Binance Square

Zakir Hueen

1 Urmăriți
24 Urmăritori
80 Apreciate
0 Distribuite
Conținut
·
--
شاپرچڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔ (جاری ہے) اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ ”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔ ”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔ ”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔ صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔ کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ$SOL نے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“ ”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔ دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں$BNB

شاپر

چڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔

(جاری ہے)

اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔
”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔
”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔
”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“
کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔
صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔
کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ$SOL نے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“
”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔
دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں$BNB
نوجوان”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔$XRP اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔ امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“ ”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔ آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔ (جاری ہے)$BTC کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔چند لمحوں بعد کنڈکٹر نے ٹکٹ کے پیسے مانگے تو جاوید نے پرس نکالا اور پیسے دے کر ٹکٹ لے لیا۔ پھر بس جاوید کے اسٹاپ پر رُکی تو جاوید لوگوں کو آگے پیچھے کرتا ہوا نیچے اُتر گیا۔نیچے اُترتے ہی اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔کوئی ظالم بڑی صفائی سے اس کی جیب صاف کر چکا تھا۔اب اس کو یاد آیا کہ جب اس نے ٹکٹ دینے کے لئے پرس نکالا تھا تو اس کے قریب ہی کھڑے ایک نوجوان کی نظریں اس کے پرس پر تھیں۔ یقینا وہ ایک جیب کترا تھا،مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ جاوید فٹ پاتھ پر کھڑا اپنے نقصان کا اندازہ کرنے لگا۔ تقریباً چھے سو روپے ،شناختی کارڈ اور اُف،وہ ظالم پرس کے ساتھ چیک بھی لے گیا۔ چیک کا خیال آتے ہی اس کی نگاہوں کے سامنے”رانی “ کی معصوم صورت ابھر آئی اور اس کی پریشانی بڑھ گئی۔ جاوید ایک درد مند نوجوان تھا۔اس نے محلے کے چند اپنے جیسے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی ،جس کا مقصد غریب لوگوں کی مدد کرنا تھا۔ان نوجوانوں کی محنت کی وجہ سے کئی غریب خاندان اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے تھے۔ ان غریبوں کی مدد کرنے کے لئے تنظیم کے نوجوان نیک دل اور مال دار حضرات سے چندہ وصول کرتے اور پھر اس چندے سے غریب لڑکیوں کے لئے جہیز وغیرہ خریدتے۔ رانی کے والدین بھی غریب تھے ۔جب رانی کا رشتہ طے ہوا تو ان نوجوانوں کو پتا چل گیا۔انھوں نے فوراً ہی اس غریب بہن کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔اس دن جاوید نے اسی سلسلے میں ایک سیٹھ صاحب سے چندہ لیا تھا،مگر سیٹھ صاحب نے نقد رقم کے بجائے چیک دیا تھا۔ یہ چیک دس ہزار روپے کا تھا۔ آج جاوید کو چیک رانی کے والدین کو پہنچانا تھا، مگر پرس کے ساتھ ،وہ جیب کترا چیک بھی لے اُڑا۔جاوید کو اپنی رقم سے کہیں زیادہ اس چیک کا غم تھا جو اس جیب کترے کے لئے صرف کاغذ کا ٹکڑا تھا،مگر اس کے نہ ملنے سے رانی کی شادی رک سکتی تھی۔ اسی پریشانی میں دس روز گزر گئے ۔اس دوران جاوید نے اخبار میں اشتہار بھی دیا کہ شاید چیک مل جائے،مگر کچھ نہ ہوا۔رانی کی شادی میں پانچ دن رہ گئے تھے ۔لڑکے والوں کا فرنیچر کا مطالبہ جوں کا توں رہا۔رانی کے والدین کے ساتھ جاوید کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ایک روز جاوید اپنے دفتر میں بیٹھا اس سوچ میں گم تھاکہ چپراسی نے ایک خط اسے لا کر دیا ۔خط پر جاوید کا نام لکھا تھا ۔ جاوید نے لفافہ کھولا تو اُچھل پڑا۔اس میں سے وہی چیک نکلا جس کے لئے جاوید پریشان تھا۔لفافے میں چیک کے علاوہ ایک چھوٹا پرچہ بھی پڑا تھا۔ جاوید نے دھڑکتے دل کے ساتھ پرچہ کھولا اور پڑھنے لگا۔لکھا تھا: محترمہ جاوید انور صاحب!السلام علیکم! میں آپ کا مجرم آپ سے مخاطب ہوں ۔آپ کا پرس میں نے ہی لیا تھا۔مانا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ،مگر میں بہت مجبور تھا۔ مجھے روپوں کی سخت ضرورت تھی ۔دراصل میری بہن ”رانی“ کی شادی ایک اچھے خاندان میں طے ہو گئی ہے ،مگر لڑکے والوں کے مطالبات اتنے زیادہ ہیں کہ مجبوراً مجھے یہ قدم اُٹھانا پڑا۔اُمید ہے کہ آپ اپنے ایک ضرورت مند بھائی کو معاف کر دیں گے۔ ”اور ہاں! آپ کے پرس میں کافی بڑی رقم کا ایک چیک بھی تھا جو میرے کسی کام کا نہ تھا،کیونکہ وہ کر اس چیک تھا اور صرف اسی شخص کے اکاؤنٹ میں جمع ہو سکتا تھا جس کا اس پر نام لکھا ہو ۔لہٰذا وہ چیک آپ کو واپس بھجوا رہا ہوں۔ایک بار پھر آپ سے معافی چاہتا ہوں۔“ ایک بہن کا مجبور بھائی یہ خط پڑھ کر جاوید سوچنے لگا کہ میں نے خود رانی کے لئے یہ چیک حاصل کیا تھا۔ اگر رانی کا بھائی اللہ پر بھروسا کرتا اور کچھ دن اور صبر کرتا تو یہ چیک بھی رانی کے کام آجاتا،مگر اس نے غلط راستہ اختیار کیا ۔خود بھی پریشان ہوا اور مجھے بھی پریشان کیا۔$SOL

نوجوان

”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔$XRP اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔
امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“
”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔
آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔

(جاری ہے)$BTC
کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔
سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔چند لمحوں بعد کنڈکٹر نے ٹکٹ کے پیسے مانگے تو جاوید نے پرس نکالا اور پیسے دے کر ٹکٹ لے لیا۔
پھر بس جاوید کے اسٹاپ پر رُکی تو جاوید لوگوں کو آگے پیچھے کرتا ہوا نیچے اُتر گیا۔نیچے اُترتے ہی اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔کوئی ظالم بڑی صفائی سے اس کی جیب صاف کر چکا تھا۔اب اس کو یاد آیا کہ جب اس نے ٹکٹ دینے کے لئے پرس نکالا تھا تو اس کے قریب ہی کھڑے ایک نوجوان کی نظریں اس کے پرس پر تھیں۔ یقینا وہ ایک جیب کترا تھا،مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
جاوید فٹ پاتھ پر کھڑا اپنے نقصان کا اندازہ کرنے لگا۔ تقریباً چھے سو روپے ،شناختی کارڈ اور اُف،وہ ظالم پرس کے ساتھ چیک بھی لے گیا۔ چیک کا خیال آتے ہی اس کی نگاہوں کے سامنے”رانی “ کی معصوم صورت ابھر آئی اور اس کی پریشانی بڑھ گئی۔
جاوید ایک درد مند نوجوان تھا۔اس نے محلے کے چند اپنے جیسے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی ،جس کا مقصد غریب لوگوں کی مدد کرنا تھا۔ان نوجوانوں کی محنت کی وجہ سے کئی غریب خاندان اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے تھے۔ ان غریبوں کی مدد کرنے کے لئے تنظیم کے نوجوان نیک دل اور مال دار حضرات سے چندہ وصول کرتے اور پھر اس چندے سے غریب لڑکیوں کے لئے جہیز وغیرہ خریدتے۔
رانی کے والدین بھی غریب تھے ۔جب رانی کا رشتہ طے ہوا تو ان نوجوانوں کو پتا چل گیا۔انھوں نے فوراً ہی اس غریب بہن کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔اس دن جاوید نے اسی سلسلے میں ایک سیٹھ صاحب سے چندہ لیا تھا،مگر سیٹھ صاحب نے نقد رقم کے بجائے چیک دیا تھا۔ یہ چیک دس ہزار روپے کا تھا۔
آج جاوید کو چیک رانی کے والدین کو پہنچانا تھا، مگر پرس کے ساتھ ،وہ جیب کترا چیک بھی لے اُڑا۔جاوید کو اپنی رقم سے کہیں زیادہ اس چیک کا غم تھا جو اس جیب کترے کے لئے صرف کاغذ کا ٹکڑا تھا،مگر اس کے نہ ملنے سے رانی کی شادی رک سکتی تھی۔
اسی پریشانی میں دس روز گزر گئے ۔اس دوران جاوید نے اخبار میں اشتہار بھی دیا کہ شاید چیک مل جائے،مگر کچھ نہ ہوا۔رانی کی شادی میں پانچ دن رہ گئے تھے ۔لڑکے والوں کا فرنیچر کا مطالبہ جوں کا توں رہا۔رانی کے والدین کے ساتھ جاوید کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔
ایک روز جاوید اپنے دفتر میں بیٹھا اس سوچ میں گم تھاکہ چپراسی نے ایک خط اسے لا کر دیا ۔خط پر جاوید کا نام لکھا تھا ۔
جاوید نے لفافہ کھولا تو اُچھل پڑا۔اس میں سے وہی چیک نکلا جس کے لئے جاوید پریشان تھا۔لفافے میں چیک کے علاوہ ایک چھوٹا پرچہ بھی پڑا تھا۔ جاوید نے دھڑکتے دل کے ساتھ پرچہ کھولا اور پڑھنے لگا۔لکھا تھا:
محترمہ جاوید انور صاحب!السلام علیکم!
میں آپ کا مجرم آپ سے مخاطب ہوں ۔آپ کا پرس میں نے ہی لیا تھا۔مانا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ،مگر میں بہت مجبور تھا۔ مجھے روپوں کی سخت ضرورت تھی ۔دراصل میری بہن ”رانی“ کی شادی ایک اچھے خاندان میں طے ہو گئی ہے ،مگر لڑکے والوں کے مطالبات اتنے زیادہ ہیں کہ مجبوراً مجھے یہ قدم اُٹھانا پڑا۔اُمید ہے کہ آپ اپنے ایک ضرورت مند بھائی کو معاف کر دیں گے۔
”اور ہاں! آپ کے پرس میں کافی بڑی رقم کا ایک چیک بھی تھا جو میرے کسی کام کا نہ تھا،کیونکہ وہ کر اس چیک تھا اور صرف اسی شخص کے اکاؤنٹ میں جمع ہو سکتا تھا جس کا اس پر نام لکھا ہو ۔لہٰذا وہ چیک آپ کو واپس بھجوا رہا ہوں۔ایک بار پھر آپ سے معافی چاہتا ہوں۔“
ایک بہن کا مجبور بھائی یہ خط پڑھ کر جاوید سوچنے لگا کہ میں نے خود رانی کے لئے یہ چیک حاصل کیا تھا۔ اگر رانی کا بھائی اللہ پر بھروسا کرتا اور کچھ دن اور صبر کرتا تو یہ چیک بھی رانی کے کام آجاتا،مگر اس نے غلط راستہ اختیار کیا ۔خود بھی پریشان ہوا اور مجھے بھی پریشان کیا۔$SOL
خانداناقبال صاحب اور ان کی اہلیہ نسرین اپنی تینوں بیٹیوں $ETH ثنا، فوزیہ اور نور کے ہمراہ دو کمروں کے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔اس سے پہلے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ آبائی گھر میں رہتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ خاندان بڑا ہوا تو سب نے باہمی مشورے سے مکان بیچنے کا فیصلہ کیا۔بڑے بھائیوں نے تو نیا گھر خرید لیا، لیکن اقبال صاحب نے دکان خریدنے کو ترجیح دی۔کافی عرصے دکان پر کام کرنے کی وجہ سے انھیں کام کا اچھا تجربہ ہو گیا تھا۔ان کی رائے تھی کہ معقول آمدنی ہو تو مکان بھی بن جاتا ہے۔رات کے کھانے کے بعد ان کی اہلیہ نے بچیوں کے اسکول کا مسئلہ اُٹھایا، کیونکہ پہلے والا اسکول اب کافی دور ہو گیا تھا۔ ”میں کل ہی بچیوں کے لئے اچھا سا اسکول ڈھونڈتا ہوں۔ (جاری ہے)$BNB ان کا وقت بالکل ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ “ اقبال صاحب بولے۔ تھوڑی دیر میں اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آ گئے۔باتوں باتوں میں بچیوں کے اسکول کا ذکر بھی آیا۔ ”ارے بھئی! بچیوں کے لئے اچھے اسکول کی کیا ضرورت ہے بھلا۔کسی بھی عام سے اسکول میں داخل کرا دو۔پڑھ لکھ کر افسر تھوڑی بن جائیں گی۔شادی کر کے دوسرے گھر ہی تو جانا ہے۔اگر کوئی بیٹا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی۔کم از کم کاروبار میں تمہارا ہاتھ تو بٹاتا۔لڑکیوں پر اتنے پیسے خرچ کرنا تو سراسر بے وقوفی ہے۔“ بھائی نے انتہائی لاپرواہی سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ”بھائی صاحب! یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔“ اقبال صاحب حیرانی سے بولے۔ ”ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں تمہارے بھائی۔بیٹیوں کو تو ویسے بھی پرائے گھر جانا ہوتا ہے تو کیا ضرورت ہے ان پر اتنے پیسے خرچ کرنے کی۔اب دیکھو نا ہمارے ما شاء اللہ! چار بیٹے ہیں۔تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیں گے تو اپنے والد کے ساتھ کاروبار سنبھال لیں گے اور ویسے بھی آج کل تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ! ملازمت تو ملتی نہیں ہے۔بہتر یہی ہے کہ پیسے بچا کر رکھیں۔“ بھابھی نے تو اپنی دانست میں بڑی دور اندیشی کی بات کی تھی۔ بچیوں کی ماں سے رہا نہ گیا اور وہ بھی بول پڑیں:”بھابھی! اچھی تعلیم تو لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے ضروری ہے۔اگر اچھی تعلیم ہو گی تو وہ کاروبار ہی نہیں معاشرے میں بھی کامیاب ہوں گے۔“ ”بھابھی! آج کل یہی بچے ملازمت کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جس سے پیٹ بھی نہ بھر سکے۔“ ”لیکن میں بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے حق میں ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“ اقبال صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔ ”جیسی تمہاری مرضی اقبال! ہم تو جتنا سمجھا سکتے تھے تمہیں ہم نے سمجھا دیا۔اب تم جانو، تمہارا کام جانے۔“ بھائی صاحب نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد اقبال صاحب کی اہلیہ ان سے شکایت کرنے لگیں:”آخر آپ کے گھر والے بچیوں کی تعلیم کے اتنے خلاف کیوں ہیں! کیا ملتا ہے انھیں ایسی باتیں کر کے۔مجھے تو غصہ آ رہا ہے ان کی سوچ پر۔“ ”بیگم! تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔ان باتوں کو نظر انداز کر دیا کرو۔کل جب یہ بچیاں پڑھ لکھ کر ہمارا فخر بنیں گی تو یہی لوگ ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکیں گے۔وقت بہترین جواب ہوتا ہے۔تم بس صبر کرو۔“ وقت گزرتا رہا۔اقبال صاحب کی بچیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتی رہیں۔فوزیہ کو ادب سے خاص لگاؤ تھا۔اس نے کم عمری میں ہی انگریزی شاعری میں نام بنا لیا۔ساتھ ساتھ میڈیکل کی تعلیم بھی جاری رکھی اور پھر فوج میں ایک قابل ڈاکٹر بن گئی۔ثنا بھی پڑھ لکھ کر بینک کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئی۔نور کو وکالت میں دلچسپی تھی تو اقبال صاحب نے اس کا داخلہ شہر کے بہترین لاء کالج میں کرا دیا جہاں وہ تھرڈ ایئر کی طالبہ تھی۔کل تک جن بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کی جا رہی تھی آج وہ اپنے خاندان کا فخر بن گئی تھیں۔ہر کوئی اقبال صاحب اور ان کی بیگم کی اعلیٰ ترتیب کی تعریف کرتا تھا۔پھر ایک دن اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آئے۔وہ کچھ پریشان لگ رہے تھے۔ ”اقبال! تم نے اور نسرین نے جو کہا وہ کر کے دکھا دیا۔ہماری لاکھ مخالفت کے باوجود تم نے بچیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آج میں تمہارے اور ثنا کے پاس ایک خاص کام سے آیا ہوں۔“ ”بھائی صاحب! ہم نے تو بس اپنا فرض ادا کیا۔آپ کہیے۔ہم سے جو ہو سکا،ضرور کریں گے، ان شاء اللہ!“ اتنی دیر میں ثنا بھی چائے لے کر آ گئی۔ ”اصل میں تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ آج کل کاروبار کے حالات کچھ ٹھیک نہیں۔“ بھائی صاحب نے کہنا شروع کیا:”اب بچوں کی بھی شادی ہو گئی ہے، ایسے میں ایک دکان سے گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔میں چاہ رہا تھا کہ ثنا بیٹی اپنے بھائیوں کو کہیں ملازمت پر لگوا دے۔ماشاء اللہ! ہماری بیٹی اتنے بڑے عہدے پر کام کر رہی ہے اور پھر اس کے تعلقات بھی ہیں۔“ بھائی صاحب نے بڑی لجاجت سے بات مکمل کی۔ ”وہ تو ٹھیک ہے تایا ابو!“ ثنا کہنے لگی:”مگر آپ کے بچوں نے تو تعلیم مکمل ہی نہیں کی۔صرف میٹرک کر کے چھوڑ دیا۔اب ایسے میں اچھی نوکری ملنا تو مشکل ہے،لیکن آپ فکر نہ کریں۔میں کوشش کرتی ہوں،ان شاء اللہ!سب بہتر ہو جائے گا۔“ ثنا نے تایا ابو کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔اقبال صاحب کی بھابھی کچھ شرمندہ سی ہو رہی تھیں۔ ”ویسے ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔“ وہ کہنے لگیں:”تعلیم بیچ میں ختم کروا کر ہم نے انھیں کاروبار میں لگا دیا۔اگر وہ بھی تعلیم جاری رکھتے تو آج کچھ بن جاتے۔یہ تو صرف تم اور نسرین ہی تھے جو ہر مشکل برداشت کر گئے، لیکن بچیوں کی تعلیم پہ فرق نہیں آنے دیا۔تعلیم کا جو چراغ تم دونوں نے روشن کیا ہے، ہم اب اسے کبھی بجھنے نہیں دیں گے۔“بھابھی کی اس بات پر سبھی خوشی سے مسکرانے لگے۔اقبال صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی بیگم کی جانب دیکھا جو وقت کے اس جواب سے مطمئن نظر آ رہی تھیں۔$BTC

