپنا جو حصہ ہے وہ پورے کا پورا اپنی اہلیہ پر لگا رہا ہے۔ایک پرائیویٹ نرس رات کے لئے اور ایک نرس دن کے لئے مقرر کی ہوئی ہے۔یہاں پر علاج معالجہ ویسے ہی اتنا مہنگا ہے مگر یہ شخص پانی کی طرح پیسہ اپنی اہلیہ پر لٹا رہا ہے کہ شاید یہ بچ جائے۔اسے خود بھی یقین نہیں ہے کہ بچ بھی جائے گی کہ نہیں مگر جب تک سانس تب تک آس والی بات ہے۔وہ امید کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور ہر وقت اپنی بیوی کی صحت یابی کی دعا کرتا رہتاہے۔“
نرسنگ ہوم سے نکل کر میں گھر کی سمت آرہی تھی تو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ اچھی بھلی بیویاں ہوتے ہوئے لوگ دوسری شادیاں رچا لیتے ہیں پھر شوہر اتنے وفادار ثابت نہیں ہوتے‘اکثر عورتیں روتی ہیں اور اپنے غموں کی داستانیں سناتی ہیں کہ ان کے شوہر کتنے ظلم ان پر ڈھاتے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے دوسری شادی رچا لیتے ہیں مگر یہ شخص ایک آزاد ملک میں رہتاہے جہاں لوگ وفاداری بہت جلد تبدیل کر لیتے ہیں لیکن وہ اپنی اہلیہ سے کیا ہوا وعدہ ایفا کررہاہے۔چاہے تو اپنی جان چھڑانے کے لئے اسی کو وینٹی لیٹر سے چھٹکارا دلا سکتاہے مگر شاید خوف خدا ہے یا بیوی کی محبت ہے کہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔مجھے تو انہونی سی بات لگی تھی۔لیکن اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں جو بے وفا بھی ہیں اور وفا شعار بھی۔اس مثال کو آنکھوں سے دیکھ کر میں حقیقتاً متاثر ہوئی اور کافی عرصہ اس شخص کی وفا شعاری میرے ذہن پر چھائی رہی جو شدید بیماری کے باوجود امید کا دامن تھامے ہوئے تھا۔$SOL
مینڈکایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ بڑی سخت گرمی پڑی اور برسات $BTC کا موسم بھی صاف نکل گیا۔تالاب اور جھیلیں خشک ہونے لگیں۔جھیلوں میں مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مرنے لگیں۔بگلوں نے اب دریا کا رخ کیا جہاں بے شمار مچھلیاں رہتی تھیں۔ایک بگلے نے ایک موٹی تازی مچھلی پکڑی اور چونچ میں دبا کر لے اڑاکہ کسی درخت پر بیٹھ کر مزے سے کھاؤں گا،مگر مچھلی بھی طاقتور تھی ،زور سے پھڑ پھڑائی اور یوں بگلے کی چونچ سے آزاد ہو کر نیچے گری۔اتفاق سے بگلا اس وقت ایک کنویں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔مچھلی آزاد ہو کر گری تو کنویں میں آن پڑی۔ اس کنویں کے اندر کئی چھوٹے بڑے مینڈک بہت دنوں سے رہتے تھے۔مچھلی کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔انہوں نے ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی تھی۔ (جاری ہے)$BNB ایک بڑا سا مینڈک ہمت کرکے آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”تم کون ہو؟کہاں سے آئی ہو؟“ مچھلی نے اسے بتایا،”میں پانی کی مخلوق ہوں۔ مجھے مچھلی کہتے ہیں۔میں دریا میں رہتی تھی اور دریا ہی میرا گھر ہے۔“ مینڈک نے حیرانی سے پوچھا”دریا کیا ہوتا ہے؟“ مچھلی نے بتایا،”دریا بہت لمبا چوڑا ہوتا ہے۔اس میں گہرا پانی ہوتا ہے جو بہتا رہتا ہے ۔بہت لمبا چوڑا۔جب پانی بہتا ہے تو لہریں اٹھتی ہیں اور ہمیں جھولا جھلاتی ہیں۔“ مینڈک اچھل کر کنویں کے ایک کنارے پر پہنچا اور وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھا،”کیا دریا اتنا چوڑا ہوتا ہے؟“ مچھلی نے کہا،”نہیں بھائی مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں۔دریا تو کہیں زیادہ چوڑا ہوتاہے۔“ مینڈک پھر اچھلا اور اچھل کر کنویں کے دوسرے کنارے پر گیا۔پھر وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”دریا کیا اتنا لمبا ہوتاہے؟“ مچھلی کو ہنسی آگئی اور وہ کہنے لگی،”نہیں نہیں میاں مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔دریا تو میلوں لمبا ہوتا ہے۔“ مینڈک بڑی بڑی آنکھیں نکال کر مچھلی کو دیکھنے لگا اور بولا،”تم ضرور مجھ سے مذاق کر رہی ہو۔بھلا کوئی دریا ہمارے کنویں سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔تم یا تو میرا مذاق اڑا رہی ہو یا تم نے ضرور کوئی خواب دیکھا ہے۔بھلا سوچنے کی بات ہے کہاں یہ لمبا چوڑا کنواں اور کہاں تمہارا دریا!“ مچھلی بے چاری کیا جواب دیتی۔خاموش ہو گئی اور آہستہ سے مینڈک سے کہنے لگی،”بھائی مینڈک!بات دراصل یہ ہے کہ جب تک تم نے کنویں سے نکل کر باہر کی دنیا نہیں دیکھو گے،تمہیں کسی بات کا یقین نہیں آئے گا۔دنیا دیکھنی ہے اور نئی نئی چیزیں دیکھنی ہیں تو کنویں سے نکلو،مگر مشکل یہ ہے کہ تمہارا کنواں سچ مچ بہت گہرا ہے۔میں سوچتی ہوں کہ بگلے کی چونچ سے تو نکل آئی،مگر اس کنویں سے کس طرح نکلوں گی۔“ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کچھ بچے پانی کی تلاش میں اس طرف آنکلے۔ان کے ہاتھ میں ڈول اور لمبی سی رسی تھی۔ایک لڑکے نے ڈول کو رسی سے باندھ کر کنویں میں ڈالا۔ڈول میں پانی کے ساتھ مچھلی اور مینڈک بھی آگئے۔ ایک لڑکا خوشی سے چلا اٹھا،”دوستو!ڈول تو ہم نے پانی نکالنے کے لئے ڈالا تھا۔یہ مچھلی اور مینڈک کہاں سے آگئے۔“ دوسرا لڑکا بولا،”یہ بے چاری مچھلی اس کنویں میں کہاں سے آگئی۔چلو اسے دریا میں چھوڑ آئیں۔ہمیں تو پانی چاہیے۔“ بڑے رحمدل بچے تھے کہ انہیں مچھلی کے حال پر ترس آگیا۔دوڑتے ہوئے دریا پر گئے اور مچھلی اور مینڈک کو دریا میں چھوڑ آئے۔اگر دریا کا پانی بھی کنویں کے پانی کی طرح شفاف ہوتا تو دریا میں سے پانی لے جایا کرتے۔ مینڈک نے جب دریا دیکھا تو حیران رہ گیا۔اب اسے مچھلی کی باتوں پر یقین آنے لگا اور سوچنے لگا کہ اب میں واپس کنویں میں جاکر دوسرے مینڈکوں کو بتاؤں گا کہ مچھلی جو کچھ کہہ رہی تھی وہ سچ تھا۔میں وہ سب دیکھ کر آرہا ہوں!$ETH

