چڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔
(جاری ہے)
اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ ”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔ ”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔ ”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔ صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔ کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ$SOL نے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“ ”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔ دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں$BNB
”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔$XRP اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔ امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“ ”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔ آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔
(جاری ہے)$BTC کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔چند لمحوں بعد کنڈکٹر نے ٹکٹ کے پیسے مانگے تو جاوید نے پرس نکالا اور پیسے دے کر ٹکٹ لے لیا۔ پھر بس جاوید کے اسٹاپ پر رُکی تو جاوید لوگوں کو آگے پیچھے کرتا ہوا نیچے اُتر گیا۔نیچے اُترتے ہی اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔کوئی ظالم بڑی صفائی سے اس کی جیب صاف کر چکا تھا۔اب اس کو یاد آیا کہ جب اس نے ٹکٹ دینے کے لئے پرس نکالا تھا تو اس کے قریب ہی کھڑے ایک نوجوان کی نظریں اس کے پرس پر تھیں۔ یقینا وہ ایک جیب کترا تھا،مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ جاوید فٹ پاتھ پر کھڑا اپنے نقصان کا اندازہ کرنے لگا۔ تقریباً چھے سو روپے ،شناختی کارڈ اور اُف،وہ ظالم پرس کے ساتھ چیک بھی لے گیا۔ چیک کا خیال آتے ہی اس کی نگاہوں کے سامنے”رانی “ کی معصوم صورت ابھر آئی اور اس کی پریشانی بڑھ گئی۔ جاوید ایک درد مند نوجوان تھا۔اس نے محلے کے چند اپنے جیسے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی ،جس کا مقصد غریب لوگوں کی مدد کرنا تھا۔ان نوجوانوں کی محنت کی وجہ سے کئی غریب خاندان اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے تھے۔ ان غریبوں کی مدد کرنے کے لئے تنظیم کے نوجوان نیک دل اور مال دار حضرات سے چندہ وصول کرتے اور پھر اس چندے سے غریب لڑکیوں کے لئے جہیز وغیرہ خریدتے۔ رانی کے والدین بھی غریب تھے ۔جب رانی کا رشتہ طے ہوا تو ان نوجوانوں کو پتا چل گیا۔انھوں نے فوراً ہی اس غریب بہن کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔اس دن جاوید نے اسی سلسلے میں ایک سیٹھ صاحب سے چندہ لیا تھا،مگر سیٹھ صاحب نے نقد رقم کے بجائے چیک دیا تھا۔ یہ چیک دس ہزار روپے کا تھا۔ آج جاوید کو چیک رانی کے والدین کو پہنچانا تھا، مگر پرس کے ساتھ ،وہ جیب کترا چیک بھی لے اُڑا۔جاوید کو اپنی رقم سے کہیں زیادہ اس چیک کا غم تھا جو اس جیب کترے کے لئے صرف کاغذ کا ٹکڑا تھا،مگر اس کے نہ ملنے سے رانی کی شادی رک سکتی تھی۔ اسی پریشانی میں دس روز گزر گئے ۔