خاندان

اقبال صاحب اور ان کی اہلیہ نسرین اپنی تینوں بیٹیوں $ETH ثنا، فوزیہ اور نور کے ہمراہ دو کمروں کے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔اس سے پہلے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ آبائی گھر میں رہتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ خاندان بڑا ہوا تو سب نے باہمی مشورے سے مکان بیچنے کا فیصلہ کیا۔بڑے بھائیوں نے تو نیا گھر خرید لیا، لیکن اقبال صاحب نے دکان خریدنے کو ترجیح دی۔کافی عرصے دکان پر کام کرنے کی وجہ سے انھیں کام کا اچھا تجربہ ہو گیا تھا۔ان کی رائے تھی کہ معقول آمدنی ہو تو مکان بھی بن جاتا ہے۔رات کے کھانے کے بعد ان کی اہلیہ نے بچیوں کے اسکول کا مسئلہ اُٹھایا، کیونکہ پہلے والا اسکول اب کافی دور ہو گیا تھا۔
”میں کل ہی بچیوں کے لئے اچھا سا اسکول ڈھونڈتا ہوں۔

(جاری ہے)$BNB
ان کا وقت بالکل ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
“ اقبال صاحب بولے۔
تھوڑی دیر میں اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آ گئے۔باتوں باتوں میں بچیوں کے اسکول کا ذکر بھی آیا۔
”ارے بھئی! بچیوں کے لئے اچھے اسکول کی کیا ضرورت ہے بھلا۔کسی بھی عام سے اسکول میں داخل کرا دو۔پڑھ لکھ کر افسر تھوڑی بن جائیں گی۔شادی کر کے دوسرے گھر ہی تو جانا ہے۔اگر کوئی بیٹا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی۔کم از کم کاروبار میں تمہارا ہاتھ تو بٹاتا۔لڑکیوں پر اتنے پیسے خرچ کرنا تو سراسر بے وقوفی ہے۔“ بھائی نے انتہائی لاپرواہی سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
”بھائی صاحب! یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔“ اقبال صاحب حیرانی سے بولے۔
”ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں تمہارے بھائی۔بیٹیوں کو تو ویسے بھی پرائے گھر جانا ہوتا ہے تو کیا ضرورت ہے ان پر اتنے پیسے خرچ کرنے کی۔اب دیکھو نا ہمارے ما شاء اللہ! چار بیٹے ہیں۔تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیں گے تو اپنے والد کے ساتھ کاروبار سنبھال لیں گے اور ویسے بھی آج کل تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ! ملازمت تو ملتی نہیں ہے۔بہتر یہی ہے کہ پیسے بچا کر رکھیں۔“ بھابھی نے تو اپنی دانست میں بڑی دور اندیشی کی بات کی تھی۔
بچیوں کی ماں سے رہا نہ گیا اور وہ بھی بول پڑیں:”بھابھی! اچھی تعلیم تو لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے ضروری ہے۔اگر اچھی تعلیم ہو گی تو وہ کاروبار ہی نہیں معاشرے میں بھی کامیاب ہوں گے۔“
”بھابھی! آج کل یہی بچے ملازمت کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جس سے پیٹ بھی نہ بھر سکے۔“
”لیکن میں بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے حق میں ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“ اقبال صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
”جیسی تمہاری مرضی اقبال! ہم تو جتنا سمجھا سکتے تھے تمہیں ہم نے سمجھا دیا۔اب تم جانو، تمہارا کام جانے۔“ بھائی صاحب نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔
ان لوگوں کے جانے کے بعد اقبال صاحب کی اہلیہ ان سے شکایت کرنے لگیں:”آخر آپ کے گھر والے بچیوں کی تعلیم کے اتنے خلاف کیوں ہیں! کیا ملتا ہے انھیں ایسی باتیں کر کے۔مجھے تو غصہ آ رہا ہے ان کی سوچ پر۔“
”بیگم! تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔ان باتوں کو نظر انداز کر دیا کرو۔کل جب یہ بچیاں پڑھ لکھ کر ہمارا فخر بنیں گی تو یہی لوگ ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکیں گے۔وقت بہترین جواب ہوتا ہے۔تم بس صبر کرو۔“
وقت گزرتا رہا۔اقبال صاحب کی بچیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتی رہیں۔فوزیہ کو ادب سے خاص لگاؤ تھا۔اس نے کم عمری میں ہی انگریزی شاعری میں نام بنا لیا۔ساتھ ساتھ میڈیکل کی تعلیم بھی جاری رکھی اور پھر فوج میں ایک قابل ڈاکٹر بن گئی۔ثنا بھی پڑھ لکھ کر بینک کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئی۔نور کو وکالت میں دلچسپی تھی تو اقبال صاحب نے اس کا داخلہ شہر کے بہترین لاء کالج میں کرا دیا جہاں وہ تھرڈ ایئر کی طالبہ تھی۔کل تک جن بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کی جا رہی تھی آج وہ اپنے خاندان کا فخر بن گئی تھیں۔ہر کوئی اقبال صاحب اور ان کی بیگم کی اعلیٰ ترتیب کی تعریف کرتا تھا۔پھر ایک دن اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آئے۔وہ کچھ پریشان لگ رہے تھے۔
”اقبال! تم نے اور نسرین نے جو کہا وہ کر کے دکھا دیا۔ہماری لاکھ مخالفت کے باوجود تم نے بچیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آج میں تمہارے اور ثنا کے پاس ایک خاص کام سے آیا ہوں۔“
”بھائی صاحب! ہم نے تو بس اپنا فرض ادا کیا۔آپ کہیے۔ہم سے جو ہو سکا،ضرور کریں گے، ان شاء اللہ!“ اتنی دیر میں ثنا بھی چائے لے کر آ گئی۔
”اصل میں تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ آج کل کاروبار کے حالات کچھ ٹھیک نہیں۔“ بھائی صاحب نے کہنا شروع کیا:”اب بچوں کی بھی شادی ہو گئی ہے، ایسے میں ایک دکان سے گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔میں چاہ رہا تھا کہ ثنا بیٹی اپنے بھائیوں کو کہیں ملازمت پر لگوا دے۔ماشاء اللہ! ہماری بیٹی اتنے بڑے عہدے پر کام کر رہی ہے اور پھر اس کے تعلقات بھی ہیں۔“ بھائی صاحب نے بڑی لجاجت سے بات مکمل کی۔
”وہ تو ٹھیک ہے تایا ابو!“ ثنا کہنے لگی:”مگر آپ کے بچوں نے تو تعلیم مکمل ہی نہیں کی۔صرف میٹرک کر کے چھوڑ دیا۔اب ایسے میں اچھی نوکری ملنا تو مشکل ہے،لیکن آپ فکر نہ کریں۔میں کوشش کرتی ہوں،ان شاء اللہ!سب بہتر ہو جائے گا۔“ ثنا نے تایا ابو کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔اقبال صاحب کی بھابھی کچھ شرمندہ سی ہو رہی تھیں۔
”ویسے ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔“ وہ کہنے لگیں:”تعلیم بیچ میں ختم کروا کر ہم نے انھیں کاروبار میں لگا دیا۔اگر وہ بھی تعلیم جاری رکھتے تو آج کچھ بن جاتے۔یہ تو صرف تم اور نسرین ہی تھے جو ہر مشکل برداشت کر گئے، لیکن بچیوں کی تعلیم پہ فرق نہیں آنے دیا۔تعلیم کا جو چراغ تم دونوں نے روشن کیا ہے، ہم اب اسے کبھی بجھنے نہیں دیں گے۔“بھابھی کی اس بات پر سبھی خوشی سے مسکرانے لگے۔اقبال صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی بیگم کی جانب دیکھا جو وقت کے اس جواب سے مطمئن نظر آ رہی تھیں۔$BTC
Short-Term Price & Technical View$BNB Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1$XRP Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1 Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#FedWatch #StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #USIranStandoff $ETH
Short-Term Price & Technical View$BNB
Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. �
LatestLY +1$XRP
Technical structure:
BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves.
MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet.
Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. �
LatestLY +1
Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. �
Reddit#FedWatch #StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #USIranStandoff $ETH
Short-Term Price & Technical View$BTC Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1 Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1$SOL Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#ClawdbotTakesSiliconValley #ClawdbotSaysNoToken #TokenizedSilverSurge #ClawdbotTakesSiliconValley $XRP
Short-Term Price & Technical View$BTC
Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. �
LatestLY +1
Technical structure:
BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves.
MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet.
Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. �
LatestLY +1$SOL
Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. �
Reddit#ClawdbotTakesSiliconValley #ClawdbotSaysNoToken #TokenizedSilverSurge #ClawdbotTakesSiliconValley $XRP
Short-Term Price & Technical View$ETH Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1$BNB Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1 Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #FedWatch $BTC
Short-Term Price & Technical View$ETH
Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. �
LatestLY +1$BNB
Technical structure:
BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves.
MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet.
Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. �
LatestLY +1
Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. �
Reddit#StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #FedWatch $BTC
کوالامجھے بہت نیند آرہی ہے ۔“ایک کوالا نے انگڑائی لیتے $XRP ہوئے دوسرے سے کہا۔ ”ہاں سو جاؤ۔ میں بھی سورہا ہوں پھر اٹھ کر کھانا کھائیں گے۔“دوسرے کوالا نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ ابھی انہیں بیٹھے ہوئے اور اونگھتے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک دور سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں۔وہ دونوں ایک دم بیدار ہو گئے اور سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ ”یہ کیسی آوازیں ہیں؟“ایک کوالا نے دوسرے سے پوچھا۔ ”پتا نہیں ،چلو نیچے اتر کر دیکھتے ہیں۔“دوسرے نے جواب دیا۔ وہ دونوں درخت سے نیچے اتر گئے اور آگے بڑھنے لگے ۔جیسے ہی تھوڑی دور گئے تو ایک دل دہلا دینے والا منظر ان کا منتظر تھا ۔ (جاری ہے)$BTC آسمان نارنجی رنگ کا ہو چکا تھا۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا اور سب جانور افراتفری میں ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے ۔ ”آگ۔۔۔آگ۔۔۔بھاگو۔۔۔جلدی۔۔۔!!“کوئی جانور ان کے قریب سے یہ کہتا ہوا بھاگ نکلا۔ کک ۔۔۔کک ۔۔کیا۔۔۔آ۔۔آ۔۔آگ لگ گئی!مگر کیسے؟“ایک کوالا کے منہ سے مارے خوف کے بے ربط الفاظ نکلے۔ ”بھاگو۔۔جلدی بھاگو۔۔۔جلدی کرو۔“دوسرا کوالا اپنے ساتھی کو کھینچتا ہوا بھاگنے لگا۔ اچانک آگ کا ایک بھڑکتا ہوا شعلہ ان کی طرف لپکا۔وہ دونوں بری طرح سٹپٹا گئے اور جان بچانے کے لئے اندھا دھند بھاگنے لگے ۔وہ اپنی دانست میں بہت تیز بھاگ رہے تھے مگر ہائے ری قسمت!وہ شعلہ ان سے زیادہ تیز رفتار نکلا اور دونوں کو آدبوچا اور دونوں کوالا کے ہاتھوں اور پیروں کو جلا ڈالا۔دونوں کی چیخیں نکل گئیں ۔آن کی آن میں اس تباہ کن آگ نے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔وہ دونوں معصوم کوالا بہت ہی سہم گئے تھے ۔کہیں سے جانوروں کے رونے اور چیخنے کا شور سنائی دے رہا تھا،کہیں سے لکڑیوں کے چٹخنے کی آوازیں آرہی تھیں تو کہیں درختوں کے پتے اور جھاڑیاں جھلس رہے تھیں اور جل جل کر گرتے ہوئے قد آور درختوں نے تو دونوں معصوم کوالا کو شدید خوف زدہ کر دیا تھا۔”امی ۔۔۔امی ۔۔۔کہاں ہیں آپ؟ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز ہمارے پاس آجائیں ۔“ایک کوالا نے روتے ہوئے اپنی ماں کو آواز دی ۔ ”ابو۔۔۔ابو۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟پلیز ہمیں بچالیں۔“دوسرا کوالا بھی مدد کے لئے اپنے باپ کو پکارنے لگا۔مگر کوئی نہ آیا۔نہ جانے ان کے والدین کہاں تھے ۔کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی کوالا اور دوسرے جانور جل کر ختم ہو گئے ! وہ دونوں معصوم کوالا ڈرے سہمے بھاگتے رہے اور شدید خوف میں مبتلا ہوتے رہے ۔جان تو سب ہی کو پیاری ہوتی ہے آخر۔ایسی خوف ناک آگ انھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔وہ دونوں کوالا زور زور سے رونے لگے اور اپنے ماں باپ کو یاد کرنے لگے اور ساتھ ہی آسمان کی طرف منہ کر کے دعائیں مانگنے لگے۔ کوالا(ایک ریچھ نما جانور)درختوں پر رہنے والا آسٹریلیا کا مقامی جانور ہے ۔یہ سبزی خور ممالیہ ہے ۔کوالا جنوبی آسٹریلیا ،کوئنز لینڈ،نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ میں پایا جاتاہے جو کہ آسٹریلیا کے مشرقی اور جنوبی ساحلی علاقے ہیں۔یہ اپنی جسامت اور نقوش کے اعتبار سے آسانی سے پہچانا جاسکتاہے ۔یہ بغیر دُم والا ایک ہٹا کٹا جانور ہے ۔اس کا سر بڑا،کان نرم ملائم اور ناک چمچے کی شکل سے ملتی جلتی ہے ۔کوالا کے جسم کی لمبائی 60سے 85سینٹی میٹر ہوتی ہے اور اس کا وزن 4سے 15کلو ہوتاہے۔اس کی کھال کا رنگ گرے اور چاکلیٹی براؤن ہوتاہے۔کوالا مشرقی آسٹریلیا میں رہتے ہیں جہاں یو کلپٹس کے درخت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ان کے تیز پنجے اور پیروں کی انگلیاں آسانی سے انہیں اونچائی پر رکھتی ہیں ۔کوالا کے لئے یو کلپٹس کے درخت ہی سب کچھ ہیں ۔یہ خوراک کے طور پر اس کے پتے کھاتے ہیں اور زیادہ پانی بھی نہیں پیتے کیونکہ زیادہ ترنمی ان کو یوکلپٹس کے پتوں سے مل جاتی ہے ۔ہر ایک کوالا بہت زیادہ مقدار میں ان پتوں کو کھاتاہے ۔ جنگل کی اس خوفناک آگ سے جنوبی آسٹریلیا میں کم از کم25,000کوالا موت کے منہ میں چلے گئے!جس کے نتائج اتنے تباہ کن ہیں کہ کوالا کی نسل کی ختم ہونے کا خطرہ ہے ۔یہ گول مٹول روئیں والے ممالین جانور 1920اور1930کی دہائیوں میں اپنی کھال کے لئے وسیع پیمانے پر شکار کیے جاتے تھے اور اس کے علاوہ دیگر ماحول دشمن اقدامات سے ان کی آبادی بہت کم ہو کر لاکھوں سے ہزاروں کی تعداد میں ہوگئی تھی۔ آگ ایک درخت سے دوسرے درخت تک تیزی سے پھیلتی ر ی۔شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے ۔دونوں ننھے کوالا امیدوبیم کی کیفیت میں خوف وہراس کا شکار ہو کر بیٹھے تھے کہ اچانک انھوں نے کچھ انسانوں کو اپنی جانب آتا دیکھا۔ ”ارے وہ دیکھو!کچھ لوگ ہماری طرف آرہے ہیں۔“ایک کوالا نے دوسرے سے کہا۔ ”یہ لوگ کیوں آرہے ہیں ؟مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔“دوسرے کوالا کے لہجے میں خوف تھا۔ دونوں کوالا بچے اتنے سہمے ہوئے تھے کہ لوگوں کو اپنے قریب آتا دیکھ کر دوبارہ رونے لگے ۔اتنے میں وہ لوگ ان کے نزدیک پہنچ گئے ۔کچھ لوگوں نے کافی جانوروں کو آگ میں سے نکالا ،کسی نے کپڑے ڈال کر بچایا تو کوئی پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا۔ان دونوں کو بھی کسی نے بہت پیار سے اپنی گود میں اٹھالیا اور جنگل سے باہر لے گئے ۔باہر بہت سی گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں ۔ان لوگوں کی گود میں جاکر بچوں کا ڈر خوف جاتا رہا اور وہ قدے پر سکون ہو گئے ،جیسے کسی پنا گاہ میں آگئے ہوں۔ پھر ان لوگوں نے دونوں کوالا کے زخموں پر مرہم لگایا ،انہیں پانی پلایا اور دوائیں بھی دیں۔یہی عمل باقی تمام جانوروں کے ساتھ کیا گیا۔دونوں کوالا مارے تشکر کے ان لوگوں سے لپٹ گئے جیسے کہ ان کا شکریہ ادا کررہے ہوں۔ پھر ان دونوں کوالا اور دوسرے جانوروں کو گاڑی میں بٹھانے کے بعد کچھ لوگ پھر سے جنگل کی طرف چلے گئے اور کچھ وہیں موجود رہے ۔ ”یہ لوگ ہمیں بچانے کے لئے آئے ہیں۔“ایک کوالا نے دل میں سوچا۔ ”شکر ہے اللہ!ہم بچ گئے ۔“دوسرا کوالا بھی دل ہی دل میں شکر ادا کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر بہت سارے لوگ ایک ساتھ آتے دکھائی دئیے۔جب وہ سب ایک جگہ جمع ہوگئے تو انھوں نے قطاریں بنالیں اور پھر زمین پر جھک گئے ۔ ”ارے ،کیا کر رہے ہیں یہ لوگ اب؟“دونوں کوالے حیران پریشان ہو کر سوچے جارہے تھے ۔پھر انہوں نے ان لوگوں کو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ ”یہ لوگ دعا مانگ رہے ہیں۔“ایک کوالا نے دل ہی دل میں کہا۔ اور پھر دعا ہو گئی قبول ۔۔۔موسم بدلا اور بارش ہونے لگی۔یہ مسلمان تھے جو بارش کے لئے اپنے رب کے حضور ”نماز استسقا“پڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سن لیں ۔نماز استسقا بارش کے لئے پڑھی جاتی ہے ۔جنگل کی آگ اب صرف اور صرف بارشوں سے ہی رک سکتی تھی ۔اس نماز میں مسلمانوں کے ساتھ یہودی اور عیسائی بھی شامل ہو گئے تھے کہ اب دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔بے شک انسان کے پاس تمام تر سہولیات وٹیکنالوجیز موجود ہیں مگر کبھی کبھی ایسی ناگہانی آفات آجاتی ہیں کہ انسان بے بس ہو جاتاہے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی مدد نہیں کر سکتا۔اب بھی مسلسل بارشوں کی ضرورت ہے تاکہ جنگل کی آگ مکمل طور پر بجھ جائے اس لئے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ۔آئیے ہم سب بھی اللہ کے حضور دعا مانگتے ہیں کہ اللہ ان معصوم جانوروں پر رحم کرے اور جنگل کی آگ بجھ جائے ۔آمین۔$SOL