مینڈک

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ بڑی سخت گرمی پڑی اور برسات $BTC کا موسم بھی صاف نکل گیا۔تالاب اور جھیلیں خشک ہونے لگیں۔جھیلوں میں مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مرنے لگیں۔بگلوں نے اب دریا کا رخ کیا جہاں بے شمار مچھلیاں رہتی تھیں۔ایک بگلے نے ایک موٹی تازی مچھلی پکڑی اور چونچ میں دبا کر لے اڑاکہ کسی درخت پر بیٹھ کر مزے سے کھاؤں گا،مگر مچھلی بھی طاقتور تھی ،زور سے پھڑ پھڑائی اور یوں بگلے کی چونچ سے آزاد ہو کر نیچے گری۔اتفاق سے بگلا اس وقت ایک کنویں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔مچھلی آزاد ہو کر گری تو کنویں میں آن پڑی۔
اس کنویں کے اندر کئی چھوٹے بڑے مینڈک بہت دنوں سے رہتے تھے۔مچھلی کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔انہوں نے ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی تھی۔

(جاری ہے)$BNB
ایک بڑا سا مینڈک ہمت کرکے آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”تم کون ہو؟کہاں سے آئی ہو؟“
مچھلی نے اسے بتایا،”میں پانی کی مخلوق ہوں۔
مجھے مچھلی کہتے ہیں۔میں دریا میں رہتی تھی اور دریا ہی میرا گھر ہے۔“
مینڈک نے حیرانی سے پوچھا”دریا کیا ہوتا ہے؟“
مچھلی نے بتایا،”دریا بہت لمبا چوڑا ہوتا ہے۔اس میں گہرا پانی ہوتا ہے جو بہتا رہتا ہے ۔بہت لمبا چوڑا۔جب پانی بہتا ہے تو لہریں اٹھتی ہیں اور ہمیں جھولا جھلاتی ہیں۔“
مینڈک اچھل کر کنویں کے ایک کنارے پر پہنچا اور وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھا،”کیا دریا اتنا چوڑا ہوتا ہے؟“
مچھلی نے کہا،”نہیں بھائی مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں۔دریا تو کہیں زیادہ چوڑا ہوتاہے۔“
مینڈک پھر اچھلا اور اچھل کر کنویں کے دوسرے کنارے پر گیا۔پھر وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”دریا کیا اتنا لمبا ہوتاہے؟“
مچھلی کو ہنسی آگئی اور وہ کہنے لگی،”نہیں نہیں میاں مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔دریا تو میلوں لمبا ہوتا ہے۔“
مینڈک بڑی بڑی آنکھیں نکال کر مچھلی کو دیکھنے لگا اور بولا،”تم ضرور مجھ سے مذاق کر رہی ہو۔بھلا کوئی دریا ہمارے کنویں سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔تم یا تو میرا مذاق اڑا رہی ہو یا تم نے ضرور کوئی خواب دیکھا ہے۔بھلا سوچنے کی بات ہے کہاں یہ لمبا چوڑا کنواں اور کہاں تمہارا دریا!“
مچھلی بے چاری کیا جواب دیتی۔خاموش ہو گئی اور آہستہ سے مینڈک سے کہنے لگی،”بھائی مینڈک!بات دراصل یہ ہے کہ جب تک تم نے کنویں سے نکل کر باہر کی دنیا نہیں دیکھو گے،تمہیں کسی بات کا یقین نہیں آئے گا۔دنیا دیکھنی ہے اور نئی نئی چیزیں دیکھنی ہیں تو کنویں سے نکلو،مگر مشکل یہ ہے کہ تمہارا کنواں سچ مچ بہت گہرا ہے۔میں سوچتی ہوں کہ بگلے کی چونچ سے تو نکل آئی،مگر اس کنویں سے کس طرح نکلوں گی۔“
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کچھ بچے پانی کی تلاش میں اس طرف آنکلے۔ان کے ہاتھ میں ڈول اور لمبی سی رسی تھی۔ایک لڑکے نے ڈول کو رسی سے باندھ کر کنویں میں ڈالا۔ڈول میں پانی کے ساتھ مچھلی اور مینڈک بھی آگئے۔
ایک لڑکا خوشی سے چلا اٹھا،”دوستو!ڈول تو ہم نے پانی نکالنے کے لئے ڈالا تھا۔یہ مچھلی اور مینڈک کہاں سے آگئے۔“
دوسرا لڑکا بولا،”یہ بے چاری مچھلی اس کنویں میں کہاں سے آگئی۔چلو اسے دریا میں چھوڑ آئیں۔ہمیں تو پانی چاہیے۔“
بڑے رحمدل بچے تھے کہ انہیں مچھلی کے حال پر ترس آگیا۔دوڑتے ہوئے دریا پر گئے اور مچھلی اور مینڈک کو دریا میں چھوڑ آئے۔اگر دریا کا پانی بھی کنویں کے پانی کی طرح شفاف ہوتا تو دریا میں سے پانی لے جایا کرتے۔
مینڈک نے جب دریا دیکھا تو حیران رہ گیا۔اب اسے مچھلی کی باتوں پر یقین آنے لگا اور سوچنے لگا کہ اب میں واپس کنویں میں جاکر دوسرے مینڈکوں کو بتاؤں گا کہ مچھلی جو کچھ کہہ رہی تھی وہ سچ تھا۔میں وہ سب دیکھ کر آرہا ہوں!$ETH
BTC Price Right Now: roughly $BNB $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).* 📉 Short-Term Price Action & Market Mood 🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally: BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. � MarketWatch$ETH This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#CZAMAonBinanceSquare #USPPIJump #BitcoinETFWatch #USGovShutdown $BTC
BTC Price Right Now: roughly $BNB $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).*
📉 Short-Term Price Action & Market Mood
🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally:
BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. �
MarketWatch$ETH