اس دوران جاوید نے اخبار میں اشتہار بھی دیا کہ شاید چیک مل جائے،مگر کچھ نہ ہوا۔رانی کی شادی میں پانچ دن رہ گئے تھے ۔لڑکے والوں کا فرنیچر کا مطالبہ جوں کا توں رہا۔رانی کے والدین کے ساتھ جاوید کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ایک روز جاوید اپنے دفتر میں بیٹھا اس سوچ میں گم تھاکہ چپراسی نے ایک خط اسے لا کر دیا ۔خط پر جاوید کا نام لکھا تھا ۔ جاوید نے لفافہ کھولا تو اُچھل پڑا۔اس میں سے وہی چیک نکلا جس کے لئے جاوید پریشان تھا۔لفافے میں چیک کے علاوہ ایک چھوٹا پرچہ بھی پڑا تھا۔ جاوید نے دھڑکتے دل کے ساتھ پرچہ کھولا اور پڑھنے لگا۔لکھا تھا: محترمہ جاوید انور صاحب!السلام علیکم! میں آپ کا مجرم آپ سے مخاطب ہوں ۔آپ کا پرس میں نے ہی لیا تھا۔مانا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ،مگر میں بہت مجبور تھا۔ مجھے روپوں کی سخت ضرورت تھی ۔دراصل میری بہن ”رانی“ کی شادی ایک اچھے خاندان میں طے ہو گئی ہے ،مگر لڑکے والوں کے مطالبات اتنے زیادہ ہیں کہ مجبوراً مجھے یہ قدم اُٹھانا پڑا۔اُمید ہے کہ آپ اپنے ایک ضرورت مند بھائی کو معاف کر دیں گے۔ ”اور ہاں! آپ کے پرس میں کافی بڑی رقم کا ایک چیک بھی تھا جو میرے کسی کام کا نہ تھا،کیونکہ وہ کر اس چیک تھا اور صرف اسی شخص کے اکاؤنٹ میں جمع ہو سکتا تھا جس کا اس پر نام لکھا ہو ۔لہٰذا وہ چیک آپ کو واپس بھجوا رہا ہوں۔ایک بار پھر آپ سے معافی چاہتا ہوں۔“ ایک بہن کا مجبور بھائی یہ خط پڑھ کر جاوید سوچنے لگا کہ میں نے خود رانی کے لئے یہ چیک حاصل کیا تھا۔ اگر رانی کا بھائی اللہ پر بھروسا کرتا اور کچھ دن اور صبر کرتا تو یہ چیک بھی رانی کے کام آجاتا،مگر اس نے غلط راستہ اختیار کیا ۔خود بھی پریشان ہوا اور مجھے بھی پریشان کیا۔$SOL
اقبال صاحب اور ان کی اہلیہ نسرین اپنی تینوں بیٹیوں $ETH ثنا، فوزیہ اور نور کے ہمراہ دو کمروں کے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔اس سے پہلے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ آبائی گھر میں رہتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ خاندان بڑا ہوا تو سب نے باہمی مشورے سے مکان بیچنے کا فیصلہ کیا۔بڑے بھائیوں نے تو نیا گھر خرید لیا، لیکن اقبال صاحب نے دکان خریدنے کو ترجیح دی۔کافی عرصے دکان پر کام کرنے کی وجہ سے انھیں کام کا اچھا تجربہ ہو گیا تھا۔ان کی رائے تھی کہ معقول آمدنی ہو تو مکان بھی بن جاتا ہے۔رات کے کھانے کے بعد ان کی اہلیہ نے بچیوں کے اسکول کا مسئلہ اُٹھایا، کیونکہ پہلے والا اسکول اب کافی دور ہو گیا تھا۔ ”میں کل ہی بچیوں کے لئے اچھا سا اسکول ڈھونڈتا ہوں۔
(جاری ہے)$BNB ان کا وقت بالکل ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ “ اقبال صاحب بولے۔ تھوڑی دیر میں اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آ گئے۔باتوں باتوں میں بچیوں کے اسکول کا ذکر بھی آیا۔ ”ارے بھئی! بچیوں کے لئے اچھے اسکول کی کیا ضرورت ہے بھلا۔کسی بھی عام سے اسکول میں داخل کرا دو۔پڑھ لکھ کر افسر تھوڑی بن جائیں گی۔شادی کر کے دوسرے گھر ہی تو جانا ہے۔