کوالا

مجھے بہت نیند آرہی ہے ۔“ایک کوالا نے انگڑائی لیتے $XRP ہوئے دوسرے سے کہا۔
”ہاں سو جاؤ۔ میں بھی سورہا ہوں پھر اٹھ کر کھانا کھائیں گے۔“دوسرے کوالا نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔
ابھی انہیں بیٹھے ہوئے اور اونگھتے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک دور سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں۔وہ دونوں ایک دم بیدار ہو گئے اور سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔
”یہ کیسی آوازیں ہیں؟“ایک کوالا نے دوسرے سے پوچھا۔
”پتا نہیں ،چلو نیچے اتر کر دیکھتے ہیں۔“دوسرے نے جواب دیا۔
وہ دونوں درخت سے نیچے اتر گئے اور آگے بڑھنے لگے ۔جیسے ہی تھوڑی دور گئے تو ایک دل دہلا دینے والا منظر ان کا منتظر تھا ۔

(جاری ہے)$BTC
آسمان نارنجی رنگ کا ہو چکا تھا۔
ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا اور سب جانور افراتفری میں ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے ۔
”آگ۔۔۔آگ۔۔۔بھاگو۔۔۔جلدی۔۔۔!!“کوئی جانور ان کے قریب سے یہ کہتا ہوا بھاگ نکلا۔
کک ۔۔۔کک ۔۔کیا۔۔۔آ۔۔آ۔۔آگ لگ گئی!مگر کیسے؟“ایک کوالا کے منہ سے مارے خوف کے بے ربط الفاظ نکلے۔
”بھاگو۔۔جلدی بھاگو۔۔۔جلدی کرو۔“دوسرا کوالا اپنے ساتھی کو کھینچتا ہوا بھاگنے لگا۔
اچانک آگ کا ایک بھڑکتا ہوا شعلہ ان کی طرف لپکا۔وہ دونوں بری طرح سٹپٹا گئے اور جان بچانے کے لئے اندھا دھند بھاگنے لگے ۔وہ اپنی دانست میں بہت تیز بھاگ رہے تھے مگر ہائے ری قسمت!وہ شعلہ ان سے زیادہ تیز رفتار نکلا اور دونوں کو آدبوچا اور دونوں کوالا کے ہاتھوں اور پیروں کو جلا ڈالا۔دونوں کی چیخیں نکل گئیں ۔آن کی آن میں اس تباہ کن آگ نے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔وہ دونوں معصوم کوالا بہت ہی سہم گئے تھے ۔کہیں سے جانوروں کے رونے اور چیخنے کا شور سنائی دے رہا تھا،کہیں سے لکڑیوں کے چٹخنے کی آوازیں آرہی تھیں تو کہیں درختوں کے پتے اور جھاڑیاں جھلس رہے تھیں اور جل جل کر گرتے ہوئے قد آور درختوں نے تو دونوں معصوم کوالا کو شدید خوف زدہ کر دیا تھا۔”امی ۔۔۔امی ۔۔۔کہاں ہیں آپ؟ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز ہمارے پاس آجائیں ۔“ایک کوالا نے روتے ہوئے اپنی ماں کو آواز دی ۔
”ابو۔۔۔ابو۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟پلیز ہمیں بچالیں۔“دوسرا کوالا بھی مدد کے لئے اپنے باپ کو پکارنے لگا۔مگر کوئی نہ آیا۔نہ جانے ان کے والدین کہاں تھے ۔کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی کوالا اور دوسرے جانور جل کر ختم ہو گئے !
وہ دونوں معصوم کوالا ڈرے سہمے بھاگتے رہے اور شدید خوف میں مبتلا ہوتے رہے ۔جان تو سب ہی کو پیاری ہوتی ہے آخر۔ایسی خوف ناک آگ انھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔وہ دونوں کوالا زور زور سے رونے لگے اور اپنے ماں باپ کو یاد کرنے لگے اور ساتھ ہی آسمان کی طرف منہ کر کے دعائیں مانگنے لگے۔
کوالا(ایک ریچھ نما جانور)درختوں پر رہنے والا آسٹریلیا کا مقامی جانور ہے ۔یہ سبزی خور ممالیہ ہے ۔کوالا جنوبی آسٹریلیا ،کوئنز لینڈ،نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ میں پایا جاتاہے جو کہ آسٹریلیا کے مشرقی اور جنوبی ساحلی علاقے ہیں۔یہ اپنی جسامت اور نقوش کے اعتبار سے آسانی سے پہچانا جاسکتاہے ۔یہ بغیر دُم والا ایک ہٹا کٹا جانور ہے ۔اس کا سر بڑا،کان نرم ملائم اور ناک چمچے کی شکل سے ملتی جلتی ہے ۔کوالا کے جسم کی لمبائی 60سے 85سینٹی میٹر ہوتی ہے اور اس کا وزن 4سے 15کلو ہوتاہے۔اس کی کھال کا رنگ گرے اور چاکلیٹی براؤن ہوتاہے۔کوالا مشرقی آسٹریلیا میں رہتے ہیں جہاں یو کلپٹس کے درخت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ان کے تیز پنجے اور پیروں کی انگلیاں آسانی سے انہیں اونچائی پر رکھتی ہیں ۔کوالا کے لئے یو کلپٹس کے درخت ہی سب کچھ ہیں ۔یہ خوراک کے طور پر اس کے پتے کھاتے ہیں اور زیادہ پانی بھی نہیں پیتے کیونکہ زیادہ ترنمی ان کو یوکلپٹس کے پتوں سے مل جاتی ہے ۔ہر ایک کوالا بہت زیادہ مقدار میں ان پتوں کو کھاتاہے ۔
جنگل کی اس خوفناک آگ سے جنوبی آسٹریلیا میں کم از کم25,000کوالا موت کے منہ میں چلے گئے!جس کے نتائج اتنے تباہ کن ہیں کہ کوالا کی نسل کی ختم ہونے کا خطرہ ہے ۔یہ گول مٹول روئیں والے ممالین جانور 1920اور1930کی دہائیوں میں اپنی کھال کے لئے وسیع پیمانے پر شکار کیے جاتے تھے اور اس کے علاوہ دیگر ماحول دشمن اقدامات سے ان کی آبادی بہت کم ہو کر لاکھوں سے ہزاروں کی تعداد میں ہوگئی تھی۔
آگ ایک درخت سے دوسرے درخت تک تیزی سے پھیلتی ر ی۔شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے ۔دونوں ننھے کوالا امیدوبیم کی کیفیت میں خوف وہراس کا شکار ہو کر بیٹھے تھے کہ اچانک انھوں نے کچھ انسانوں کو اپنی جانب آتا دیکھا۔
”ارے وہ دیکھو!کچھ لوگ ہماری طرف آرہے ہیں۔“ایک کوالا نے دوسرے سے کہا۔
”یہ لوگ کیوں آرہے ہیں ؟مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔“دوسرے کوالا کے لہجے میں خوف تھا۔
دونوں کوالا بچے اتنے سہمے ہوئے تھے کہ لوگوں کو اپنے قریب آتا دیکھ کر دوبارہ رونے لگے ۔اتنے میں وہ لوگ ان کے نزدیک پہنچ گئے ۔کچھ لوگوں نے کافی جانوروں کو آگ میں سے نکالا ،کسی نے کپڑے ڈال کر بچایا تو کوئی پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا۔ان دونوں کو بھی کسی نے بہت پیار سے اپنی گود میں اٹھالیا اور جنگل سے باہر لے گئے ۔باہر بہت سی گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں ۔ان لوگوں کی گود میں جاکر بچوں کا ڈر خوف جاتا رہا اور وہ قدے پر سکون ہو گئے ،جیسے کسی پنا گاہ میں آگئے ہوں۔ پھر ان لوگوں نے دونوں کوالا کے زخموں پر مرہم لگایا ،انہیں پانی پلایا اور دوائیں بھی دیں۔یہی عمل باقی تمام جانوروں کے ساتھ کیا گیا۔دونوں کوالا مارے تشکر کے ان لوگوں سے لپٹ گئے جیسے کہ ان کا شکریہ ادا کررہے ہوں۔ پھر ان دونوں کوالا اور دوسرے جانوروں کو گاڑی میں بٹھانے کے بعد کچھ لوگ پھر سے جنگل کی طرف چلے گئے اور کچھ وہیں موجود رہے ۔
”یہ لوگ ہمیں بچانے کے لئے آئے ہیں۔“ایک کوالا نے دل میں سوچا۔
”شکر ہے اللہ!ہم بچ گئے ۔“دوسرا کوالا بھی دل ہی دل میں شکر ادا کر رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد پھر بہت سارے لوگ ایک ساتھ آتے دکھائی دئیے۔جب وہ سب ایک جگہ جمع ہوگئے تو انھوں نے قطاریں بنالیں اور پھر زمین پر جھک گئے ۔
”ارے ،کیا کر رہے ہیں یہ لوگ اب؟“دونوں کوالے حیران پریشان ہو کر سوچے جارہے تھے ۔پھر انہوں نے ان لوگوں کو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
”یہ لوگ دعا مانگ رہے ہیں۔“ایک کوالا نے دل ہی دل میں کہا۔
اور پھر دعا ہو گئی قبول ۔۔۔موسم بدلا اور بارش ہونے لگی۔یہ مسلمان تھے جو بارش کے لئے اپنے رب کے حضور ”نماز استسقا“پڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سن لیں ۔نماز استسقا بارش کے لئے پڑھی جاتی ہے ۔جنگل کی آگ اب صرف اور صرف بارشوں سے ہی رک سکتی تھی ۔اس نماز میں مسلمانوں کے ساتھ یہودی اور عیسائی بھی شامل ہو گئے تھے کہ اب دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔بے شک انسان کے پاس تمام تر سہولیات وٹیکنالوجیز موجود ہیں مگر کبھی کبھی ایسی ناگہانی آفات آجاتی ہیں کہ انسان بے بس ہو جاتاہے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی مدد نہیں کر سکتا۔اب بھی مسلسل بارشوں کی ضرورت ہے تاکہ جنگل کی آگ مکمل طور پر بجھ جائے اس لئے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ۔آئیے ہم سب بھی اللہ کے حضور دعا مانگتے ہیں کہ اللہ ان معصوم جانوروں پر رحم کرے اور جنگل کی آگ بجھ جائے ۔آمین۔$SOL
سیٹھصاحب میری ماں کو بچالیجیے۔ ڈاکٹر چارلاکھ رپے کا $BTC خرچ بتارہے ہیں۔ صاحب ! ماں کو بچالیں۔ میں پیسے اپنی تنخواہ میں سے تھوڑے تھوڑے کرکے واپس کردوں گا۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ الفاظ سن کر احمد سلیم کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ وہ ایک دولت مند آدمی تھے اور لوگوں کی مدد کرنا انھیں اچھا لگتا تھا۔چار لاکھ رپے ان کے لیے معمولی رقم تھی۔ اس شخص کودیکھ کر وہ ماضی کی یادوں میں کھوتے چلے گئے۔ استاد، استاد! میری ماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔ کچھ پیسے دے دو۔ میں تمھارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ یہ پیسے میری تنخواہ سے کاٹ لینا استاد․․․․․․․․“ بارہ سالہ سلیم اپنے استاد کے سامنے گڑگڑا رہاتھا۔ (جاری ہے)$BNB وہ ایک دکان میں مکینک کاکام کرتا تھا۔ حالات نے اس وقت سے پہلے ہی بڑا کردیا تھا۔ اسکول، پڑھائی، کھیل کود، یہ الفاظ اس کی زندگی میں نہیں تھے۔ اس کی زندگی کامقصد تو بس ایک ہی تھا، بیمارماں کی زندگی کی ڈور کوکٹنے نہ دینا اور اپنے سے چھوٹے پانچ بہن بھائیوں کا پیٹ پالنا۔ جس دکان پر سلیم کام کرتا تھا ،ا س کامالک ایک رحم دل آدمی تھا۔ وہ سلیم کی اکثر مددکردیا کرتا تھا۔ تقریباََ ہر مہینے ہی اس کایہ معمول تھا۔کبھی تو مانگے ہوئے پیسے اس کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوتے تھے۔ استاد بھی جانتے تھے کہ بچہ حقیقت میں ضرورت مند ہے، اس لیے وہ کبھی انکار نہ کرتے۔ سلیم بھی استاد کوبابا کی طرح سمجھتا تھا۔ استاد کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ شروع سے ایسی پریشانیوں کاشکار نہیں تھا۔ جب تک سلیم کے والد زندہ تھے، اسے کبھی پانی پینے کے لیے بھی خود اٹھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ سلیم کے چاچا اور ابا کی کپڑے کی مل تھی۔ وہ ایک اچھے اسکول میں پڑھتا تھا۔ اچانک ایک حادثے نے اس کی زندگی کو پلٹ کررکھ دیا۔ اس کے والد کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ والد کے بعد چچانے ساری جائدادا پنے قبضے میں لے کر انھیں ہر طرح سے محتاج کردیا۔ اس کی والدہ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور فالج کاشکار ہوگئیں۔ چچانے اتنی مہربای کی کہ انھیں رہنے کو ایک کمرے کامکان دے دیا۔اب ماں پی اس کاسب کچھ تھی۔ سلیم نے ایک مکینک کی دکان پر کام شروع کردیا۔ ایک دن اس کی اندھیری دنیامزید تاریک ہوگئی۔ اس کی ماں راتوں رات چپ چاپ دوسری دنیا سدھا رگئی۔ استاد ہی نے اس کی ماں کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ سلیم خود کو اپنی ماں کی موت کاذمے دار سمجھ رہاتھا۔ اگلے دن وہ استاد کے پاس گیا، مگرآج وہ ایک فیصلہ کرچکاتھا۔ اس نے استاد سے کچھ پیسے اُدھار لیے اور کچھ سلے سلائے کپڑے خرید کر بیچنے نکلا پڑا۔کم منافع رکھ کر اس نے سارے کپڑے بیچ دیے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنا نام مارکیٹ میں بناتا چلاگیا۔ لوگ آنکھیں بندکرکے اس پر بھروسا کرتے تھے۔ آخر وہ وقت بھی آیاجب اس نے ایک دکان مارکیٹ میں خریدلی۔ اب وہ بایس سال کاہوگیا تھا۔ اس کاشماربڑے کارباری لوگوں میں ہونے لگا۔ چندبرسوں میں اس کاکاروبار پورے شہرمیں پھیل گیا۔ کپڑے کی مل لگانا اس کا خواب تھا، وہ بھی پورا ہوچکاتھا۔شہر بھر میں اس کی شہرت تھی۔ اس کے بہن بھائی بھی اب پڑھ لکھ گئے تھے، مگر احمد سلیم خود نہیں پڑھ سکے۔ اب وہ سیٹھ سلیم کہلاتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی کے بنائے ہوئے کپڑوں کے ڈیزائنوں نے بھی ان کی شہرت کوچارچاند لگادیے۔ اس عرصے میں وہ استاد کونہیں بھولے تھے اور ان کاہر ممکن خیال رکھتے تھے۔ صاحب اپلیز صاحب! بچالو․․․․․․․ یہ ان کاچچازاد بھائی تھا، جو انھیں پہچان نہیں پایاتھا، مگر سیٹھ سلیم اسے پہچانتے تھے۔وقت نے اس کے پورے خاندان کو تباہ کردیا تھا۔ ایک لمحے کو انھوں نے سوچا کہ وہ اسے دھکے دے کر باہر نکلوادیں اور اپنی ماں کی موت کابدلہ لے لیں، لیکن وہ ایک اور ماں کو نہیں کھونا چاہتے تھے۔ اس درد کوان سے بہتر بھلا کون جانتا تھا۔ کوئی بات نہیں، تمھاری ماں میری ماں ہے۔ اس کے علاج کے ذمے داری میری ہے۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔ ان کے دل سے ایک بوجھ اُترچکا تھا۔ اپنی ماں کی موت کا بوجھ، جو وہ ایک ماں کو بچاکر ہی اُتار سکتے تھے$ETH