This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#CZAMAonBinanceSquare #USPPIJump #BitcoinETFWatch #USGovShutdown $BTC
BTC Price Right Now: roughly $BTC $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).* 📉 Short-Term Price Action & Market Mood 🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally: BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. � MarketWatch$SOL This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#MarketCorrection #WhoIsNextFedChair #USGovShutdown #BitcoinETFWatch $BNB
BTC Price Right Now: roughly $BTC $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).*
📉 Short-Term Price Action & Market Mood
🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally:
BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. �
MarketWatch$SOL
This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#MarketCorrection #WhoIsNextFedChair #USGovShutdown #BitcoinETFWatch $BNB
BTC Price Right Now: roughly $ETH $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).* 📉 Short-Term Price Action & Market Mood 🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally: BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. � MarketWatch$BNB This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#FedHoldsRates #ZAMAPreTGESale #USIranStandoff #PreciousMetalsTurbulence $BTC
BTC Price Right Now: roughly $ETH $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).*
📉 Short-Term Price Action & Market Mood
🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally:
BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. �
MarketWatch$BNB
This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#FedHoldsRates #ZAMAPreTGESale #USIranStandoff #PreciousMetalsTurbulence $BTC
عافیہ”کیا․․․․․!“عافیہ نے جونہی اپنا بستہ کھولا اور اس میں $XRP سے 500 روپے کا نوٹ غائب پایا تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکل پڑا:”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“اس نے اپنے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے خود کلامی کی اور پھر اپنے بستے میں سے تمام کتابیں باہر نکال کر اپنے بستے کا اچھی طرح معائنہ کرنے لگی۔ عافیہ کے اسکول والے ٹھیک دو ہفتے بعد تمام طلبہ کو تعلیمی دورے کے لئے ایک تاریخی مقام پر لے جا رہے تھے۔اسی لئے عافیہ نے اپنے ابو سے 500 روپے لئے تھے۔آج پیسے جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی۔اس نے اپنے بستے سے تمام چیزیں نکال کر باہر پھینک دی تھیں،مگر پیسوں کا تو کہیں نام و نشان ہی نہیں تھا۔ اچانک اس کی نظر زینب پر پڑی۔ (جاری ہے)$BTC اس کے ہاتھ میں 500 روپے کا نوٹ دیکھ کر وہ چونک اُٹھی۔ زینب ایک غریب لڑکی تھی۔اس لئے وہ فیس جمع نہ کرانے کی وجہ سے اسکول کے کسی پروگرام میں نہ جا پاتی تھی۔ عافیہ نے سوچا کہ آخر زینب کے پاس 500 روپے کہاں سے آئے۔یقینا زینب نے اس کے بستے میں سے پیسے چرائے ہوں گے۔عافیہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔اس نے اچانک زینب کی گردن پکڑ کر زور سے ہلا دی۔زینب کی آنکھیں حیرت اور خوف کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں:”یہ․․․․․یہ․․․․․یہ کیا کر رہی ہو؟“اس نے گھبراتے ہوئے بولا۔ ”میں؟میں تو وہی کر رہی ہوں جو مجھے کرنا چاہیے۔میرے بستے سے پیسے چوری کرتے ہوئے تمھیں ذرا شرم نہیں آئی؟“ ”تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟میں بھلا کیوں تمھارے پیسے چوری کرنے لگی؟کیا تم کو میں اتنی گئی گزری لگتی ہوں؟“زینب،عافیہ کا ہاتھ اپنی گردن سے چھڑاتے ہوئے بلند اور سخت لہجے میں بولی۔ ”ٹھیک ہے!میں جا رہی ہوں مس حرا کے پاس۔تمھیں تمھارے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔“یہ کہتے ہوئے عافیہ اسٹاف روم کی طرف جانے لگی۔غصے میں اس نے اپنا ہاتھ اپنی جیب میں ڈالا تو اسے کاغذ جیسا کچھ محسوس ہوا۔جیسے ہی اس نے وہ کاغذ اپنی جیب سے نکالا تو وہ ہکا بکا رہ گئی۔وہ پانچ سو کا نوٹ تھا۔اسے اسی وقت یاد آیا کہ صبح اسکول سے نکلتے ہوئے اس نے وہ پیسے اپنے بستے سے نکال کر اپنی جیب میں ڈال لئے تھے۔شرمندگی اور ندامت کے مارے عافیہ کا سر شرم سے جھک گیا۔اس کی ذرا سی غلط فہمی نے اس کی غریب سہیلی کا دل توڑ دیا تھا اور اب شاید اس ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لئے معافی کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہ تھا$SOL