اگر کوئی بیٹا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی۔کم از کم کاروبار میں تمہارا ہاتھ تو بٹاتا۔لڑکیوں پر اتنے پیسے خرچ کرنا تو سراسر بے وقوفی ہے۔“ بھائی نے انتہائی لاپرواہی سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ”بھائی صاحب! یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔“ اقبال صاحب حیرانی سے بولے۔ ”ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں تمہارے بھائی۔بیٹیوں کو تو ویسے بھی پرائے گھر جانا ہوتا ہے تو کیا ضرورت ہے ان پر اتنے پیسے خرچ کرنے کی۔اب دیکھو نا ہمارے ما شاء اللہ! چار بیٹے ہیں۔تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیں گے تو اپنے والد کے ساتھ کاروبار سنبھال لیں گے اور ویسے بھی آج کل تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ! ملازمت تو ملتی نہیں ہے۔بہتر یہی ہے کہ پیسے بچا کر رکھیں۔“ بھابھی نے تو اپنی دانست میں بڑی دور اندیشی کی بات کی تھی۔ بچیوں کی ماں سے رہا نہ گیا اور وہ بھی بول پڑیں:”بھابھی! اچھی تعلیم تو لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے ضروری ہے۔اگر اچھی تعلیم ہو گی تو وہ کاروبار ہی نہیں معاشرے میں بھی کامیاب ہوں گے۔“ ”بھابھی! آج کل یہی بچے ملازمت کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جس سے پیٹ بھی نہ بھر سکے۔“ ”لیکن میں بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے حق میں ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“ اقبال صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔ ”جیسی تمہاری مرضی اقبال! ہم تو جتنا سمجھا سکتے تھے تمہیں ہم نے سمجھا دیا۔اب تم جانو، تمہارا کام جانے۔“ بھائی صاحب نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد اقبال صاحب کی اہلیہ ان سے شکایت کرنے لگیں:”آخر آپ کے گھر والے بچیوں کی تعلیم کے اتنے خلاف کیوں ہیں! کیا ملتا ہے انھیں ایسی باتیں کر کے۔مجھے تو غصہ آ رہا ہے ان کی سوچ پر۔“ ”بیگم! تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔ان باتوں کو نظر انداز کر دیا کرو۔کل جب یہ بچیاں پڑھ لکھ کر ہمارا فخر بنیں گی تو یہی لوگ ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکیں گے۔وقت بہترین جواب ہوتا ہے۔تم بس صبر کرو۔“ وقت گزرتا رہا۔اقبال صاحب کی بچیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتی رہیں۔فوزیہ کو ادب سے خاص لگاؤ تھا۔اس نے کم عمری میں ہی انگریزی شاعری میں نام بنا لیا۔ساتھ ساتھ میڈیکل کی تعلیم بھی جاری رکھی اور پھر فوج میں ایک قابل ڈاکٹر بن گئی۔ثنا بھی پڑھ لکھ کر بینک کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئی۔نور کو وکالت میں دلچسپی تھی تو اقبال صاحب نے اس کا داخلہ شہر کے بہترین لاء کالج میں کرا دیا جہاں وہ تھرڈ ایئر کی طالبہ تھی۔کل تک جن بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کی جا رہی تھی آج وہ اپنے خاندان کا فخر بن گئی تھیں۔ہر کوئی اقبال صاحب اور ان کی بیگم کی اعلیٰ ترتیب کی تعریف کرتا تھا۔پھر ایک دن اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آئے۔