سیٹھ

صاحب میری ماں کو بچالیجیے۔ ڈاکٹر چارلاکھ رپے کا $BTC خرچ بتارہے ہیں۔ صاحب ! ماں کو بچالیں۔ میں پیسے اپنی تنخواہ میں سے تھوڑے تھوڑے کرکے واپس کردوں گا۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔
یہ الفاظ سن کر احمد سلیم کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ وہ ایک دولت مند آدمی تھے اور لوگوں کی مدد کرنا انھیں اچھا لگتا تھا۔چار لاکھ رپے ان کے لیے معمولی رقم تھی۔ اس شخص کودیکھ کر وہ ماضی کی یادوں میں کھوتے چلے گئے۔
استاد، استاد! میری ماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔ کچھ پیسے دے دو۔ میں تمھارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ یہ پیسے میری تنخواہ سے کاٹ لینا استاد․․․․․․․․“
بارہ سالہ سلیم اپنے استاد کے سامنے گڑگڑا رہاتھا۔

(جاری ہے)$BNB
وہ ایک دکان میں مکینک کاکام کرتا تھا۔
حالات نے اس وقت سے پہلے ہی بڑا کردیا تھا۔ اسکول، پڑھائی، کھیل کود، یہ الفاظ اس کی زندگی میں نہیں تھے۔ اس کی زندگی کامقصد تو بس ایک ہی تھا، بیمارماں کی زندگی کی ڈور کوکٹنے نہ دینا اور اپنے سے چھوٹے پانچ بہن بھائیوں کا پیٹ پالنا۔
جس دکان پر سلیم کام کرتا تھا ،ا س کامالک ایک رحم دل آدمی تھا۔ وہ سلیم کی اکثر مددکردیا کرتا تھا۔ تقریباََ ہر مہینے ہی اس کایہ معمول تھا۔کبھی تو مانگے ہوئے پیسے اس کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوتے تھے۔ استاد بھی جانتے تھے کہ بچہ حقیقت میں ضرورت مند ہے، اس لیے وہ کبھی انکار نہ کرتے۔ سلیم بھی استاد کوبابا کی طرح سمجھتا تھا۔ استاد کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ شروع سے ایسی پریشانیوں کاشکار نہیں تھا۔ جب تک سلیم کے والد زندہ تھے، اسے کبھی پانی پینے کے لیے بھی خود اٹھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی۔
سلیم کے چاچا اور ابا کی کپڑے کی مل تھی۔ وہ ایک اچھے اسکول میں پڑھتا تھا۔ اچانک ایک حادثے نے اس کی زندگی کو پلٹ کررکھ دیا۔ اس کے والد کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ والد کے بعد چچانے ساری جائدادا پنے قبضے میں لے کر انھیں ہر طرح سے محتاج کردیا۔ اس کی والدہ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور فالج کاشکار ہوگئیں۔ چچانے اتنی مہربای کی کہ انھیں رہنے کو ایک کمرے کامکان دے دیا۔اب ماں پی اس کاسب کچھ تھی۔
سلیم نے ایک مکینک کی دکان پر کام شروع کردیا۔ ایک دن اس کی اندھیری دنیامزید تاریک ہوگئی۔ اس کی ماں راتوں رات چپ چاپ دوسری دنیا سدھا رگئی۔ استاد ہی نے اس کی ماں کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ سلیم خود کو اپنی ماں کی موت کاذمے دار سمجھ رہاتھا۔
اگلے دن وہ استاد کے پاس گیا، مگرآج وہ ایک فیصلہ کرچکاتھا۔ اس نے استاد سے کچھ پیسے اُدھار لیے اور کچھ سلے سلائے کپڑے خرید کر بیچنے نکلا پڑا۔کم منافع رکھ کر اس نے سارے کپڑے بیچ دیے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنا نام مارکیٹ میں بناتا چلاگیا۔ لوگ آنکھیں بندکرکے اس پر بھروسا کرتے تھے۔ آخر وہ وقت بھی آیاجب اس نے ایک دکان مارکیٹ میں خریدلی۔ اب وہ بایس سال کاہوگیا تھا۔ اس کاشماربڑے کارباری لوگوں میں ہونے لگا۔
چندبرسوں میں اس کاکاروبار پورے شہرمیں پھیل گیا۔ کپڑے کی مل لگانا اس کا خواب تھا، وہ بھی پورا ہوچکاتھا۔شہر بھر میں اس کی شہرت تھی۔ اس کے بہن بھائی بھی اب پڑھ لکھ گئے تھے، مگر احمد سلیم خود نہیں پڑھ سکے۔ اب وہ سیٹھ سلیم کہلاتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی کے بنائے ہوئے کپڑوں کے ڈیزائنوں نے بھی ان کی شہرت کوچارچاند لگادیے۔ اس عرصے میں وہ استاد کونہیں بھولے تھے اور ان کاہر ممکن خیال رکھتے تھے۔
صاحب اپلیز صاحب! بچالو․․․․․․․ یہ ان کاچچازاد بھائی تھا، جو انھیں پہچان نہیں پایاتھا، مگر سیٹھ سلیم اسے پہچانتے تھے۔وقت نے اس کے پورے خاندان کو تباہ کردیا تھا۔ ایک لمحے کو انھوں نے سوچا کہ وہ اسے دھکے دے کر باہر نکلوادیں اور اپنی ماں کی موت کابدلہ لے لیں، لیکن وہ ایک اور ماں کو نہیں کھونا چاہتے تھے۔ اس درد کوان سے بہتر بھلا کون جانتا تھا۔
کوئی بات نہیں، تمھاری ماں میری ماں ہے۔ اس کے علاج کے ذمے داری میری ہے۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
ان کے دل سے ایک بوجھ اُترچکا تھا۔ اپنی ماں کی موت کا بوجھ، جو وہ ایک ماں کو بچاکر ہی اُتار سکتے تھے$ETH
Resistance: ~91,000–92,500 (first line)$BTC ~100,000+ (major psychological / breakout region) � Trading Market Signals$BNB Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will heavily influence next moves. If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈#ClawdbotTakesSiliconValley #SouthKoreaSeizedBTCLoss #Mag7Earnings #ETHMarketWatch $BTC
Resistance:
~91,000–92,500 (first line)$BTC
~100,000+ (major psychological / breakout region) �
Trading Market Signals$BNB
Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will heavily influence next moves.
If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈#ClawdbotTakesSiliconValley #SouthKoreaSeizedBTCLoss #Mag7Earnings #ETHMarketWatch $BTC
Resistance:$ETH ~91,000–92,500 (first line) ~100,000+ (major psychological / breakout region) � Trading Market Signals Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will heavily influence next moves. If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈$SOL #USIranMarketImpact #ETHWhaleMovements #ScrollCoFounderXAccountHacked $XRP
Resistance:$ETH
~91,000–92,500 (first line)
~100,000+ (major psychological / breakout region) �
Trading Market Signals
Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will heavily influence next moves.
If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈$SOL #USIranMarketImpact #ETHWhaleMovements #ScrollCoFounderXAccountHacked $XRP
Resistance:$ETH ~91,000–92,500 (first line) ~100,000+ (major psychological / breakout region) � Trading Market Signals Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will $BNB heavily influence next moves. If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈#ETHMarketWatch #WEFDavos2026 #TrumpCancelsEUTariffThreat $BTC
Resistance:$ETH
~91,000–92,500 (first line)
~100,000+ (major psychological / breakout region) �
Trading Market Signals
Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will $BNB heavily influence next moves.
If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈#ETHMarketWatch #WEFDavos2026 #TrumpCancelsEUTariffThreat $BTC
عزیز بھائیایک ریستوران میں ایک ایسے عزیز بھائی سے ملاقات $ETH ہوئی جو کئی سال سکاٹ لینڈ رہنے کے بعد اپنے وطن لوٹ آئے تھے۔والدہ ان کی سکاٹ لینڈ کی تھیں اور والد پاکستانی تھے۔شادی کے بعد ماں مسلمان ہو چکی تھیں اور انہوں نے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے اپنے آپ کو وقف کر لیا تھا۔ریستوران میں بیٹھے ہوئے میرے بھائی جن کا نام شہاب تھا وہ بتا رہے تھے کہ جب وہ چھوٹے سے تھے تو جمعہ کی نماز سے پہلے میری والدہ میرا لباس کمرے میں لاتے ہوئے کہتیں۔ ”شہاب بیٹا ان کو غسل کرکے پہن لو۔میں چھوٹی بہن کو تیار کر رہی ہوں تاکہ تمہارے والد کے ساتھ ہم لوگ بھی مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے جا سکیں۔“ میں اکثر کہتا۔”ماما اس وقت میرا موڈ نہیں ہے پلیز مجھے مت لے کر جائیں“۔ (جاری ہے) ”بیٹا تم مسلمان ہو کر اس طرح کی باتیں کرتے ہو‘نماز پڑھو گے تو دیکھنا اللہ کس قدر خوش ہو گا“۔ ”کیا چاکلیٹ کھانے کیلئے دے گا“۔ ”بہت کچھ دے گا․․․․تم ان نعمتوں کا تصور بھی نہیں کر رہے جو اس نے تمہیں دینی ہیں“۔ ”ارے چھوڑیں ماما ان نعمتوں کو پہلے مجھے بتائیں اللہ چاکلیٹ دے گا کہ نہیں“۔ ماما مسکرائیں اور کہتیں”اپنے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر دیکھو شاید اللہ میاں نے چاکلیٹ یہاں رکھ دی ہو“۔میں جھٹ سے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالتا تو وہاں سے پیکٹ مل جاتا اور مسکراتا ہوا اپنا لباس پکڑ کر غسل خانے کی طرف بھاگتا اور جاتے جاتے یہ کہتا”ماما اللہ میاں کتنا اچھا ہے‘اس نے فوراً چاکلیٹ آسمان سے پھینک دی ہے۔“میرا ننھا سا ذہن اس وقت یہی محسوس کرتا کہ اللہ نے سچ مچ چاکلیٹ اوپر سے بھیجی ہے۔ میں تیار ہو کر خوشی خوشی اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں چلا جاتا۔وہاں پر کئی پاکستانی اپنے خاندانوں کے ساتھ نظر آتے۔مگر وہاں کی عورتیں خاص کرکے میری ماں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر حیرت زدہ ہوتیں۔ان سے کبھی کبھار سوال بھی کرتیں۔ ”کیا واقعی آپ مسلمان ہو چکی ہیں“۔میری ماں اپنے لبوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے یہی کہتیں۔”میں مسلمان ہوں۔آپ کو کوئی شک ہے؟“ تو پوچھنے والی خواتین کھسیانی سی ہو جاتیں۔میری ماں ان کو لاجواب پا کر بوتلیں۔ ”میں سچی اور پکی مسلمان ہوں‘بلکہ میں اپنے بچوں کو بھی پکا مسلمان بنا رہی ہوں۔صرف کلمہ پڑھ کر مسلمان تھوڑی ہوتا ہے بلکہ تمام اسلامی احکامات پر $BTC پورا اُترنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔سو میں اپنے خاندان کے ساتھ پورا کر رہی ہوں۔ماں کی باتیں اور طرز زندگی نے ہمیں سیدھے راستے پر ڈال دیا ہے۔جب بھی رمضان شریف آتا ہے مجھے اپنی والدہ بہت یاد آتی ہیں‘گو وہ اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ہمیں روزہ رکھنے کی اتنی عادت ڈال چکی ہیں کہ بیماری کے دوران بھی ایک روزہ نہیں چھوڑتا۔سچ جانیں اور انگریز عورتوں کی طرح اگر میری ماں بھی چاہتی تو اس طرح کی تربیت نہ کرتی۔بعض انگریز عورتیں مسلمان تو ہو جاتی ہیں مگر اندر سے وہ مسیحی ہی رہتی ہیں آج ہم جو کچھ بھی ہیں خدا کے بعد اپنی ماں کی بدولت صحیح مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔“ شہاب بھائی دھیرے دھیرے سوپ پیتے ہوئے اپنے بارے میں سب کچھ بتا رہے تھے۔میں سوچ رہی تھی کہ ہم لوگ تو مسلمان ہونے کا صرف دعویٰ ہی کرتے ہیں مگر عملی طور پر ہم لوگ منافق ہیں۔کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ہم سے تو یہ قوم ہی اچھی ہے‘جو روزے بھی دل کے ساتھ رکھتی ہیں اور اس پر پورا اُترتی ہے۔اس وقت اس بھائی کی والدہ موجود نہیں ہے۔مگر ان کی دی ہوئی تعلیم زندگی بھر ان کے ساتھ رہے گی۔$BNB $