عافیہ

”کیا․․․․․!“عافیہ نے جونہی اپنا بستہ کھولا اور اس میں $XRP سے 500 روپے کا نوٹ غائب پایا تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکل پڑا:”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“اس نے اپنے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے خود کلامی کی اور پھر اپنے بستے میں سے تمام کتابیں باہر نکال کر اپنے بستے کا اچھی طرح معائنہ کرنے لگی۔
عافیہ کے اسکول والے ٹھیک دو ہفتے بعد تمام طلبہ کو تعلیمی دورے کے لئے ایک تاریخی مقام پر لے جا رہے تھے۔اسی لئے عافیہ نے اپنے ابو سے 500 روپے لئے تھے۔آج پیسے جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی۔اس نے اپنے بستے سے تمام چیزیں نکال کر باہر پھینک دی تھیں،مگر پیسوں کا تو کہیں نام و نشان ہی نہیں تھا۔
اچانک اس کی نظر زینب پر پڑی۔

(جاری ہے)$BTC
اس کے ہاتھ میں 500 روپے کا نوٹ دیکھ کر وہ چونک اُٹھی۔
زینب ایک غریب لڑکی تھی۔اس لئے وہ فیس جمع نہ کرانے کی وجہ سے اسکول کے کسی پروگرام میں نہ جا پاتی تھی۔
عافیہ نے سوچا کہ آخر زینب کے پاس 500 روپے کہاں سے آئے۔یقینا زینب نے اس کے بستے میں سے پیسے چرائے ہوں گے۔عافیہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔اس نے اچانک زینب کی گردن پکڑ کر زور سے ہلا دی۔زینب کی آنکھیں حیرت اور خوف کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں:”یہ․․․․․یہ․․․․․یہ کیا کر رہی ہو؟“اس نے گھبراتے ہوئے بولا۔
”میں؟میں تو وہی کر رہی ہوں جو مجھے کرنا چاہیے۔میرے بستے سے پیسے چوری کرتے ہوئے تمھیں ذرا شرم نہیں آئی؟“
”تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟میں بھلا کیوں تمھارے پیسے چوری کرنے لگی؟کیا تم کو میں اتنی گئی گزری لگتی ہوں؟“زینب،عافیہ کا ہاتھ اپنی گردن سے چھڑاتے ہوئے بلند اور سخت لہجے میں بولی۔
”ٹھیک ہے!میں جا رہی ہوں مس حرا کے پاس۔تمھیں تمھارے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔“یہ کہتے ہوئے عافیہ اسٹاف روم کی طرف جانے لگی۔غصے میں اس نے اپنا ہاتھ اپنی جیب میں ڈالا تو اسے کاغذ جیسا کچھ محسوس ہوا۔جیسے ہی اس نے وہ کاغذ اپنی جیب سے نکالا تو وہ ہکا بکا رہ گئی۔وہ پانچ سو کا نوٹ تھا۔اسے اسی وقت یاد آیا کہ صبح اسکول سے نکلتے ہوئے اس نے وہ پیسے اپنے بستے سے نکال کر اپنی جیب میں ڈال لئے تھے۔شرمندگی اور ندامت کے مارے عافیہ کا سر شرم سے جھک گیا۔اس کی ذرا سی غلط فہمی نے اس کی غریب سہیلی کا دل توڑ دیا تھا اور اب شاید اس ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لئے معافی کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہ تھا$SOL
بیل طوطابیل کو کھونٹے پر بندھا ہوا دیکھ کر طوطا طنز سے $BTC ہنسا”بھائی تمہارے تو کیا ٹھاٹھ ہیں۔دن بھر ہل کھینچنا پڑتا ہے۔کسان کے ڈنڈے بھی کھانے پڑتے ہیں،تب جا کر تمہیں چارہ ملتا ہے۔دن کی چلچلاتی دھوپ بھی تمہیں اپنی پیٹھ پر جھیلنی پڑتی ہے۔“ بیل چارہ کھاتے کھاتے رُکا اور بولا”تمہاری طرح دن بھر چار دانوں کے لئے میلوں میل مارا ماری تو نہیں کرنی پڑتی۔گھر لوٹنے پر اتنا تو طے رہتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لئے پورا چارہ مل جائے گا۔اور پھر جو چارہ کھلائے گا،وہ کام تو لے گا ہی۔بنا محنت کے بنا کام کئے کھانا بھی تو ٹھیک بات نہیں ہے۔تم کوئی کام نہیں کرتے۔چپکے سے کسی کے مکئی کے کھیت میں گھس جاتے ہو۔کسی کے باغ میں چوری چھپے جا کر پھل کترنے لگتے ہو۔“ ”اس طرح کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ (جاری ہے) طرح طرح کے اچھے پھل کھانے کو مل جاتے ہیں۔ اچھے پھل ڈھونڈنے کے لئے بھی تو محنت کرنی پڑتی ہے۔ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے،اس کا تو مزہ ہی کچھ الگ ہے۔ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔اپنی مرضی کا کھا بھی نہیں سکتے۔تمہارے مالک جو چنے کی اچھی دال کھاتے ہیں،ہم اُن کے آنگن میں جا کر کچھ دانے اس میں سے کھا لیتے ہیں۔تمہارے آنگن کے آم کے پیڑ پر ہر سال مزیدار آم لگتے ہیں۔تم نے کبھی چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ہمیں دیکھو!پکے ہوئے آموں کا مزہ ہم سب سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔تمہارے مالک کسان سے بھی پہلے“ طوطے نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔ بیل کہاں چپ رہنے والا تھا۔وہ اپنے تھوتھن کو ہلا کر بولا”میرا مالک کسان میری حفاظت کرتا ہے،ٹھنڈ اور بارش میں مجھے الگ کوٹھری میں باندھ دیتا ہے۔تمہیں تو باہر کھلے درختوں پر ٹھنڈ،بارش اور اولوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔“ ”ارے بھائی!ہم بھی کسی مکان کے کونے میں جا کر دبک جاتے ہیں۔ہمارا بھی وقت کٹ جاتا ہے۔اچھا بُرا وقت تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔اب ہماری زندگی کو بھی دیکھو آزادی کے فائدے تو ہیں لیکن کبھی ہمیں شکاری مار گراتے ہیں،کبھی کوئی چڑی مار پکڑ کر پنجرے میں بند کر لیتے ہیں۔آسمان میں اُڑتے ہوئے بھی باز عقاب جھپٹا مار کر ہم پر حملہ کر دیتے ہیں۔آزادی ملی ہے تو اس کی کچھ قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔مزہ اور آزادی کوئی مفت میں تھوڑے ہی ملتے ہیں؟“$BNB طوطے نے اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے کہا”ویسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے“ ”تم صحیح کہتے ہو“بیل نے سر ہلا کر کہا”مگر میری زندگی صرف میرے لئے نہیں ہے۔میں جس فصل کو اُگانے میں مدد کرتا ہوں،اس سے پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔میرا مالک مجھے چارہ کھلانے کے بعد ہی کھانا کھاتا ہے۔وہ صبح اُٹھ کر مجھے پہلے چارہ کھلاتا ہے،تب خود کچھ کھاتا ہے۔میری زندگی تمہاری طرح آزاد بھلے ہی نہ ہو،مگر ایک دم بے معنی بھی نہیں ہے۔“طوطے کو بیل کی بات صحیح لگی۔وہ بولا،”ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔قدرت نے ہماری زندگی کو جیسا بنایا ہے،ہمیں ویسے ہی جینا ہے۔اچھا چلتا ہوں“یہ کہہ کر طوطا پھُر سے اُڑ گیا۔بیل دیر تک سر اُٹھائے دیکھتا رہ گیا$