وہ کچھ پریشان لگ رہے تھے۔ ”اقبال! تم نے اور نسرین نے جو کہا وہ کر کے دکھا دیا۔ہماری لاکھ مخالفت کے باوجود تم نے بچیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آج میں تمہارے اور ثنا کے پاس ایک خاص کام سے آیا ہوں۔“ ”بھائی صاحب! ہم نے تو بس اپنا فرض ادا کیا۔آپ کہیے۔ہم سے جو ہو سکا،ضرور کریں گے، ان شاء اللہ!“ اتنی دیر میں ثنا بھی چائے لے کر آ گئی۔ ”اصل میں تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ آج کل کاروبار کے حالات کچھ ٹھیک نہیں۔“ بھائی صاحب نے کہنا شروع کیا:”اب بچوں کی بھی شادی ہو گئی ہے، ایسے میں ایک دکان سے گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔میں چاہ رہا تھا کہ ثنا بیٹی اپنے بھائیوں کو کہیں ملازمت پر لگوا دے۔ماشاء اللہ! ہماری بیٹی اتنے بڑے عہدے پر کام کر رہی ہے اور پھر اس کے تعلقات بھی ہیں۔“ بھائی صاحب نے بڑی لجاجت سے بات مکمل کی۔ ”وہ تو ٹھیک ہے تایا ابو!“ ثنا کہنے لگی:”مگر آپ کے بچوں نے تو تعلیم مکمل ہی نہیں کی۔صرف میٹرک کر کے چھوڑ دیا۔اب ایسے میں اچھی نوکری ملنا تو مشکل ہے،لیکن آپ فکر نہ کریں۔میں کوشش کرتی ہوں،ان شاء اللہ!سب بہتر ہو جائے گا۔“ ثنا نے تایا ابو کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔اقبال صاحب کی بھابھی کچھ شرمندہ سی ہو رہی تھیں۔ ”ویسے ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔“ وہ کہنے لگیں:”تعلیم بیچ میں ختم کروا کر ہم نے انھیں کاروبار میں لگا دیا۔اگر وہ بھی تعلیم جاری رکھتے تو آج کچھ بن جاتے۔یہ تو صرف تم اور نسرین ہی تھے جو ہر مشکل برداشت کر گئے، لیکن بچیوں کی تعلیم پہ فرق نہیں آنے دیا۔تعلیم کا جو چراغ تم دونوں نے روشن کیا ہے، ہم اب اسے کبھی بجھنے نہیں دیں گے۔“بھابھی کی اس بات پر سبھی خوشی سے مسکرانے لگے۔اقبال صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی بیگم کی جانب دیکھا جو وقت کے اس جواب سے مطمئن نظر آ رہی تھیں۔$BTC
Short-Term Price & Technical View$BNB Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1$XRP Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1 Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#FedWatch #StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #USIranStandoff $ETH
Short-Term Price & Technical View$BTC Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1 Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1$SOL Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#ClawdbotTakesSiliconValley #ClawdbotSaysNoToken #TokenizedSilverSurge #ClawdbotTakesSiliconValley $XRP
Short-Term Price & Technical View$ETH Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1$BNB Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1 Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #FedWatch $BTC