عزیز بھائی

ایک ریستوران میں ایک ایسے عزیز بھائی سے ملاقات $ETH ہوئی جو کئی سال سکاٹ لینڈ رہنے کے بعد اپنے وطن لوٹ آئے تھے۔والدہ ان کی سکاٹ لینڈ کی تھیں اور والد پاکستانی تھے۔شادی کے بعد ماں مسلمان ہو چکی تھیں اور انہوں نے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے اپنے آپ کو وقف کر لیا تھا۔ریستوران میں بیٹھے ہوئے میرے بھائی جن کا نام شہاب تھا وہ بتا رہے تھے کہ جب وہ چھوٹے سے تھے تو جمعہ کی نماز سے پہلے میری والدہ میرا لباس کمرے میں لاتے ہوئے کہتیں۔
”شہاب بیٹا ان کو غسل کرکے پہن لو۔میں چھوٹی بہن کو تیار کر رہی ہوں تاکہ تمہارے والد کے ساتھ ہم لوگ بھی مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے جا سکیں۔“
میں اکثر کہتا۔”ماما اس وقت میرا موڈ نہیں ہے پلیز مجھے مت لے کر جائیں“۔

(جاری ہے)

”بیٹا تم مسلمان ہو کر اس طرح کی باتیں کرتے ہو‘نماز پڑھو گے تو دیکھنا اللہ کس قدر خوش ہو گا“۔