بیل طوطا

بیل کو کھونٹے پر بندھا ہوا دیکھ کر طوطا طنز سے $BTC ہنسا”بھائی تمہارے تو کیا ٹھاٹھ ہیں۔دن بھر ہل کھینچنا پڑتا ہے۔کسان کے ڈنڈے بھی کھانے پڑتے ہیں،تب جا کر تمہیں چارہ ملتا ہے۔دن کی چلچلاتی دھوپ بھی تمہیں اپنی پیٹھ پر جھیلنی پڑتی ہے۔“
بیل چارہ کھاتے کھاتے رُکا اور بولا”تمہاری طرح دن بھر چار دانوں کے لئے میلوں میل مارا ماری تو نہیں کرنی پڑتی۔گھر لوٹنے پر اتنا تو طے رہتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لئے پورا چارہ مل جائے گا۔اور پھر جو چارہ کھلائے گا،وہ کام تو لے گا ہی۔بنا محنت کے بنا کام کئے کھانا بھی تو ٹھیک بات نہیں ہے۔تم کوئی کام نہیں کرتے۔چپکے سے کسی کے مکئی کے کھیت میں گھس جاتے ہو۔کسی کے باغ میں چوری چھپے جا کر پھل کترنے لگتے ہو۔“
”اس طرح کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔

(جاری ہے)
طرح طرح کے اچھے پھل کھانے کو مل جاتے ہیں۔
اچھے پھل ڈھونڈنے کے لئے بھی تو محنت کرنی پڑتی ہے۔ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے،اس کا تو مزہ ہی کچھ الگ ہے۔ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔اپنی مرضی کا کھا بھی نہیں سکتے۔تمہارے مالک جو چنے کی اچھی دال کھاتے ہیں،ہم اُن کے آنگن میں جا کر کچھ دانے اس میں سے کھا لیتے ہیں۔تمہارے آنگن کے آم کے پیڑ پر ہر سال مزیدار آم لگتے ہیں۔تم نے کبھی چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ہمیں دیکھو!پکے ہوئے آموں کا مزہ ہم سب سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔تمہارے مالک کسان سے بھی پہلے“ طوطے نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔
بیل کہاں چپ رہنے والا تھا۔وہ اپنے تھوتھن کو ہلا کر بولا”میرا مالک کسان میری حفاظت کرتا ہے،ٹھنڈ اور بارش میں مجھے الگ کوٹھری میں باندھ دیتا ہے۔تمہیں تو باہر کھلے درختوں پر ٹھنڈ،بارش اور اولوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔“
”ارے بھائی!ہم بھی کسی مکان کے کونے میں جا کر دبک جاتے ہیں۔ہمارا بھی وقت کٹ جاتا ہے۔اچھا بُرا وقت تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔اب ہماری زندگی کو بھی دیکھو آزادی کے فائدے تو ہیں لیکن کبھی ہمیں شکاری مار گراتے ہیں،کبھی کوئی چڑی مار پکڑ کر پنجرے میں بند کر لیتے ہیں۔آسمان میں اُڑتے ہوئے بھی باز عقاب جھپٹا مار کر ہم پر حملہ کر دیتے ہیں۔آزادی ملی ہے تو اس کی کچھ قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔مزہ اور آزادی کوئی مفت میں تھوڑے ہی ملتے ہیں؟“$BNB
طوطے نے اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے کہا”ویسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے“
”تم صحیح کہتے ہو“بیل نے سر ہلا کر کہا”مگر میری زندگی صرف میرے لئے نہیں ہے۔میں جس فصل کو اُگانے میں مدد کرتا ہوں،اس سے پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔میرا مالک مجھے چارہ کھلانے کے بعد ہی کھانا کھاتا ہے۔وہ صبح اُٹھ کر مجھے پہلے چارہ کھلاتا ہے،تب خود کچھ کھاتا ہے۔میری زندگی تمہاری طرح آزاد بھلے ہی نہ ہو،مگر ایک دم بے معنی بھی نہیں ہے۔“طوطے کو بیل کی بات صحیح لگی۔وہ بولا،”ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔قدرت نے ہماری زندگی کو جیسا بنایا ہے،ہمیں ویسے ہی جینا ہے۔اچھا چلتا ہوں“یہ کہہ کر طوطا پھُر سے اُڑ گیا۔بیل دیر تک سر اُٹھائے دیکھتا رہ گیا$
Here’s the latest Bitcoin (BTC) analysis as of today, Friday, Jan 30, 2026 — combining live data, price trends, market drivers, and forecasts so you get a real-time picture. 📊 Bitcoin (BTC) $82899.00 -$4971.00 (-5.66%) Today$BNB 1D 5D 1M 6M YTD 1Y 5Y Bitcoin live price snapshot:$ETH ≈ $82,899 USD and showing weakness in recent trading, with price down from earlier levels.#TokenizedSilverSurge #VIRBNB #GoldOnTheRise #FedHoldsRates $BTC