مجھے بہت نیند آرہی ہے ۔“ایک کوالا نے انگڑائی لیتے $XRP ہوئے دوسرے سے کہا۔ ”ہاں سو جاؤ۔ میں بھی سورہا ہوں پھر اٹھ کر کھانا کھائیں گے۔“دوسرے کوالا نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ ابھی انہیں بیٹھے ہوئے اور اونگھتے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک دور سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں۔وہ دونوں ایک دم بیدار ہو گئے اور سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ ”یہ کیسی آوازیں ہیں؟“ایک کوالا نے دوسرے سے پوچھا۔ ”پتا نہیں ،چلو نیچے اتر کر دیکھتے ہیں۔“دوسرے نے جواب دیا۔ وہ دونوں درخت سے نیچے اتر گئے اور آگے بڑھنے لگے ۔جیسے ہی تھوڑی دور گئے تو ایک دل دہلا دینے والا منظر ان کا منتظر تھا ۔
(جاری ہے)$BTC آسمان نارنجی رنگ کا ہو چکا تھا۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا اور سب جانور افراتفری میں ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے ۔ ”آگ۔۔۔آگ۔۔۔بھاگو۔۔۔جلدی۔۔۔!!“کوئی جانور ان کے قریب سے یہ کہتا ہوا بھاگ نکلا۔ کک ۔۔۔کک ۔۔کیا۔۔۔آ۔۔آ۔۔آگ لگ گئی!مگر کیسے؟“ایک کوالا کے منہ سے مارے خوف کے بے ربط الفاظ نکلے۔ ”بھاگو۔۔جلدی بھاگو۔۔۔جلدی کرو۔“دوسرا کوالا اپنے ساتھی کو کھینچتا ہوا بھاگنے لگا۔ اچانک آگ کا ایک بھڑکتا ہوا شعلہ ان کی طرف لپکا۔وہ دونوں بری طرح سٹپٹا گئے اور جان بچانے کے لئے اندھا دھند بھاگنے لگے ۔وہ اپنی دانست میں بہت تیز بھاگ رہے تھے مگر ہائے ری قسمت!وہ شعلہ ان سے زیادہ تیز رفتار نکلا اور دونوں کو آدبوچا اور دونوں کوالا کے ہاتھوں اور پیروں کو جلا ڈالا۔دونوں کی چیخیں نکل گئیں ۔آن کی آن میں اس تباہ کن آگ نے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔وہ دونوں معصوم کوالا بہت ہی سہم گئے تھے ۔کہیں سے جانوروں کے رونے اور چیخنے کا شور سنائی دے رہا تھا،کہیں سے لکڑیوں کے چٹخنے کی آوازیں آرہی تھیں تو کہیں درختوں کے پتے اور جھاڑیاں جھلس رہے تھیں اور جل جل کر گرتے ہوئے قد آور درختوں نے تو دونوں معصوم کوالا کو شدید خوف زدہ کر دیا تھا۔”امی ۔۔۔امی ۔۔۔کہاں ہیں آپ؟ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز ہمارے پاس آجائیں ۔“ایک کوالا نے روتے ہوئے اپنی ماں کو آواز دی ۔ ”ابو۔۔۔ابو۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟پلیز ہمیں بچالیں۔“دوسرا کوالا بھی مدد کے لئے اپنے باپ کو پکارنے لگا۔مگر کوئی نہ آیا۔نہ جانے ان کے والدین کہاں تھے ۔کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی کوالا اور دوسرے جانور جل کر ختم ہو گئے ! وہ دونوں معصوم کوالا ڈرے سہمے بھاگتے رہے اور شدید خوف میں مبتلا ہوتے رہے ۔جان تو سب ہی کو پیاری ہوتی ہے آخر۔ایسی خوف ناک آگ انھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔وہ دونوں کوالا زور زور سے رونے لگے اور اپنے ماں باپ کو یاد کرنے لگے اور ساتھ ہی آسمان کی طرف منہ کر کے دعائیں مانگنے لگے۔ کوالا(ایک ریچھ نما جانور)درختوں پر رہنے والا آسٹریلیا کا مقامی جانور ہے ۔یہ سبزی خور ممالیہ ہے ۔کوالا جنوبی آسٹریلیا ،کوئنز لینڈ،نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ میں پایا جاتاہے جو کہ آسٹریلیا کے مشرقی اور جنوبی ساحلی علاقے ہیں۔