”کیا چاکلیٹ کھانے کیلئے دے گا“۔
”بہت کچھ دے گا․․․․تم ان نعمتوں کا تصور بھی نہیں کر رہے جو اس نے تمہیں دینی ہیں“۔
”ارے چھوڑیں ماما ان نعمتوں کو پہلے مجھے بتائیں اللہ چاکلیٹ دے گا کہ نہیں“۔
ماما مسکرائیں اور کہتیں”اپنے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر دیکھو شاید اللہ میاں نے چاکلیٹ یہاں رکھ دی ہو“۔میں جھٹ سے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالتا تو وہاں سے پیکٹ مل جاتا اور مسکراتا ہوا اپنا لباس پکڑ کر غسل خانے کی طرف بھاگتا اور جاتے جاتے یہ کہتا”ماما اللہ میاں کتنا اچھا ہے‘اس نے فوراً چاکلیٹ آسمان سے پھینک دی ہے۔“میرا ننھا سا ذہن اس وقت یہی محسوس کرتا کہ اللہ نے سچ مچ چاکلیٹ اوپر سے بھیجی ہے۔
میں تیار ہو کر خوشی خوشی اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں چلا جاتا۔وہاں پر کئی پاکستانی اپنے خاندانوں کے ساتھ نظر آتے۔مگر وہاں کی عورتیں خاص کرکے میری ماں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر حیرت زدہ ہوتیں۔ان سے کبھی کبھار سوال بھی کرتیں۔
”کیا واقعی آپ مسلمان ہو چکی ہیں“۔میری ماں اپنے لبوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے یہی کہتیں۔”میں مسلمان ہوں۔آپ کو کوئی شک ہے؟“
تو پوچھنے والی خواتین کھسیانی سی ہو جاتیں۔میری ماں ان کو لاجواب پا کر بوتلیں۔
”میں سچی اور پکی مسلمان ہوں‘بلکہ میں اپنے بچوں کو بھی پکا مسلمان بنا رہی ہوں۔صرف کلمہ پڑھ کر مسلمان تھوڑی ہوتا ہے بلکہ تمام اسلامی احکامات پر $BTC پورا اُترنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔سو میں اپنے خاندان کے ساتھ پورا کر رہی ہوں۔ماں کی باتیں اور طرز زندگی نے ہمیں سیدھے راستے پر ڈال دیا ہے۔جب بھی رمضان شریف آتا ہے مجھے اپنی والدہ بہت یاد آتی ہیں‘گو وہ اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ہمیں روزہ رکھنے کی اتنی عادت ڈال چکی ہیں کہ بیماری کے دوران بھی ایک روزہ نہیں چھوڑتا۔سچ جانیں اور انگریز عورتوں کی طرح اگر میری ماں بھی چاہتی تو اس طرح کی تربیت نہ کرتی۔بعض انگریز عورتیں مسلمان تو ہو جاتی ہیں مگر اندر سے وہ مسیحی ہی رہتی ہیں آج ہم جو کچھ بھی ہیں خدا کے بعد اپنی ماں کی بدولت صحیح مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔“
شہاب بھائی دھیرے دھیرے سوپ پیتے ہوئے اپنے بارے میں سب کچھ بتا رہے تھے۔میں سوچ رہی تھی کہ ہم لوگ تو مسلمان ہونے کا صرف دعویٰ ہی کرتے ہیں مگر عملی طور پر ہم لوگ منافق ہیں۔کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ہم سے تو یہ قوم ہی اچھی ہے‘جو روزے بھی دل کے ساتھ رکھتی ہیں اور اس پر پورا اُترتی ہے۔اس وقت اس بھائی کی والدہ موجود نہیں ہے۔مگر ان کی دی ہوئی تعلیم زندگی بھر ان کے ساتھ رہے گی۔$BNB $
ڈاکوبہت پرانے زمانے کی بات ہے، کسی ملک میں دولت آباد $XRP نامی ایک شہر تھا۔اس شہر میں حامد نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔اس کے ماں باپ بہت غریب تھے۔ اس کے باپ نے اس کو ایک نانبائی کی دکان پر چھوٹے موٹے کام کرنے کے لیے رکھوادیا تھا تاکہ گھر کے اخراجات چلانے میں کچھ آسانی ہوجائے۔دکان کا مالک بشارت نامی ایک نوجوان لڑکا تھا اور بہت نیک دل تھا۔ وہ حامد کو بالکل اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتا تھا اور ہر طرح سے اس کا خیال رکھتا تھا۔بشارت نے اپنی محنت اور ایمانداری کی بدولت کافی شہرت حاصل کرلی تھی اور اس کی دکان خوب چلتی تھی- رات کو جب دکان بند ہوتی تھی تو وہ حامد کو بچے ہوئے کلچے، تافتان اور شیر مال بھی دے دیا کرتا تھا جنہیں حامد گھر لے جاتا اور سب گھر والے رات کا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے تھے- اس کی ماں اگر کسی وجہ سے سالن نہیں پکا پاتی تھی تو وہ لوگ تافتان اور شیر مال دودھ میں بھگو بھگو کر کھا لیا کرتے تھے- حامد کو بشارت نانبائی کی دکان سے جو پیسے ملتے تھے ان پیسوں کو وہ باپ کو دے دیتا تھا- ان کو جمع کرکر کے اس کا باپ ایک بکری بھی خرید لایا تھا جس سے انھیں دودھ کی بھی آسانی ہو گئی تھی- ایک روز کا ذکر ہے کہ نانبائی بشارت کو گھر پر کوئی کام پڑ گیا- اس نے حامد کو جلدی چھٹی دے دی اور خود گھر چلا گیا- چھٹی ملنے پر حامد بہت خوش تھا- اس نے سوچا کہ آج وہ سارا دن گھومے پھرے گا- وہ بازار کی طرف نکل گیا- نانبائی بشارت نے گھر جاتے ہوئے اسے چند سکے بھی دے دئیے تھے اور کہا تھا کہ بازار سے کوئی چیز لے کر کھا لینا- حامد کو جلیبیاں بہت پسند تھیں- اس کو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت محبت تھی- اس نے سوچا کہ وہ گرم گرم جلیبیاں خرید کر گھر لے جائے گا اور سب گھر والوں کے ساتھ کھائے گا- وہ بازار پہنچا تو وہاں بڑی گہماگہمی تھی- دوکانوں پر لوگوں کا رش تھا، ایک طرف بہت سے مزدور ایک قطار میں بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ کوئی انھیں مزدوری کروانے کے لیے ساتھ لے جائے گا- دودھ والے کی دکان پر بیٹھے لوگ بڑے بڑے پیالوں میں دودھ پی رہے تھے- وہ ایک جلیبی کی دکان پر جا کر کھڑا ہوگیا- جلیبی والا بڑے سے تیل کے کڑھاوٴ میں جلیبیاں بنا رہا تھا اور انھیں شیرے کے ٹب میں ڈالتا جا رہا تھا- حامد نے سکے نکالنے کے لیے ابھی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ اس نے ایک عجیب منظر دیکھا، ایک بڑی سی دو گھوڑوں والی بگھی وہاں سے کچھ دور آ کر رکی، اس میں سے ایک بڑی بڑی مونچھوں والا آدمی اترا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے وہاں پر کھڑے ہوئے آٹھ دس سال کے ایک بچے کو اٹھا کر بگھی میں ڈالا اور بگھی چل پڑی۔ (جاری ہے) یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ نہ تو وہ اس بچے کی شکل دیکھ سکا اور نہ ہی یہ سمجھ سکا کہ ہوا کیا ہے ۔تھوڑی دیر بعد اس کی سمجھ میں یہ آیا کہ بگھی میں بیٹھا ہوا بدمعاش کسی بچے کو اغوا کر کے لے گیا ہے۔ حامد نے فوراً ہی اس بگھی کے پیچھے دوڑ لگا دی، بازار کے لوگ بھی اس واقعہ پر ہکا بکا تھے، اور انہوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا تھا- بگھی میں دو تازہ دم گھوڑے جتے ہوئے تھے، حامد چودہ پندرہ سال کا ایک دبلا پتلا سا لڑکا تھا، وہ اپنی پوری قوت سے بگھی کے پیچھے دوڑا تھا مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پراسرار بگھی نظروں سے اوجھل ہو گئی- حامد مایوس نہیں ہوا تھا- وہ سمجھ گیا تھا کہ اس بچے کو بدمعاش لوگ تاوان کے لیے پکڑ کر لے گئے ہونگے- اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ ان کے ارادوں کو خاک میں ملادے گا- وہ ایک بہادر اور عقلمند لڑکا تھا- زمین کچی اور ریتیلی تھی- وہ بگھی کے پہیوں کے نشان دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگا- وہ چلتا گیا چلتا گیا مگر ایک جگہ اس کو رکنا پڑ گیا- آگے سمندر تھا اور یہاں آکر بگھی کے پہیوں کے نشان غائب ہو گئے تھے- حامد کو بہت مایوسی ہوئی اور وہ ناکام و نامراد واپس لوٹ گیا- اس کا دل اس واقعہ سے بہت افسردہ ہوگیا تھا- وہ بدمعاش نہ جانے کس کی ماں کے لخت جگر کو اغوا کر کے لے گئے تھے- جلیبیوں کا خیال چھوڑ کر وہ سیدھا گھر پہنچا تاکہ ماں کو اس واقعہ کے بارے میں بتائے- جیسے ہی وہ اپنی گلی میں داخل ہوا، اس کو عبدل کے گھر کے سامنے لوگوں کا جھمگٹا نظر آیا- وہ ایک ماہر تعمیراتی کاریگر تھا اور بڑے بڑے وزیروں اور امرا کے محل تعمیر کرتا تھا- بادشاہ کا نیا محل بھی اس نے ہی بنایا تھا- پوچھ گچھ کرنے پر پتہ چلا کہ بازار سے اس کا چھوٹا بیٹا وہ بدمعاش اغوا کر کے لے گیا ہے- عبدل اور اس کی بیوی اس واقعہ سے سخت پریشان تھے، اس کی بیوی کو غش پر غش آرہے تھے اور پاس پڑوس والے ان کو تسلی دے رہے تھے- حامد افسردہ دل کے ساتھ گھر چلا آیا- گھر آ کر اس نے ساری کہانی ماں کو سنائی- ماں سیدھی سادھی تھی، گھبرا کر بولی "حامد تجھے ان بدمعاشوں کے پیچھے نہیں جانا چاہیے تھا- اگر وہ کچھ نقصان پہنچا دیتے تو کیا ہوتا؟"- حامد نے کہا "ماں- فائدہ اور نقصان تو اللہ کے ہاتھ میں ہے- آپ ہی نے تو کہا تھا کہ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر اس کی مدد کرنی چاہیے- میں نے بھی اس بچے کی مدد کرنا چاہی تھی"- اس کی ماں خاموش ہوگئی- ویسے وہ ابھی تک فکرمند تھی- رات کو اس کی ماں نے اسے کسی کام سے بازار بھیجا- وہ ابھی راستے میں ہی تھا کہ کیا دیکھتا ہے وہ ہی بگھی جس میں عبدل کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تھا ایک کھلے میدان میں آ کر رکی- حامد جلدی سے ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا- اس بگھی سے ایک آدمی اترا اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا عبدل کے گھر کی جانب بڑھنے لگا- حامد بھی بڑی احتیاط سے اس کے پیچھے چل پڑا- رات زیادہ ہو گئی تھی، سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے- گلی محلے سنسان پڑے ہوئے تھے- عبدل نے اس واقعہ کے فوراً بعد کوتوالی جا کر اپنے بیٹے کے متعلق رپٹ لکھوادی تھی اور شہر کے کوتوال نے اس کو تسلی دی تھی کہ وہ جلد ہی اس کے بیٹے کو ڈھونڈ نکا لیں گے- کوتوال نے اپنے بہت سے سپاہیوں کو اس کام پر لگا دیا تھا- اسے خدشہ تھا کہ اگر بچہ نہ ملا تو عبدل بادشاہ سے فریاد کرے گا- بادشاہ اس کو بہت اچھی طرح جانتا تھا کیوں کہ اس کا نیا اور خوبصورت محل عبدل کی نگرانی میں ہی بنا تھا، اس وجہ سے کوتوال کو خطرہ تھا کا بادشاہ اس سلسلے میں اس سے باز پرس کرے گا- وہ پراسرار آدمی عبدل کے گھر کے پاس رکا- حامد بھی اس کے بہت قریب پہنچ کر ایک دیوار کی اوٹ میں کھڑا ہوگیا اور تھوڑا سا سر نکال کر اس کو دیکھنے لگا- اس آدمی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک دی- دروازہ کھولنے والا عبدل تھا- وہ یہ سمجھا تھا کہ شائد اس کا بیٹا مل گیا ہے اور کوتوال اس کو اپنے ساتھ لایا ہے- اس نے جب دروازہ کھولا تو اس آدمی خوفناک شکل دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا- اس آدمی نے اپنی سخت آواز میں کہا "تمہارا بیٹا ہمارے پاس قید ہے- تم نے بادشاہ کا محل بنایا تھا- تم اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہو تو بادشاہ کے محل کا نقشہ ہمارے حوالے کردو- یہ بات یاد رکھنا کہ تم اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کرو گے ورنہ ہم تمہارے بیٹے کو زندہ نہیں چھوڑیں گے"- اس آدمی کی بات سن کر عبدل کے چہرے سے خوف کے آثار دور ہوگئے- اس نے سخت لہجے میں کہا "بادشاہ سلامت کے محل کے نقشے کو لے کر تم ضرور ان کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتے ہو- پوری رعایا بادشاہ سلامت کی وفادار ہے ، میں بھی ان کا وفادار ہوں - تم کچھ بھی کرلو- میں بادشاہ سلامت سے غداری نہیں $BTC کرسکتا"- اس کی بات سن کر وہ آدمی طیش میں آگیا- اس نے لات مار کر دروازے پر رکھا گملا توڑ دیا اور خونخوار لہجے میں بولا "میں کل اسی وقت پھر آوٴں گا- اچھی طرح سوچ لینا، بادشاہ کی وفاداری چاہتے ہو یا اپنے بیٹے کی زندگی- تم ہمیں جانتے نہیں ہو ہم بہت خطرناک لوگ ہیں"-حامد نے یہ تمام باتیں سن لی تھیں- اس نے جب یہ سنا کہ یہ شخص بادشاہ سلامت کو نقصان پہنچانے کا سوچ رہا ہے تو حامد کو بھی بہت غصہ آیا- اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ ان لوگوں کے عزائم خاک میں ملانے کی پوری کوشش کرے گا- وہ بجلی کی سی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور دبے قدموں دوڑتا ہوا بگھی کے پاس آیا- بگھی کے پیچھے والے حصے میں سامان رکھنے کے لیے لکڑی کا ایک چھوٹا سا کیبن بنا ہوا تھا، اس نے جلدی سے اس کا دروازہ کھولا اور اندر جھانکا- وہ کافی کشادہ تھا اور خالی تھا- حامد جلدی سے اس میں بیٹھ گیا- تھوڑی دیر بعد وہ آدمی بھی واپس آگیا اور بگھی چل پڑی- بگھی کے اس کیبن کی دیوار میں ایک دو جگہ چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے- حامد ان سوراخوں میں سے باہر جھانکنے لگا- تھوڑی دیر بعد بگھی سمندر کے کنارے پہنچ گئی- حامد کو ایک بہت بڑا پانی کا جہاز نظر آیا- بگھی نزدیک پہنچی تو جہاز سے ایک تختہ کھول کر کنارے سے لگا دیا گیا- بگھی اس پر سے ہوتی ہوئی جہاز کے عرشے پر پہنچ گئی- اب حامد کی سمجھ میں یہ بات بھی آگئی کہ بگھی میں دو گھوڑے کیوں جوتے گئے تھے، ایک اکیلا گھوڑا اس ڈھلوان لکڑی کے تختے سے اوپر نہیں چڑھ سکتا تھا- حامد کو کیبن کی دیواروں کے سوراخوں سے جہاز کے عرشے پر تلواروں سے مسلح بہت سارے افراد نظر آئے- یہ سوچ کر اس کے رونگٹے خوف سے کھڑے ہوگئے کہ وہ بحری ڈاکووٴں کے جہاز پر پہنچ گیا ہے- بگھی عرشے پر پہنچی تو اس میں بیٹھا ہوا آدمی نیچے اتر گیا- دو آدمی گھوڑوں کو کھولنے لگے اور پھر بگھی کو ایک کونے میں کھڑا کردیا گیا- حامد اس انتظار میں تھا کہ ڈاکو کھانے پینے سے فارغ ہو کر سوئیں تو وہ اس کیبن سے نکل کر عبدل کے لڑکے کو تلاش کرے- آدھی رات کے وقت سب لوگ سونے کے لیے چلے گئے- بحری جہاز بیچ سمندر میں کھڑا تھا- حامد کو بھوک بھی ستانے لگی تھی- جب ہر طرف خاموشی چھا گئی تو وہ خاموشی سے کیبن سے نکلا- اس کے دائیں طرف باورچی خانہ تھا اور ایک طشت میں خوشبو دار تلی ہوئی مچھلیاں رکھی ہوئی تھیں- اس نے کچھ مچھلیاں ایک تھیلے میں ڈالیں اور وہاں سے نکل گیا- اب وہ جہاز کے اس حصے میں آگیا تھا جہاں اس کے دائیں بائیں ڈاکووٴں کے کمرے تھے اور سب کے دروازے بند تھے- ان کو اس بات کا ذرا سا بھی خدشہ نہیں تھا کہ وہاں پر کوئی آسکتا ہے، اس لیے حامد کو کوئی پہریدار بھی نظر نہیں آ رہا تھا- سامنے جا کر ایک راستہ نیچے جاتا نظر آیا- وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا- یہ ڈاکووٴں کا گودام تھا اور یہاں پر اناج کی بوریاں اور لوٹے ہوئے سامان کے ڈھیر نظر آئے- ایک طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا- کمرے کی کنڈی باہر سے بند تھی اور اندر سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں آ رہی تھیں- حامد نے جھپٹ کر دروازہ کھولا، اندر عبدل کا لڑکا طلحہ موجود تھا- ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے وہ حامد کو پہچانتا تھا- طلحہ نے حامد کو دیکھا تو اس کے گلے سے لگ کر رونے لگا "حامد بھائی- مجھے یہاں سے لے چلو- مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے- یہ مجھے کھانے کو بھی کچھ نہیں دیتے- ان میں سے ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ جب تیرا باپ ہمیں بادشاہ کے محل کا نقشہ دے دیگا تو ہم تجھے کھانے کو بھی دیں گے اور آزاد بھی کر دیں گے- انھیں بادشاہ کے محل کا نقشہ کیوں چاہیے- کیا یہ لوگ بھی بادشاہ سلامت جیسا محل بنانا چاہتے ہیں؟"- طلحہ کی بات پر حامد کو ہنسی آگئی- اس نے ہنسی روک کر طلحہ کو تسلی دی اور تھیلے میں سے مچھلیاں نکال کر اسے دیں- مچھلی دیکھ کر وہ خوش ہوگیا، بھوکا تو تھا ہی، جلدی جلدی کھانے لگا- اسے کھاتا چھوڑ کر حامد دوبارہ دبے قدموں چلتا ہوا باورچی خانے میں آیا اور دوسری کچھ کھانے کی اشیا اور پانی لے کر دوبارہ طلحہ کے پاس آیا- اس کا بھی بھوک کے مارے برا حال تھا وہ بھی کھانے میں شریک ہوگیا- کھانے کے بعد حامد نے اسے بہت سی باتیں سمجھائیں اور اس سے کہا کہ وہ جیسا کہے اس پر عمل کرے- اس کے بعد اس نے طلحہ کو اپنے ساتھ لیا، کمرے کو باہر سے کنڈی لگائی اور دونوں بڑی خاموشی سے چلتے ہوئے بگھی کے پاس آئے اور کیبن کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے- حامد کو اپنے ماں باپ کی فکر ستانے لگی- اس کی گمشدگی سے یقیناً بہت پریشان ہو رہے ہونگے- وہ طلحہ کو لے کر جلد سے جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا مگر وہ لوگ بیچ سمندر میں تھے اور کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں تھا کہ وہ دونوں کنارے تک پہنچ سکتے- اب تو صرف ایک ہی ھل تھا کہ وہ ڈاکو رات کو عبدل سے ملنے جائے اور اس طرح وہ لوگ بھی یہاں سے نکل جائیں- ان لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اس لیے اس پریشانی میں بھی انھیں نیند نے آ غیر اور وہ صبح دیر تک سوتے رہے- باقی دن رات کا انتظار کرتے کرتے گزر گیا- جب اچھی خاصی رات ہوگئی تو ڈاکووٴں کے جہاز نے ساحل کا رخ کیا اور بگھی لکڑی کے تختوں پر سے ہوتی ہوئی خشکی پر آئے اور تیزی سے دولت آباد کی طرف روانہ ہوگئی- طلحہ بہت خوش تھا- اسے اپنی اماں اور ابّا بہت یاد آرہے تھے-ادھر عبدل نے صبح ہوتے ہی بادشاہ سے ملاقات کرکے اسے ساری صورت حال سے واقف کردیا تھا- بادشاہ نے کہا "عبدل ہمیں تم پر فخر ہے- تم نے ہمارے بھلے کو دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے کی بھی پرواہ نہیں کی- ہم تم سے بہت خوش ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ تمہارا بیٹا بازیاب ہوجائے"- عبدل نے کہا "جہاں پناہ- میں نے زندگی میں ایک بات سیکھی ہے کہ کیسے بھی حالت ہوں آدمی کو نہ تو کسی مجرم کی بات ماننی چاہیے اور نہ اسے کسی جرم کا حصہ بننا چاہیے"عبدل نے بادشاہ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ بدمعاش آج رات پھر اس کے پاس آئے گا- بادشاہ نے اسی وقت کوتوال کو طلب کیا اور اس کو ضروری ہدایات دینے لگا- بادشاہ کے حکم کے مطابق کوتوال نے عبدل کے گھر کے چاروں طرف تلواروں سے مسلح سپاہی تعینات کردئیے- ڈاکووٴں کو عبدل سے اس بات کا خطرہ نہیں تھا کہ وہ اس بارے میں کسی کو کچھ بتائے گا کیونکہ اس کا بیٹا ان کے قبضے میں تھا- اس ڈاکو نے کل رات کی طرح بگھی کو پھر اسی میدان میں کھڑا کیا اور خود اس سے اتر کر تیز تیز قدموں سے عبدل کے گھر کی جانب روانہ ہوگیا- جب وہ کچھ دور نکل گیا تو حامد اور طلحہ بھی بگھی سے باہر آئے اور خاموشی سے چھپتے چھپاتے ڈاکو کے پیچھے چل پڑے- ڈاکو جیسے ہی عبدل کے گھر کے نزدیک پہنچا، سپاہیوں نے اسے قابو کرلیا- ڈاکو چلا کر بولا "عبدل تو نے اچھا نہیں کیا- میں اگر تھوڑی دیر تک اپنے ساتھیوں کے پاس نہیں پہنچا تو وہ تیرے بیٹے کو قتل کردیں گے"- عین اسی وقت حامد طلحہ کے ساتھ سب لوگوں کے سامنے آگیا-"جھوٹ مت بولو- عبدل چا چا کا بیٹا تو یہ رہا- تمھارے ظالم ساتھی اسے کیسے قتل کریں گے؟"- طلحہ کو دیکھ کر ڈاکو کا منہ حیرت سے کھل گیا- عبدل نے دوڑ کر طلحہ کو گلے سے لگا لیا اور چلا کر بولا "اری دیکھ نیک بخت- ہمارا طلحہ گھر لوٹ آیا ہے"- اس کی چیخ و پکار سن کر طلحہ کی ماں فوراً ہی باہر نکل کر آگئی اور پھر جو وہ طلحہ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روئی ہے تو دیکھنے والوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں- اسی اثنا میں حامد کے ماں باپ بھی وہاں آگئے تھے- اس کی ماں ذرا بھی پریشان نہیں تھی- اس نے حامد کو گلے سے لگایا اور بولی "میں نے تو سب سے کہہ دیا تھا کہ میرا حامد عبدل بھائی کے بیٹے طلحہ کو لے کر ہی آئے گا"- ماں کی یہ بات سن کر طلحہ کو بہت خوشی ہوئی- کوتوال نے ڈاکو کو اسی وقت گرفتار کرکے بادشاہ کے سامنے پیش کیا- وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا-"بادشاہ سلامت یہ ڈاکو اتنے ظالم ہیں کہ انہوں نے طلحہ کو کچھ کھانے کو بھی نہیں دیا تھا"- حامد نے بادشاہ سے کہا- بادشاہ نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولا "تم ایک بہادر لڑکے ہو- ہم تمھاری بہادری سے بہت خوش ہو? ہیں"- پھر وہ کوتوال کی طرف مڑا اور بولا "یہ کیا ہو رہا ہے کوتوال صاحب- چھوٹے چھوٹے بچے بڑے بڑے ڈاکووٴں کو پکڑوا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ مزے سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہوئے ہیں- سمندری ڈاکووٴں کی اتنی ہمت ہوگئی ہے کہ وہ ہمارے محل کا نقشہ حاصل کرکے نہ جانے ہمارے خلاف کونسی سازش کرنا چاہ رہے تھے- کوتوال تمھاری کارکردگی سے ہم سخت مایوس ھوئے ہیں"- بادشاہ کی بات سن کر کوتوال کا خون خشک ہوگیا تھا اور ہاتھ پاوٴں میں لرزہ طاری ہونے لگا- وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کی "میرا تو خیال ہے کہ وہ محل پر شب خون مار کر تخت پر قبضہ کرنا چا رہے تھے- محل کا نقشہ اگر انھیں مل جاتا تو اس سے انھیں محل میں رہنے والوں کے کمروں کی نشاندہی بھی ہوجاتی اور اس بات کا بھی علم ہوجاتا کہ محل میں کتنے پہرے دار اس کی حفاظت پر مامور ہیں"-کوتوال نے شرمندگی سے گردن جھکا لی تھی- اس کو اس بات پر سخت شرمندگی کا احساس ہو رہا تھا کہ وہ سمندری ڈاکو یوں دندناتے پھر رہے تھے- بادشاہ نے اسی وقت جلاد کو طلب کیا اور اس سے کہا "اب ہم اس ڈاکو سے کچھ پوچھیں گے- اگر یہ جواب نہ دے تو تم اس کی گردن اڑا دینا"- جلاد نے اپنی تلوار نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی اور ڈاکو کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا- چمکدار تلوار دیکھ کر ڈاکو کا رنگ فق ہوگیا- بادشاہ نے اس کو مخاطب کر کے کہا "سچ سچ بتاوٴ تم لوگ محل کا نقشہ کیوں لینا چاہتے تھے؟"- ڈاکو نے تھوک نگل کر کہا "بادشاہ سلامت ہمارا سردار بہت لالچی آدمی ہے- وہ محل کے نقشے سے آپ کے خزانوں تک پہنچنا چاہتا تھا تاکہ ان کو چوری کرسکے- خزانے کو چوری کر کے وہ بہت امیر آدمی بننا چاہتا تھا"-بادشاہ نے کہا- "وہ خزانہ ہمارا نہیں ہے، ہماری رعایا کا ہے- وہ اگر چوری ہو جاتا تو پھر ہم اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی بغیر پیسوں کے کیسے کرتے، اپنی فوج، سپاہیوں اور دوسے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے دیتے- تمہارا جرم بہت بڑا ہے تمہیں اس کی سخت سزا ملے گی"- اس ڈاکو کو جیل میں ڈال دیا گیا- اس کے بعد کوتوال نے بہت سارے سپاہی ساتھ لیے اور حامد سے کہا "اب تم ہمیں اس جگہ لے چلو جہاں سمندر میں وہ جہاز کھڑا ہے- حامد اور کوتوال ڈاکووٴں کی بگھی میں بیٹھے اور حامد کوتوال کو راستہ بتانے لگا- سپاہی چپکے چپکے ان لوگوں کے پیچھے آ رہے تھے- سمندر پر جہاز کھڑا تھا اور اس میں موجود ڈاکو اپنے ساتھ کا انتظار کررہے تھے- بگھی دیکھ کر ڈاکو یہ سمجھے کہ ان کا ساتھی آگیا ہے- اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ کوتوال اور حامد کی شکلیں نہیں دیکھ سکے تھے- جیسے ہی لکڑی کے بڑے سے تختے نے ساحل کو چھوا، کوتوال کے سارے چھپے ہوئے سپاہی باہر نکل آئے اور اس تختے کی مدد سے جہاز کے اوپر چڑھ کر ڈاکووٴں پر ہلا بول دیا- ڈاکو بے خبری میں پکڑے گئے، چند ایک ڈاکووٴں نے گھبرا کر سمندر میں چھلانگ لگا دی- کوتوال کے حکم پر اس کے سپاہی بھی سمندر میں کود گئے اور بھاگنے والے ڈاکووٴں کو بھی گرفتار کر لیا- ان کا سردار جہاز کے تہہ خانے میں بیٹھا سونے کے سکوں کی بوری کھول کر سکے گن رہا تھا، اس کو بھی گرفتار کر لیا گیا-ڈاکووٴں کے جہاز سے بہت سارا لوٹا ہوا مال برآمد ہوا تھا- بادشاہ نے ان تمام چیزوں کو ان لوگوں کو واپس کردیا جن کو لوٹ کر ڈاکووٴں نے اسے جمع کیا تھا- عبدل کو بادشاہ سے وفاداری کے بدلے اور حامد کو اس کی بہادری کے صلے میں بادشاہ نے دو دو ہزار اشرفیاں انعام میں دیں - عبدل تو خیر پہلے ہی سے بہت امیر تھا مگر بادشاہ کے انعام کی وجہ سے حامد اور اس کے گھر والوں کے دن پھر گئے تھے-اگلے روز جب حامد حسب معمول دکان پر پہنچا تو بشارت نانبائی نے اس کی بڑی آوٴبھگت کی- اس نے کہا "حامد اب تو تم ایک امیر لڑکے ہوگئے ہو- بادشاہ سلامت تمھاری بہادری سے بہت خوش ہو? ہیں- مجھے پتہ ہے کہ اب تم میری دکان پر کام نہیں کرو گے"-حامد نے ہنس کر کہا "بادشاہ سلامت نے مجھے جتنی بھی اشرفیاں دی تھیں وہ تو میری ماں نے لے لی ہیں- میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے- اگر میں نے کام کرنا چھوڑ دیا تو پھر جلیبیاں کہاں سے خریدوں گا- اور جناب میرا تو یہ خیال ہے کہ آدمی کے پاس چاہے جتنی بھی دولت آجائے، اسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے، کچھ نہ کچھ کرتے رہنے میں ہی بھلائی ہے"-اس کی بات سن کر بشارت نانبائی بہت خوش ہوا اور بولا "حامد میرا دل کہتا ہے کہ تم اپنی بہادری، خدا ترسی اور اچھے خیالات کی وجہ سے ایک روز بہت بڑے آدمی بنو گے"- حامد نے مسکراتے ہوئے جھک کر اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر دکان کے کاموں میں لگ گیا-$SOL