Here’s the latest Bitcoin (BTC) analysis as of today, Friday, Jan 30, 2026 — combining live data, price trends, market drivers, and forecasts so you get a real-time picture. 📊
Bitcoin (BTC)
$82899.00
-$4971.00 (-5.66%) Today$BNB
1D
5D
1M
6M
YTD
1Y
5Y
Bitcoin live price snapshot:$ETH
≈ $82,899 USD and showing weakness in recent trading, with price down from earlier levels.#TokenizedSilverSurge #VIRBNB #GoldOnTheRise #FedHoldsRates $BTC
طوطےبیل کو کھونٹے پر بندھا ہوا دیکھ کر طوطا طنز سے $XRP ہنسا”بھائی تمہارے تو کیا ٹھاٹھ ہیں۔دن بھر ہل کھینچنا پڑتا ہے۔کسان کے ڈنڈے بھی کھانے پڑتے ہیں،تب جا کر تمہیں چارہ ملتا ہے۔دن کی چلچلاتی دھوپ بھی تمہیں اپنی پیٹھ پر جھیلنی پڑتی ہے۔“ بیل چارہ کھاتے کھاتے رُکا اور بولا”تمہاری طرح دن بھر چار دانوں کے لئے میلوں میل مارا ماری تو نہیں کرنی پڑتی۔گھر لوٹنے پر اتنا تو طے رہتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لئے پورا چارہ مل جائے گا۔اور پھر جو چارہ کھلائے گا،وہ کام تو لے گا ہی۔بنا محنت کے بنا کام کئے کھانا بھی تو ٹھیک بات نہیں ہے۔تم کوئی کام نہیں کرتے۔چپکے سے کسی کے مکئی کے کھیت میں گھس جاتے ہو۔کسی کے باغ میں چوری چھپے جا کر پھل کترنے لگتے ہو۔“ ”اس طرح کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ (جاری ہے)W $BTC طرح طرح کے اچھے پھل کھانے کو مل جاتے ہیں۔ اچھے پھل ڈھونڈنے کے لئے بھی تو محنت کرنی پڑتی ہے۔ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے،اس کا تو مزہ ہی کچھ الگ ہے۔ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔اپنی مرضی کا کھا بھی نہیں سکتے۔تمہارے مالک جو چنے کی اچھی دال کھاتے ہیں،ہم اُن کے آنگن میں جا کر کچھ دانے اس میں سے کھا لیتے ہیں۔تمہارے آنگن کے آم کے پیڑ پر ہر سال مزیدار آم لگتے ہیں۔تم نے کبھی چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ہمیں دیکھو!پکے ہوئے آموں کا مزہ ہم سب سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔تمہارے مالک کسان سے بھی پہلے“ طوطے نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔ بیل کہاں چپ رہنے والا تھا۔وہ اپنے تھوتھن کو ہلا کر بولا”میرا مالک کسان میری حفاظت کرتا ہے،ٹھنڈ اور بارش میں مجھے الگ کوٹھری میں باندھ دیتا ہے۔تمہیں تو باہر کھلے درختوں پر ٹھنڈ،بارش اور اولوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔“ ”ارے بھائی!ہم بھی کسی مکان کے کونے میں جا کر دبک جاتے ہیں۔ہمارا بھی وقت کٹ جاتا ہے۔اچھا بُرا وقت تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔اب ہماری زندگی کو بھی دیکھو آزادی کے فائدے تو ہیں لیکن کبھی ہمیں شکاری مار گراتے ہیں،کبھی کوئی چڑی مار پکڑ کر پنجرے میں بند کر لیتے ہیں۔آسمان میں اُڑتے ہوئے بھی باز عقاب جھپٹا مار کر ہم پر حملہ کر دیتے ہیں۔آزادی ملی ہے تو اس کی کچھ قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔مزہ اور آزادی کوئی مفت میں تھوڑے ہی ملتے ہیں؟“ طوطے نے اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے کہا”ویسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے“ ”تم صحیح کہتے ہو“بیل نے سر ہلا کر کہا”مگر میری زندگی صرف میرے لئے نہیں ہے۔میں جس فصل کو اُگانے میں مدد کرتا ہوں،اس سے پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔میرا مالک مجھے چارہ کھلانے کے بعد ہی کھانا کھاتا ہے۔وہ صبح اُٹھ کر مجھے پہلے چارہ کھلاتا ہے،تب خود کچھ کھاتا ہے۔میری زندگی تمہاری طرح آزاد بھلے ہی نہ ہو،مگر ایک دم بے معنی بھی نہیں ہے۔“طوطے کو بیل کی بات صحیح لگی۔وہ بولا،”ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔قدرت نے ہماری زندگی کو جیسا بنایا ہے،ہمیں ویسے ہی جینا ہے۔اچھا چلتا ہوں“یہ کہہ کر طوطا پھُر سے اُڑ گیا۔بیل دیر تک سر اُٹھائے دیکھتا رہ گیا۔$SOL