یہ اپنی جسامت اور نقوش کے اعتبار سے آسانی سے پہچانا جاسکتاہے ۔یہ بغیر دُم والا ایک ہٹا کٹا جانور ہے ۔اس کا سر بڑا،کان نرم ملائم اور ناک چمچے کی شکل سے ملتی جلتی ہے ۔کوالا کے جسم کی لمبائی 60سے 85سینٹی میٹر ہوتی ہے اور اس کا وزن 4سے 15کلو ہوتاہے۔اس کی کھال کا رنگ گرے اور چاکلیٹی براؤن ہوتاہے۔کوالا مشرقی آسٹریلیا میں رہتے ہیں جہاں یو کلپٹس کے درخت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ان کے تیز پنجے اور پیروں کی انگلیاں آسانی سے انہیں اونچائی پر رکھتی ہیں ۔کوالا کے لئے یو کلپٹس کے درخت ہی سب کچھ ہیں ۔یہ خوراک کے طور پر اس کے پتے کھاتے ہیں اور زیادہ پانی بھی نہیں پیتے کیونکہ زیادہ ترنمی ان کو یوکلپٹس کے پتوں سے مل جاتی ہے ۔ہر ایک کوالا بہت زیادہ مقدار میں ان پتوں کو کھاتاہے ۔ جنگل کی اس خوفناک آگ سے جنوبی آسٹریلیا میں کم از کم25,000کوالا موت کے منہ میں چلے گئے!جس کے نتائج اتنے تباہ کن ہیں کہ کوالا کی نسل کی ختم ہونے کا خطرہ ہے ۔یہ گول مٹول روئیں والے ممالین جانور 1920اور1930کی دہائیوں میں اپنی کھال کے لئے وسیع پیمانے پر شکار کیے جاتے تھے اور اس کے علاوہ دیگر ماحول دشمن اقدامات سے ان کی آبادی بہت کم ہو کر لاکھوں سے ہزاروں کی تعداد میں ہوگئی تھی۔ آگ ایک درخت سے دوسرے درخت تک تیزی سے پھیلتی ر ی۔شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے ۔دونوں ننھے کوالا امیدوبیم کی کیفیت میں خوف وہراس کا شکار ہو کر بیٹھے تھے کہ اچانک انھوں نے کچھ انسانوں کو اپنی جانب آتا دیکھا۔ ”ارے وہ دیکھو!کچھ لوگ ہماری طرف آرہے ہیں۔“ایک کوالا نے دوسرے سے کہا۔ ”یہ لوگ کیوں آرہے ہیں ؟مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔“دوسرے کوالا کے لہجے میں خوف تھا۔ دونوں کوالا بچے اتنے سہمے ہوئے تھے کہ لوگوں کو اپنے قریب آتا دیکھ کر دوبارہ رونے لگے ۔اتنے میں وہ لوگ ان کے نزدیک پہنچ گئے ۔کچھ لوگوں نے کافی جانوروں کو آگ میں سے نکالا ،کسی نے کپڑے ڈال کر بچایا تو کوئی پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا۔ان دونوں کو بھی کسی نے بہت پیار سے اپنی گود میں اٹھالیا اور جنگل سے باہر لے گئے ۔باہر بہت سی گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں ۔ان لوگوں کی گود میں جاکر بچوں کا ڈر خوف جاتا رہا اور وہ قدے پر سکون ہو گئے ،جیسے کسی پنا گاہ میں آگئے ہوں۔ پھر ان لوگوں نے دونوں کوالا کے زخموں پر مرہم لگایا ،انہیں پانی پلایا اور دوائیں بھی دیں۔یہی عمل باقی تمام جانوروں کے ساتھ کیا گیا۔دونوں کوالا مارے تشکر کے ان لوگوں سے لپٹ گئے جیسے کہ ان کا شکریہ ادا کررہے ہوں۔ پھر ان دونوں کوالا اور دوسرے جانوروں کو گاڑی میں بٹھانے کے بعد کچھ لوگ پھر سے جنگل کی طرف چلے گئے اور کچھ وہیں موجود رہے ۔ ”یہ لوگ ہمیں بچانے کے لئے آئے ہیں۔“ایک کوالا نے دل میں سوچا۔ ”شکر ہے اللہ!ہم بچ گئے ۔“دوسرا کوالا بھی دل ہی دل میں شکر ادا کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر بہت سارے لوگ ایک ساتھ آتے دکھائی دئیے۔جب وہ سب ایک جگہ جمع ہوگئے تو انھوں نے قطاریں بنالیں اور پھر زمین پر جھک گئے ۔ ”ارے ،کیا کر رہے ہیں یہ لوگ اب؟“دونوں کوالے حیران پریشان ہو کر سوچے جارہے تھے ۔پھر انہوں نے ان لوگوں کو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ ”یہ لوگ دعا مانگ رہے ہیں۔“ایک کوالا نے دل ہی دل میں کہا۔ اور پھر دعا ہو گئی قبول ۔۔۔موسم بدلا اور بارش ہونے لگی۔یہ مسلمان تھے جو بارش کے لئے اپنے رب کے حضور ”نماز استسقا“پڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سن لیں ۔نماز استسقا بارش کے لئے پڑھی جاتی ہے ۔جنگل کی آگ اب صرف اور صرف بارشوں سے ہی رک سکتی تھی ۔اس نماز میں مسلمانوں کے ساتھ یہودی اور عیسائی بھی شامل ہو گئے تھے کہ اب دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔بے شک انسان کے پاس تمام تر سہولیات وٹیکنالوجیز موجود ہیں مگر کبھی کبھی ایسی ناگہانی آفات آجاتی ہیں کہ انسان بے بس ہو جاتاہے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی مدد نہیں کر سکتا۔اب بھی مسلسل بارشوں کی ضرورت ہے تاکہ جنگل کی آگ مکمل طور پر بجھ جائے اس لئے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ۔آئیے ہم سب بھی اللہ کے حضور دعا مانگتے ہیں کہ اللہ ان معصوم جانوروں پر رحم کرے اور جنگل کی آگ بجھ جائے ۔آمین۔$SOL
صاحب میری ماں کو بچالیجیے۔ ڈاکٹر چارلاکھ رپے کا $BTC خرچ بتارہے ہیں۔ صاحب ! ماں کو بچالیں۔ میں پیسے اپنی تنخواہ میں سے تھوڑے تھوڑے کرکے واپس کردوں گا۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ الفاظ سن کر احمد سلیم کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ وہ ایک دولت مند آدمی تھے اور لوگوں کی مدد کرنا انھیں اچھا لگتا تھا۔چار لاکھ رپے ان کے لیے معمولی رقم تھی۔ اس شخص کودیکھ کر وہ ماضی کی یادوں میں کھوتے چلے گئے۔ استاد، استاد! میری ماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔ کچھ پیسے دے دو۔ میں تمھارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ یہ پیسے میری تنخواہ سے کاٹ لینا استاد․․․․․․․․“ بارہ سالہ سلیم اپنے استاد کے سامنے گڑگڑا رہاتھا۔
(جاری ہے)$BNB وہ ایک دکان میں مکینک کاکام کرتا تھا۔ حالات نے اس وقت سے پہلے ہی بڑا کردیا تھا۔ اسکول، پڑھائی، کھیل کود، یہ الفاظ اس کی زندگی میں نہیں تھے۔ اس کی زندگی کامقصد تو بس ایک ہی تھا، بیمارماں کی زندگی کی ڈور کوکٹنے نہ دینا اور اپنے سے چھوٹے پانچ بہن بھائیوں کا پیٹ پالنا۔ جس دکان پر سلیم کام کرتا تھا ،ا س کامالک ایک رحم دل آدمی تھا۔ وہ سلیم کی اکثر مددکردیا کرتا تھا۔ تقریباََ ہر مہینے ہی اس کایہ معمول تھا۔کبھی تو مانگے ہوئے پیسے اس کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوتے تھے۔ استاد بھی جانتے تھے کہ بچہ حقیقت میں ضرورت مند ہے، اس لیے وہ کبھی انکار نہ کرتے۔ سلیم بھی استاد کوبابا کی طرح سمجھتا تھا۔ استاد کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ شروع سے ایسی پریشانیوں کاشکار نہیں تھا۔ جب تک سلیم کے والد زندہ تھے، اسے کبھی پانی پینے کے لیے بھی خود اٹھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ سلیم کے چاچا اور ابا کی کپڑے کی مل تھی۔ وہ ایک اچھے اسکول میں پڑھتا تھا۔ اچانک ایک حادثے نے اس کی زندگی کو پلٹ کررکھ دیا۔ اس کے والد کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ والد کے بعد چچانے ساری جائدادا پنے قبضے میں لے کر انھیں ہر طرح سے محتاج کردیا۔ اس کی والدہ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور فالج کاشکار ہوگئیں۔ چچانے اتنی مہربای کی کہ انھیں رہنے کو ایک کمرے کامکان دے دیا۔اب ماں پی اس کاسب کچھ تھی۔ سلیم نے ایک مکینک کی دکان پر کام شروع کردیا۔ ایک دن اس کی اندھیری دنیامزید تاریک ہوگئی۔ اس کی ماں راتوں رات چپ چاپ دوسری دنیا سدھا رگئی۔ استاد ہی نے اس کی ماں کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ سلیم خود کو اپنی ماں کی موت کاذمے دار سمجھ رہاتھا۔ اگلے دن وہ استاد کے پاس گیا، مگرآج وہ ایک فیصلہ کرچکاتھا۔ اس نے استاد سے کچھ پیسے اُدھار لیے اور کچھ سلے سلائے کپڑے خرید کر بیچنے نکلا پڑا۔کم منافع رکھ کر اس نے سارے کپڑے بیچ دیے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنا نام مارکیٹ میں بناتا چلاگیا۔ لوگ آنکھیں بندکرکے اس پر بھروسا کرتے تھے۔ آخر وہ وقت بھی آیاجب اس نے ایک دکان مارکیٹ میں خریدلی۔ اب وہ بایس سال کاہوگیا تھا۔ اس کاشماربڑے کارباری لوگوں میں ہونے لگا۔ چندبرسوں میں اس کاکاروبار پورے شہرمیں پھیل گیا۔ کپڑے کی مل لگانا اس کا خواب تھا، وہ بھی پورا ہوچکاتھا۔شہر بھر میں اس کی شہرت تھی۔ اس کے بہن بھائی بھی اب پڑھ لکھ گئے تھے، مگر احمد سلیم خود نہیں پڑھ سکے۔ اب وہ سیٹھ سلیم کہلاتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی کے بنائے ہوئے کپڑوں کے ڈیزائنوں نے بھی ان کی شہرت کوچارچاند لگادیے۔ اس عرصے میں وہ استاد کونہیں بھولے تھے اور ان کاہر ممکن خیال رکھتے تھے۔ صاحب اپلیز صاحب! بچالو․․․․․․․ یہ ان کاچچازاد بھائی تھا، جو انھیں پہچان نہیں پایاتھا، مگر سیٹھ سلیم اسے پہچانتے تھے۔وقت نے اس کے پورے خاندان کو تباہ کردیا تھا۔ ایک لمحے کو انھوں نے سوچا کہ وہ اسے دھکے دے کر باہر نکلوادیں اور اپنی ماں کی موت کابدلہ لے لیں، لیکن وہ ایک اور ماں کو نہیں کھونا چاہتے تھے۔ اس درد کوان سے بہتر بھلا کون جانتا تھا۔ کوئی بات نہیں، تمھاری ماں میری ماں ہے۔ اس کے علاج کے ذمے داری میری ہے۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔ ان کے دل سے ایک بوجھ اُترچکا تھا۔ اپنی ماں کی موت کا بوجھ، جو وہ ایک ماں کو بچاکر ہی اُتار سکتے تھے$ETH
Resistance:$ETH ~91,000–92,500 (first line) ~100,000+ (major psychological / breakout region) � Trading Market Signals Volume, macro catalysts (rates, ETFs, institutional flows), and breaking news will $BNB heavily influence next moves. If you want, I can break this down into bullish vs bearish scenarios with entry & exit signals tailored to your trading style (swing/long-term/scalping). Just let me know how you’re approaching it! 🚀📈#ETHMarketWatch #WEFDavos2026 #TrumpCancelsEUTariffThreat $BTC