ڈاکو

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، کسی ملک میں دولت آباد $XRP نامی ایک شہر تھا۔اس شہر میں حامد نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔اس کے ماں باپ بہت غریب تھے۔ اس کے باپ نے اس کو ایک نانبائی کی دکان پر چھوٹے موٹے کام کرنے کے لیے رکھوادیا تھا تاکہ گھر کے اخراجات چلانے میں کچھ آسانی ہوجائے۔دکان کا مالک بشارت نامی ایک نوجوان لڑکا تھا اور بہت نیک دل تھا۔ وہ حامد کو بالکل اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتا تھا اور ہر طرح سے اس کا خیال رکھتا تھا۔بشارت نے اپنی محنت اور ایمانداری کی بدولت کافی شہرت حاصل کرلی تھی اور اس کی دکان خوب چلتی تھی- رات کو جب دکان بند ہوتی تھی تو وہ حامد کو بچے ہوئے کلچے، تافتان اور شیر مال بھی دے دیا کرتا تھا جنہیں حامد گھر لے جاتا اور سب گھر والے رات کا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے تھے- اس کی ماں اگر کسی وجہ سے سالن نہیں پکا پاتی تھی تو وہ لوگ تافتان اور شیر مال دودھ میں بھگو بھگو کر کھا لیا کرتے تھے- حامد کو بشارت نانبائی کی دکان سے جو پیسے ملتے تھے ان پیسوں کو وہ باپ کو دے دیتا تھا- ان کو جمع کرکر کے اس کا باپ ایک بکری بھی خرید لایا تھا جس سے انھیں دودھ کی بھی آسانی ہو گئی تھی- ایک روز کا ذکر ہے کہ نانبائی بشارت کو گھر پر کوئی کام پڑ گیا- اس نے حامد کو جلدی چھٹی دے دی اور خود گھر چلا گیا- چھٹی ملنے پر حامد بہت خوش تھا- اس نے سوچا کہ آج وہ سارا دن گھومے پھرے گا- وہ بازار کی طرف نکل گیا- نانبائی بشارت نے گھر جاتے ہوئے اسے چند سکے بھی دے دئیے تھے اور کہا تھا کہ بازار سے کوئی چیز لے کر کھا لینا- حامد کو جلیبیاں بہت پسند تھیں- اس کو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت محبت تھی- اس نے سوچا کہ وہ گرم گرم جلیبیاں خرید کر گھر لے جائے گا اور سب گھر والوں کے ساتھ کھائے گا- وہ بازار پہنچا تو وہاں بڑی گہماگہمی تھی- دوکانوں پر لوگوں کا رش تھا، ایک طرف بہت سے مزدور ایک قطار میں بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ کوئی انھیں مزدوری کروانے کے لیے ساتھ لے جائے گا- دودھ والے کی دکان پر بیٹھے لوگ بڑے بڑے پیالوں میں دودھ پی رہے تھے- وہ ایک جلیبی کی دکان پر جا کر کھڑا ہوگیا- جلیبی والا بڑے سے تیل کے کڑھاوٴ میں جلیبیاں بنا رہا تھا اور انھیں شیرے کے ٹب میں ڈالتا جا رہا تھا- حامد نے سکے نکالنے کے لیے ابھی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ اس نے ایک عجیب منظر دیکھا، ایک بڑی سی دو گھوڑوں والی بگھی وہاں سے کچھ دور آ کر رکی، اس میں سے ایک بڑی بڑی مونچھوں والا آدمی اترا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے وہاں پر کھڑے ہوئے آٹھ دس سال کے ایک بچے کو اٹھا کر بگھی میں ڈالا اور بگھی چل پڑی۔

(جاری ہے)

یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ نہ تو وہ اس بچے کی شکل دیکھ سکا اور نہ ہی یہ سمجھ سکا کہ ہوا کیا ہے ۔تھوڑی دیر بعد اس کی سمجھ میں یہ آیا کہ بگھی میں بیٹھا ہوا بدمعاش کسی بچے کو اغوا کر کے لے گیا ہے۔ حامد نے فوراً ہی اس بگھی کے پیچھے دوڑ لگا دی، بازار کے لوگ بھی اس واقعہ پر ہکا بکا تھے، اور انہوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا تھا- بگھی میں دو تازہ دم گھوڑے جتے ہوئے تھے، حامد چودہ پندرہ سال کا ایک دبلا پتلا سا لڑکا تھا، وہ اپنی پوری قوت سے بگھی کے پیچھے دوڑا تھا مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پراسرار بگھی نظروں سے اوجھل ہو گئی- حامد مایوس نہیں ہوا تھا- وہ سمجھ گیا تھا کہ اس بچے کو بدمعاش لوگ تاوان کے لیے پکڑ کر لے گئے ہونگے- اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ ان کے ارادوں کو خاک میں ملادے گا- وہ ایک بہادر اور عقلمند لڑکا تھا- زمین کچی اور ریتیلی تھی- وہ بگھی کے پہیوں کے نشان دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگا- وہ چلتا گیا چلتا گیا مگر ایک جگہ اس کو رکنا پڑ گیا- آگے سمندر تھا اور یہاں آکر بگھی کے پہیوں کے نشان غائب ہو گئے تھے- حامد کو بہت مایوسی ہوئی اور وہ ناکام و نامراد واپس لوٹ گیا- اس کا دل اس واقعہ سے بہت افسردہ ہوگیا تھا- وہ بدمعاش نہ جانے کس کی ماں کے لخت جگر کو اغوا کر کے لے گئے تھے- جلیبیوں کا خیال چھوڑ کر وہ سیدھا گھر پہنچا تاکہ ماں کو اس واقعہ کے بارے میں بتائے- جیسے ہی وہ اپنی گلی میں داخل ہوا، اس کو عبدل کے گھر کے سامنے لوگوں کا جھمگٹا نظر آیا- وہ ایک ماہر تعمیراتی کاریگر تھا اور بڑے بڑے وزیروں اور امرا کے محل تعمیر کرتا تھا- بادشاہ کا نیا محل بھی اس نے ہی بنایا تھا- پوچھ گچھ کرنے پر پتہ چلا کہ بازار سے اس کا چھوٹا بیٹا وہ بدمعاش اغوا کر کے لے گیا ہے- عبدل اور اس کی بیوی اس واقعہ سے سخت پریشان تھے، اس کی بیوی کو غش پر غش آرہے تھے اور پاس پڑوس والے ان کو تسلی دے رہے تھے- حامد افسردہ دل کے ساتھ گھر چلا آیا- گھر آ کر اس نے ساری کہانی ماں کو سنائی- ماں سیدھی سادھی تھی، گھبرا کر بولی "حامد تجھے ان بدمعاشوں کے پیچھے نہیں جانا چاہیے تھا- اگر وہ کچھ نقصان پہنچا دیتے تو کیا ہوتا؟"- حامد نے کہا "ماں- فائدہ اور نقصان تو اللہ کے ہاتھ میں ہے- آپ ہی نے تو کہا تھا کہ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر اس کی مدد کرنی چاہیے- میں نے بھی اس بچے کی مدد کرنا چاہی تھی"- اس کی ماں خاموش ہوگئی- ویسے وہ ابھی تک فکرمند تھی- رات کو اس کی ماں نے اسے کسی کام سے بازار بھیجا- وہ ابھی راستے میں ہی تھا کہ کیا دیکھتا ہے وہ ہی بگھی جس میں عبدل کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تھا ایک کھلے میدان میں آ کر رکی- حامد جلدی سے ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا- اس بگھی سے ایک آدمی اترا اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا عبدل کے گھر کی جانب بڑھنے لگا- حامد بھی بڑی احتیاط سے اس کے پیچھے چل پڑا- رات زیادہ ہو گئی تھی، سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے- گلی محلے سنسان پڑے ہوئے تھے- عبدل نے اس واقعہ کے فوراً بعد کوتوالی جا کر اپنے بیٹے کے متعلق رپٹ لکھوادی تھی اور شہر کے کوتوال نے اس کو تسلی دی تھی کہ وہ جلد ہی اس کے بیٹے کو ڈھونڈ نکا لیں گے- کوتوال نے اپنے بہت سے سپاہیوں کو اس کام پر لگا دیا تھا- اسے خدشہ تھا کہ اگر بچہ نہ ملا تو عبدل بادشاہ سے فریاد کرے گا- بادشاہ اس کو بہت اچھی طرح جانتا تھا کیوں کہ اس کا نیا اور خوبصورت محل عبدل کی نگرانی میں ہی بنا تھا، اس وجہ سے کوتوال کو خطرہ تھا کا بادشاہ اس سلسلے میں اس سے باز پرس کرے گا- وہ پراسرار آدمی عبدل کے گھر کے پاس رکا- حامد بھی اس کے بہت قریب پہنچ کر ایک دیوار کی اوٹ میں کھڑا ہوگیا اور تھوڑا سا سر نکال کر اس کو دیکھنے لگا- اس آدمی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک دی- دروازہ کھولنے والا عبدل تھا- وہ یہ سمجھا تھا کہ شائد اس کا بیٹا مل گیا ہے اور کوتوال اس کو اپنے ساتھ لایا ہے- اس نے جب دروازہ کھولا تو اس آدمی خوفناک شکل دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا- اس آدمی نے اپنی سخت آواز میں کہا "تمہارا بیٹا ہمارے پاس قید ہے- تم نے بادشاہ کا محل بنایا تھا- تم اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہو تو بادشاہ کے محل کا نقشہ ہمارے حوالے کردو- یہ بات یاد رکھنا کہ تم اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کرو گے ورنہ ہم تمہارے بیٹے کو زندہ نہیں چھوڑیں گے"- اس آدمی کی بات سن کر عبدل کے چہرے سے خوف کے آثار دور ہوگئے- اس نے سخت لہجے میں کہا "بادشاہ سلامت کے محل کے نقشے کو لے کر تم ضرور ان کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتے ہو- پوری رعایا بادشاہ سلامت کی وفادار ہے ، میں بھی ان کا وفادار ہوں - تم کچھ بھی کرلو- میں بادشاہ سلامت سے غداری نہیں $BTC کرسکتا"- اس کی بات سن کر وہ آدمی طیش میں آگیا- اس نے لات مار کر دروازے پر رکھا گملا توڑ دیا اور خونخوار لہجے میں بولا "میں کل اسی وقت پھر آوٴں گا- اچھی طرح سوچ لینا، بادشاہ کی وفاداری چاہتے ہو یا اپنے بیٹے کی زندگی- تم ہمیں جانتے نہیں ہو ہم بہت خطرناک لوگ ہیں"-حامد نے یہ تمام باتیں سن لی تھیں- اس نے جب یہ سنا کہ یہ شخص بادشاہ سلامت کو نقصان پہنچانے کا سوچ رہا ہے تو حامد کو بھی بہت غصہ آیا- اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ ان لوگوں کے عزائم خاک میں ملانے کی پوری کوشش کرے گا- وہ بجلی کی سی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور دبے قدموں دوڑتا ہوا بگھی کے پاس آیا- بگھی کے پیچھے والے حصے میں سامان رکھنے کے لیے لکڑی کا ایک چھوٹا سا کیبن بنا ہوا تھا، اس نے جلدی سے اس کا دروازہ کھولا اور اندر جھانکا- وہ کافی کشادہ تھا اور خالی تھا- حامد جلدی سے اس میں بیٹھ گیا- تھوڑی دیر بعد وہ آدمی بھی واپس آگیا اور بگھی چل پڑی- بگھی کے اس کیبن کی دیوار میں ایک دو جگہ چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے- حامد ان سوراخوں میں سے باہر جھانکنے لگا- تھوڑی دیر بعد بگھی سمندر کے کنارے پہنچ گئی- حامد کو ایک بہت بڑا پانی کا جہاز نظر آیا- بگھی نزدیک پہنچی تو جہاز سے ایک تختہ کھول کر کنارے سے لگا دیا گیا- بگھی اس پر سے ہوتی ہوئی جہاز کے عرشے پر پہنچ گئی- اب حامد کی سمجھ میں یہ بات بھی آگئی کہ بگھی میں دو گھوڑے کیوں جوتے گئے تھے، ایک اکیلا گھوڑا اس ڈھلوان لکڑی کے تختے سے اوپر نہیں چڑھ سکتا تھا- حامد کو کیبن کی دیواروں کے سوراخوں سے جہاز کے عرشے پر تلواروں سے مسلح بہت سارے افراد نظر آئے- یہ سوچ کر اس کے رونگٹے خوف سے کھڑے ہوگئے کہ وہ بحری ڈاکووٴں کے جہاز پر پہنچ گیا ہے- بگھی عرشے پر پہنچی تو اس میں بیٹھا ہوا آدمی نیچے اتر گیا- دو آدمی گھوڑوں کو کھولنے لگے اور پھر بگھی کو ایک کونے میں کھڑا کردیا گیا- حامد اس انتظار میں تھا کہ ڈاکو کھانے پینے سے فارغ ہو کر سوئیں تو وہ اس کیبن سے نکل کر عبدل کے لڑکے کو تلاش کرے- آدھی رات کے وقت سب لوگ سونے کے لیے چلے گئے- بحری جہاز بیچ سمندر میں کھڑا تھا- حامد کو بھوک بھی ستانے لگی تھی- جب ہر طرف خاموشی چھا گئی تو وہ خاموشی سے کیبن سے نکلا- اس کے دائیں طرف باورچی خانہ تھا اور ایک طشت میں خوشبو دار تلی ہوئی مچھلیاں رکھی ہوئی تھیں- اس نے کچھ مچھلیاں ایک تھیلے میں ڈالیں اور وہاں سے نکل گیا- اب وہ جہاز کے اس حصے میں آگیا تھا جہاں اس کے دائیں بائیں ڈاکووٴں کے کمرے تھے اور سب کے دروازے بند تھے- ان کو اس بات کا ذرا سا بھی خدشہ نہیں تھا کہ وہاں پر کوئی آسکتا ہے، اس لیے حامد کو کوئی پہریدار بھی نظر نہیں آ رہا تھا- سامنے جا کر ایک راستہ نیچے جاتا نظر آیا- وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا- یہ ڈاکووٴں کا گودام تھا اور یہاں پر اناج کی بوریاں اور لوٹے ہوئے سامان کے ڈھیر نظر آئے- ایک طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا- کمرے کی کنڈی باہر سے بند تھی اور اندر سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں آ رہی تھیں- حامد نے جھپٹ کر دروازہ کھولا، اندر عبدل کا لڑکا طلحہ موجود تھا- ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے وہ حامد کو پہچانتا تھا- طلحہ نے حامد کو دیکھا تو اس کے گلے سے لگ کر رونے لگا "حامد بھائی- مجھے یہاں سے لے چلو- مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے- یہ مجھے کھانے کو بھی کچھ نہیں دیتے- ان میں سے ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ جب تیرا باپ ہمیں بادشاہ کے محل کا نقشہ دے دیگا تو ہم تجھے کھانے کو بھی دیں گے اور آزاد بھی کر دیں گے- انھیں بادشاہ کے محل کا نقشہ کیوں چاہیے- کیا یہ لوگ بھی بادشاہ سلامت جیسا محل بنانا چاہتے ہیں؟"- طلحہ کی بات پر حامد کو ہنسی آگئی- اس نے ہنسی روک کر طلحہ کو تسلی دی اور تھیلے میں سے مچھلیاں نکال کر اسے دیں- مچھلی دیکھ کر وہ خوش ہوگیا، بھوکا تو تھا ہی، جلدی جلدی کھانے لگا- اسے کھاتا چھوڑ کر حامد دوبارہ دبے قدموں چلتا ہوا باورچی خانے میں آیا اور دوسری کچھ کھانے کی اشیا اور پانی لے کر دوبارہ طلحہ کے پاس آیا- اس کا بھی بھوک کے مارے برا حال تھا وہ بھی کھانے میں شریک ہوگیا- کھانے کے بعد حامد نے اسے بہت سی باتیں سمجھائیں اور اس سے کہا کہ وہ جیسا کہے اس پر عمل کرے- اس کے بعد اس نے طلحہ کو اپنے ساتھ لیا، کمرے کو باہر سے کنڈی لگائی اور دونوں بڑی خاموشی سے چلتے ہوئے بگھی کے پاس آئے اور کیبن کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے- حامد کو اپنے ماں باپ کی فکر ستانے لگی- اس کی گمشدگی سے یقیناً بہت پریشان ہو رہے ہونگے- وہ طلحہ کو لے کر جلد سے جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا مگر وہ لوگ بیچ سمندر میں تھے اور کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں تھا کہ وہ دونوں کنارے تک پہنچ سکتے- اب تو صرف ایک ہی ھل تھا کہ وہ ڈاکو رات کو عبدل سے ملنے جائے اور اس طرح وہ لوگ بھی یہاں سے نکل جائیں- ان لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اس لیے اس پریشانی میں بھی انھیں نیند نے آ غیر اور وہ صبح دیر تک سوتے رہے- باقی دن رات کا انتظار کرتے کرتے گزر گیا- جب اچھی خاصی رات ہوگئی تو ڈاکووٴں کے جہاز نے ساحل کا رخ کیا اور بگھی لکڑی کے تختوں پر سے ہوتی ہوئی خشکی پر آئے اور تیزی سے دولت آباد کی طرف روانہ ہوگئی- طلحہ بہت خوش تھا- اسے اپنی اماں اور ابّا بہت یاد آرہے تھے-ادھر عبدل نے صبح ہوتے ہی بادشاہ سے ملاقات کرکے اسے ساری صورت حال سے واقف کردیا تھا- بادشاہ نے کہا "عبدل ہمیں تم پر فخر ہے- تم نے ہمارے بھلے کو دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے کی بھی پرواہ نہیں کی- ہم تم سے بہت خوش ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ تمہارا بیٹا بازیاب ہوجائے"- عبدل نے کہا "جہاں پناہ- میں نے زندگی میں ایک بات سیکھی ہے کہ کیسے بھی حالت ہوں آدمی کو نہ تو کسی مجرم کی بات ماننی چاہیے اور نہ اسے کسی جرم کا حصہ بننا چاہیے"عبدل نے بادشاہ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ بدمعاش آج رات پھر اس کے پاس آئے گا- بادشاہ نے اسی وقت کوتوال کو طلب کیا اور اس کو ضروری ہدایات دینے لگا- بادشاہ کے حکم کے مطابق کوتوال نے عبدل کے گھر کے چاروں طرف تلواروں سے مسلح سپاہی تعینات کردئیے- ڈاکووٴں کو عبدل سے اس بات کا خطرہ نہیں تھا کہ وہ اس بارے میں کسی کو کچھ بتائے گا کیونکہ اس کا بیٹا ان کے قبضے میں تھا- اس ڈاکو نے کل رات کی طرح بگھی کو پھر اسی میدان میں کھڑا کیا اور خود اس سے اتر کر تیز تیز قدموں سے عبدل کے گھر کی جانب روانہ ہوگیا- جب وہ کچھ دور نکل گیا تو حامد اور طلحہ بھی بگھی سے باہر آئے اور خاموشی سے چھپتے چھپاتے ڈاکو کے پیچھے چل پڑے- ڈاکو جیسے ہی عبدل کے گھر کے نزدیک پہنچا، سپاہیوں نے اسے قابو کرلیا- ڈاکو چلا کر بولا "عبدل تو نے اچھا نہیں کیا- میں اگر تھوڑی دیر تک اپنے ساتھیوں کے پاس نہیں پہنچا تو وہ تیرے بیٹے کو قتل کردیں گے"- عین اسی وقت حامد طلحہ کے ساتھ سب لوگوں کے سامنے آگیا-"جھوٹ مت بولو- عبدل چا چا کا بیٹا تو یہ رہا- تمھارے ظالم ساتھی اسے کیسے قتل کریں گے؟"- طلحہ کو دیکھ کر ڈاکو کا منہ حیرت سے کھل گیا- عبدل نے دوڑ کر طلحہ کو گلے سے لگا لیا اور چلا کر بولا "اری دیکھ نیک بخت- ہمارا طلحہ گھر لوٹ آیا ہے"- اس کی چیخ و پکار سن کر طلحہ کی ماں فوراً ہی باہر نکل کر آگئی اور پھر جو وہ طلحہ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روئی ہے تو دیکھنے والوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں- اسی اثنا میں حامد کے ماں باپ بھی وہاں آگئے تھے- اس کی ماں ذرا بھی پریشان نہیں تھی- اس نے حامد کو گلے سے لگایا اور بولی "میں نے تو سب سے کہہ دیا تھا کہ میرا حامد عبدل بھائی کے بیٹے طلحہ کو لے کر ہی آئے گا"- ماں کی یہ بات سن کر طلحہ کو بہت خوشی ہوئی- کوتوال نے ڈاکو کو اسی وقت گرفتار کرکے بادشاہ کے سامنے پیش کیا- وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا-"بادشاہ سلامت یہ ڈاکو اتنے ظالم ہیں کہ انہوں نے طلحہ کو کچھ کھانے کو بھی نہیں دیا تھا"- حامد نے بادشاہ سے کہا- بادشاہ نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولا "تم ایک بہادر لڑکے ہو- ہم تمھاری بہادری سے بہت خوش ہو? ہیں"- پھر وہ کوتوال کی طرف مڑا اور بولا "یہ کیا ہو رہا ہے کوتوال صاحب- چھوٹے چھوٹے بچے بڑے بڑے ڈاکووٴں کو پکڑوا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ مزے سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہوئے ہیں- سمندری ڈاکووٴں کی اتنی ہمت ہوگئی ہے کہ وہ ہمارے محل کا نقشہ حاصل کرکے نہ جانے ہمارے خلاف کونسی سازش کرنا چاہ رہے تھے- کوتوال تمھاری کارکردگی سے ہم سخت مایوس ھوئے ہیں"- بادشاہ کی بات سن کر کوتوال کا خون خشک ہوگیا تھا اور ہاتھ پاوٴں میں لرزہ طاری ہونے لگا- وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کی "میرا تو خیال ہے کہ وہ محل پر شب خون مار کر تخت پر قبضہ کرنا چا رہے تھے- محل کا نقشہ اگر انھیں مل جاتا تو اس سے انھیں محل میں رہنے والوں کے کمروں کی نشاندہی بھی ہوجاتی اور اس بات کا بھی علم ہوجاتا کہ محل میں کتنے پہرے دار اس کی حفاظت پر مامور ہیں"-کوتوال نے شرمندگی سے گردن جھکا لی تھی- اس کو اس بات پر سخت شرمندگی کا احساس ہو رہا تھا کہ وہ سمندری ڈاکو یوں دندناتے پھر رہے تھے- بادشاہ نے اسی وقت جلاد کو طلب کیا اور اس سے کہا "اب ہم اس ڈاکو سے کچھ پوچھیں گے- اگر یہ جواب نہ دے تو تم اس کی گردن اڑا دینا"- جلاد نے اپنی تلوار نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی اور ڈاکو کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا- چمکدار تلوار دیکھ کر ڈاکو کا رنگ فق ہوگیا- بادشاہ نے اس کو مخاطب کر کے کہا "سچ سچ بتاوٴ تم لوگ محل کا نقشہ کیوں لینا چاہتے تھے؟"- ڈاکو نے تھوک نگل کر کہا "بادشاہ سلامت ہمارا سردار بہت لالچی آدمی ہے- وہ محل کے نقشے سے آپ کے خزانوں تک پہنچنا چاہتا تھا تاکہ ان کو چوری کرسکے- خزانے کو چوری کر کے وہ بہت امیر آدمی بننا چاہتا تھا"-بادشاہ نے کہا- "وہ خزانہ ہمارا نہیں ہے، ہماری رعایا کا ہے- وہ اگر چوری ہو جاتا تو پھر ہم اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی بغیر پیسوں کے کیسے کرتے، اپنی فوج، سپاہیوں اور دوسے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے دیتے- تمہارا جرم بہت بڑا ہے تمہیں اس کی سخت سزا ملے گی"- اس ڈاکو کو جیل میں ڈال دیا گیا- اس کے بعد کوتوال نے بہت سارے سپاہی ساتھ لیے اور حامد سے کہا "اب تم ہمیں اس جگہ لے چلو جہاں سمندر میں وہ جہاز کھڑا ہے- حامد اور کوتوال ڈاکووٴں کی بگھی میں بیٹھے اور حامد کوتوال کو راستہ بتانے لگا- سپاہی چپکے چپکے ان لوگوں کے پیچھے آ رہے تھے- سمندر پر جہاز کھڑا تھا اور اس میں موجود ڈاکو اپنے ساتھ کا انتظار کررہے تھے- بگھی دیکھ کر ڈاکو یہ سمجھے کہ ان کا ساتھی آگیا ہے- اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ کوتوال اور حامد کی شکلیں نہیں دیکھ سکے تھے- جیسے ہی لکڑی کے بڑے سے تختے نے ساحل کو چھوا، کوتوال کے سارے چھپے ہوئے سپاہی باہر نکل آئے اور اس تختے کی مدد سے جہاز کے اوپر چڑھ کر ڈاکووٴں پر ہلا بول دیا- ڈاکو بے خبری میں پکڑے گئے، چند ایک ڈاکووٴں نے گھبرا کر سمندر میں چھلانگ لگا دی- کوتوال کے حکم پر اس کے سپاہی بھی سمندر میں کود گئے اور بھاگنے والے ڈاکووٴں کو بھی گرفتار کر لیا- ان کا سردار جہاز کے تہہ خانے میں بیٹھا سونے کے سکوں کی بوری کھول کر سکے گن رہا تھا، اس کو بھی گرفتار کر لیا گیا-ڈاکووٴں کے جہاز سے بہت سارا لوٹا ہوا مال برآمد ہوا تھا- بادشاہ نے ان تمام چیزوں کو ان لوگوں کو واپس کردیا جن کو لوٹ کر ڈاکووٴں نے اسے جمع کیا تھا- عبدل کو بادشاہ سے وفاداری کے بدلے اور حامد کو اس کی بہادری کے صلے میں بادشاہ نے دو دو ہزار اشرفیاں انعام میں دیں - عبدل تو خیر پہلے ہی سے بہت امیر تھا مگر بادشاہ کے انعام کی وجہ سے حامد اور اس کے گھر والوں کے دن پھر گئے تھے-اگلے روز جب حامد حسب معمول دکان پر پہنچا تو بشارت نانبائی نے اس کی بڑی آوٴبھگت کی- اس نے کہا "حامد اب تو تم ایک امیر لڑکے ہوگئے ہو- بادشاہ سلامت تمھاری بہادری سے بہت خوش ہو? ہیں- مجھے پتہ ہے کہ اب تم میری دکان پر کام نہیں کرو گے"-حامد نے ہنس کر کہا "بادشاہ سلامت نے مجھے جتنی بھی اشرفیاں دی تھیں وہ تو میری ماں نے لے لی ہیں- میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے- اگر میں نے کام کرنا چھوڑ دیا تو پھر جلیبیاں کہاں سے خریدوں گا- اور جناب میرا تو یہ خیال ہے کہ آدمی کے پاس چاہے جتنی بھی دولت آجائے، اسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے، کچھ نہ کچھ کرتے رہنے میں ہی بھلائی ہے"-اس کی بات سن کر بشارت نانبائی بہت خوش ہوا اور بولا "حامد میرا دل کہتا ہے کہ تم اپنی بہادری، خدا ترسی اور اچھے خیالات کی وجہ سے ایک روز بہت بڑے آدمی بنو گے"- حامد نے مسکراتے ہوئے جھک کر اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر دکان کے کاموں میں لگ گیا-$SOL
Pasărea Șarpele orbO dată a fost ca într-un sat din Jaleel Pur, trăia un faimos hoț. Povestind despre faptele sale, spune că, într-o zi, mergea să jefuiască împreună cu tovarășii săi. Pe drum, ne-am oprit pentru o vreme să ne odihnim și am văzut că sunt trei palmieri. Dintre aceștia, doi erau plini de fructe, în timp ce al treilea era complet uscat.