طوطے

بیل کو کھونٹے پر بندھا ہوا دیکھ کر طوطا طنز سے $XRP ہنسا”بھائی تمہارے تو کیا ٹھاٹھ ہیں۔دن بھر ہل کھینچنا پڑتا ہے۔کسان کے ڈنڈے بھی کھانے پڑتے ہیں،تب جا کر تمہیں چارہ ملتا ہے۔دن کی چلچلاتی دھوپ بھی تمہیں اپنی پیٹھ پر جھیلنی پڑتی ہے۔“
بیل چارہ کھاتے کھاتے رُکا اور بولا”تمہاری طرح دن بھر چار دانوں کے لئے میلوں میل مارا ماری تو نہیں کرنی پڑتی۔گھر لوٹنے پر اتنا تو طے رہتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لئے پورا چارہ مل جائے گا۔اور پھر جو چارہ کھلائے گا،وہ کام تو لے گا ہی۔بنا محنت کے بنا کام کئے کھانا بھی تو ٹھیک بات نہیں ہے۔تم کوئی کام نہیں کرتے۔چپکے سے کسی کے مکئی کے کھیت میں گھس جاتے ہو۔کسی کے باغ میں چوری چھپے جا کر پھل کترنے لگتے ہو۔“
”اس طرح کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔

(جاری ہے)W $BTC
طرح طرح کے اچھے پھل کھانے کو مل جاتے ہیں۔
اچھے پھل ڈھونڈنے کے لئے بھی تو محنت کرنی پڑتی ہے۔ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے،اس کا تو مزہ ہی کچھ الگ ہے۔ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔اپنی مرضی کا کھا بھی نہیں سکتے۔تمہارے مالک جو چنے کی اچھی دال کھاتے ہیں،ہم اُن کے آنگن میں جا کر کچھ دانے اس میں سے کھا لیتے ہیں۔تمہارے آنگن کے آم کے پیڑ پر ہر سال مزیدار آم لگتے ہیں۔تم نے کبھی چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ہمیں دیکھو!پکے ہوئے آموں کا مزہ ہم سب سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔تمہارے مالک کسان سے بھی پہلے“ طوطے نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔
بیل کہاں چپ رہنے والا تھا۔وہ اپنے تھوتھن کو ہلا کر بولا”میرا مالک کسان میری حفاظت کرتا ہے،ٹھنڈ اور بارش میں مجھے الگ کوٹھری میں باندھ دیتا ہے۔تمہیں تو باہر کھلے درختوں پر ٹھنڈ،بارش اور اولوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔“
”ارے بھائی!ہم بھی کسی مکان کے کونے میں جا کر دبک جاتے ہیں۔ہمارا بھی وقت کٹ جاتا ہے۔اچھا بُرا وقت تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔اب ہماری زندگی کو بھی دیکھو آزادی کے فائدے تو ہیں لیکن کبھی ہمیں شکاری مار گراتے ہیں،کبھی کوئی چڑی مار پکڑ کر پنجرے میں بند کر لیتے ہیں۔آسمان میں اُڑتے ہوئے بھی باز عقاب جھپٹا مار کر ہم پر حملہ کر دیتے ہیں۔آزادی ملی ہے تو اس کی کچھ قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔مزہ اور آزادی کوئی مفت میں تھوڑے ہی ملتے ہیں؟“
طوطے نے اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے کہا”ویسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے“
”تم صحیح کہتے ہو“بیل نے سر ہلا کر کہا”مگر میری زندگی صرف میرے لئے نہیں ہے۔میں جس فصل کو اُگانے میں مدد کرتا ہوں،اس سے پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔میرا مالک مجھے چارہ کھلانے کے بعد ہی کھانا کھاتا ہے۔وہ صبح اُٹھ کر مجھے پہلے چارہ کھلاتا ہے،تب خود کچھ کھاتا ہے۔میری زندگی تمہاری طرح آزاد بھلے ہی نہ ہو،مگر ایک دم بے معنی بھی نہیں ہے۔“طوطے کو بیل کی بات صحیح لگی۔وہ بولا،”ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔قدرت نے ہماری زندگی کو جیسا بنایا ہے،ہمیں ویسے ہی جینا ہے۔اچھا چلتا ہوں“یہ کہہ کر طوطا پھُر سے اُڑ گیا۔بیل دیر تک سر اُٹھائے دیکھتا رہ گیا۔$SOL
سدھر جاوٴچڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $$BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔ (جاری ہے) اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ ”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔ ”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔ ”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔ صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔ کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“$BNB ”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔ دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں گے۔“$ETH

سدھر جاوٴ

چڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $$BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔

(جاری ہے)

اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔
”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔
”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔
”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“
کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔
صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔
کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“$BNB
”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔
دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں گے۔“$ETH
Current price dynamics:$ETH BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. � The Economic Times +1 Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. � Barron's$BTC 📉 Market sentiment & short-term trend Bearish/cautious signals Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#GoldOnTheRise #FedHoldsRates $BNB #ZAMAPreTGESale #StrategyBTCPurchase
Current price dynamics:$ETH
BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. �
The Economic Times +1
Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. �
Barron's$BTC
📉 Market sentiment & short-term trend
Bearish/cautious signals
Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#GoldOnTheRise #FedHoldsRates $BNB #ZAMAPreTGESale #StrategyBTCPurchase
Current price dynamics:$SOL BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. � The Economic Times +1 Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. � Barron's$BTC 📉 Market sentiment & short-term trend Bearish/cautious signals Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#TokenizedSilverSurge #VIRBNB #WhoIsNextFedChair #GoldOnTheRise $XRP
Current price dynamics:$SOL
BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. �
The Economic Times +1
Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. �
Barron's$BTC
📉 Market sentiment & short-term trend
Bearish/cautious signals
Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#TokenizedSilverSurge #VIRBNB #WhoIsNextFedChair #GoldOnTheRise $XRP
Войдите, чтобы посмотреть больше материала
Последние новости криптовалют
⚡️ Участвуйте в последних обсуждениях в криптомире
💬 Общайтесь с любимыми авторами
👍 Изучайте темы, которые вам интересны
Эл. почта/номер телефона
Структура веб-страницы
Настройки cookie
Правила и условия платформы