Pasărea Șarpele orb

O dată a fost ca într-un sat din Jaleel Pur,
trăia un faimos hoț. Povestind despre faptele sale, spune că, într-o zi, mergea să jefuiască împreună cu tovarășii săi. Pe drum, ne-am oprit pentru o vreme să ne odihnim și am văzut că sunt trei palmieri. Dintre aceștia, doi erau plini de fructe, în timp ce al treilea era complet uscat.
Țăran Leopard VulpeO zi, doi vânători au văzut un leopard. Ei au început să-l urmărească. Leopardul a scăpat de ei și a fugit, dar vânătorii erau tineri și puternici. Ei alergau foarte repede. Leopardul a gândit: „Vânătorii mă vor prinde și mă vor ucide! Ce pot face?” Apoi, departe, a auzit un sunet de muzică. Un țăran ara câmpul său și fredona acest cântec: „Eu ară câmpul meu și semăn grânele mele și privesc norii, pe care îi văd aducând ploaie.”

Țăran Leopard Vulpe

O zi, doi vânători au văzut un leopard. Ei au început să-l urmărească.
Leopardul a scăpat de ei și a fugit, dar vânătorii erau tineri și puternici. Ei alergau foarte repede.
Leopardul a gândit: „Vânătorii mă vor prinde și mă vor ucide! Ce pot face?” Apoi, departe, a auzit un sunet de muzică.
Un țăran ara câmpul său și fredona acest cântec: „Eu ară câmpul meu și semăn grânele mele și privesc norii, pe care îi văd aducând ploaie.”
JoacăJoacă era un cal tânăr, care a pătruns în lumea circului și-a deschis ochii, dar nu-i plăcea circul. Îi plăcea să fie liber. Mama lui dorea ca Joacă să se intereseze de învățarea trucurilor de circ. Îi era frică că cei din companie l-ar vinde considerându-l inutil. Ei vindeau adesea animalele născute în circ. Mama lui Joacă credea că dacă el își va demonstra utilitatea învățând trucuri, atunci ar putea rămâne cu mine ca parte permanentă a lumii circului. Chiar și astăzi, maestrul a încercat să-l învețe pe Joacă trucuri, dar el nu a fost interesat, ceea ce l-a făcut pe maestru foarte dezamăgit.

Joacă

Joacă era un cal tânăr, care a pătruns în lumea circului
și-a deschis ochii, dar nu-i plăcea circul. Îi plăcea să fie liber. Mama lui dorea ca Joacă să se intereseze de învățarea trucurilor de circ. Îi era frică că cei din companie l-ar vinde considerându-l inutil. Ei vindeau adesea animalele născute în circ. Mama lui Joacă credea că dacă el își va demonstra utilitatea învățând trucuri, atunci ar putea rămâne cu mine ca parte permanentă a lumii circului. Chiar și astăzi, maestrul a încercat să-l învețe pe Joacă trucuri, dar el nu a fost interesat, ceea ce l-a făcut pe maestru foarte dezamăgit.
Prețul care oscilează sub $90k sugerează $SOL rezistență — având nevoie de un pivot deasupra $92k–$93k pentru a recâștiga structura bullish. � CoinMarketCap Sondajele de sentiment de piață și graficele tehnice aproape de prețurile curente reflectă incertitudine, cu traderii dezbătând dacă să PĂSTREZE, să vândă sau să scurteze. � Reddit On-Chain / Fundamente (Semnale Pozitive): Unele surse de date raportează creșteri ale fluxurilor instituționale, rate de finanțare bullish și o rată de hash în creștere (securitate puternică a rețelei). � WristMart$ETH Balenile acumulând și monedele părăsind schimburile pot reduce presiunea de vânzare disponibilă. �#ETHMarketWatch #BTCVSGOLD #MarketRebound $BNB
Prețul care oscilează sub $90k sugerează $SOL rezistență — având nevoie de un pivot deasupra $92k–$93k pentru a recâștiga structura bullish. �
CoinMarketCap
Sondajele de sentiment de piață și graficele tehnice aproape de prețurile curente reflectă incertitudine, cu traderii dezbătând dacă să PĂSTREZE, să vândă sau să scurteze. �
Reddit
On-Chain / Fundamente (Semnale Pozitive):
Unele surse de date raportează creșteri ale fluxurilor instituționale, rate de finanțare bullish și o rată de hash în creștere (securitate puternică a rețelei). �
WristMart$ETH
Balenile acumulând și monedele părăsind schimburile pot reduce presiunea de vânzare disponibilă. �#ETHMarketWatch #BTCVSGOLD #MarketRebound $BNB
Conectați-vă pentru a explora mai mult conținut
Explorați cele mai recente știri despre criptomonede
⚡️ Luați parte la cele mai recente discuții despre criptomonede
💬 Interacționați cu creatorii dvs. preferați
👍 Bucurați-vă de conținutul care vă interesează
E-mail/Număr de telefon
Harta site-ului
Preferințe cookie
Termenii și condițiile platformei