ڈیلا ویر جو امریکہ کی چھوٹی سی ریاست ہے وہاں کے $XRP نرسنگ ہوم میں ایک روز گئی تو ایک مریضہ کو بے ہوش وینٹی لیٹر پر دنیا ومافیہا سے بے نیاز پایا۔میری میزبان بہن نے بتایا کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھا ہواہے۔یہ اس کا شوہر ہے اور یہ نہایت ہی وفادار شوہر ہے۔اکثر اس کی بیوی اس کو کہتی تھی کہ میں اگر مر گئی تو تم دوسری شادی کرلو گے مگر اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ دوسری شادی نہیں کرے گا۔”مگر اس کی بیوی کو ہوا کیا ہے؟۔“مجھے ایک دم سے اس خاتون کو دیکھ کر ترس آیا اور اپنی میزبان خاتون سے سوال کر بیٹھی۔ ”یہ شوگر کی مریضہ تھی اور ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر بھی رہتا تھا۔سٹروک ہوا تو دماغی توازن کے ساتھ ساتھ ٹانگوں سے معذور بھی ہو گئی تھی۔
(جاری ہے)$BTC ڈاکٹروں نے کافی عرصے سے جواب دے دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ یہ خاتون وینٹی لیٹر سے آزاد ہو جائے۔ (وینٹی لیٹر مصنوعی طور پر سانس اور دل کی حرکت چلتی ہے) مگر اس کا شوہر یہی چاہتا ہے کہ یہ زندہ رہے۔وہ امید پر قائم ہے کہ شاید کسی نہ کسی دن وہ دماغی طور پر صحیح ہو جائے گی۔اس کے دل کی حرکت خود بخود چلنے لگے گی اور وہ اپنے قدموں سے چل پھر سکے گی۔یہاں کے ڈاکٹروں نے بے شک جواب دے دیاہے مگر وہ اس چیز کو نہیں مانتا۔اس کے دو جوان بیٹے اسی شہر میں اپنے اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں مگر اس شخص کا گھر ٹوٹ گیا ہے۔وہ گھنٹوں یہاں آن کر بیٹھتا ہے ،اخبار پڑھتاہے ،اس سے باتیں کرتا ہے گوکہ وہ بے ہوش ہے مگر وہ باقاعدہ گفتگو کرتاہے اور اس لئے کرتاہے کہ شاید وہ اس کی آواز سن کر ہوش میں آجائے۔“ ”تو کیا ان کے بیٹے ماں کے پاس نہیں آتے ؟انھیں ماں کا خیال نہیں؟“ میری بات کا جواب دیتے ہوئے میری بہن نے بتایا کہ یہ گھرانہ پاکستانی ہے‘بچے بھی ماں کا خیال کرتے ہیں مگر اتنا نہیں کہ جتنا باپ کرتاہے۔بچے یہاں پر اپنے سٹور چلارہے ہیں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اتنا وقت ہی نہیں ملتا۔“ ”بچوں کو چاہئے کہ ماں کو اپنے گھر لے آئیں دونوں بیٹے باری باری ماں کو دیکھ سکتے ہیں۔“میں نے مجبور ہو کر کہہ دیا۔”رکھنے کو تو رکھ لیں‘ان کی بیویاں بھی کام کرتی ہیں گھرمیں دیکھ بھال کرنے کے لئے باقاعدہ پورا سٹاف ہونا چاہئے‘اس لئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا ضروری سمجھاہے کہ بروقت اگر ایمرجنسی پڑ جائے تو ہسپتال میں ان پر پوری دیکھ بھال ہو سکے۔اس شخص نے جائیداد بانٹ کر دونوں بیٹوں کو دے دی ہے اور اپنا جو حصہ ہے وہ پورے کا پورا اپنی اہلیہ پر لگا رہا ہے۔ایک پرائیویٹ نرس رات کے لئے اور ایک نرس دن کے لئے مقرر کی ہوئی ہے۔یہاں پر علاج معالجہ ویسے ہی اتنا مہنگا ہے مگر یہ شخص پانی کی طرح پیسہ اپنی اہلیہ پر لٹا رہا ہے کہ شاید یہ بچ جائے۔اسے خود بھی یقین نہیں ہے کہ بچ بھی جائے گی کہ نہیں مگر جب تک سانس تب تک آس والی بات ہے۔وہ امید کا دامن پکڑے ہوئے ہے اور ہر وقت اپنی بیوی کی صحت یابی کی دعا کرتا رہتاہے۔“ نرسنگ ہوم سے نکل کر میں گھر کی سمت آرہی تھی تو رہ رہ کرخیال آرہا تھا کہ اچھی بھلی بیویاں ہوتے ہوئے لوگ دوسری شادیاں رچا لیتے ہیں پھر شوہر اتنے وفادار ثابت نہیں ہوتے‘اکثر عورتیں روتی ہیں اور اپنے غموں کی داستانیں سناتی ہیں کہ ان کے شوہر کتنے ظلم ان پر ڈھاتے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے دوسری شادی رچا لیتے ہیں مگر یہ شخص ایک آزاد ملک میں رہتاہے جہاں لوگ وفاداری بہت جلد تبدیل کر لیتے ہیں لیکن وہ اپنی اہلیہ سے کیا ہوا وعدہ ایفا کررہاہے۔چاہے تو اپنی جان چھڑانے کے لئے اسی کو وینٹی لیٹر سے چھٹکارا دلا سکتاہے مگر شاید خوف خدا ہے یا بیوی کی محبت ہے کہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔مجھے تو انہونی سی بات لگی تھی۔لیکن اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں جو بے وفا بھی ہیں اور وفا شعار بھی۔اس مثال کو آنکھوں سے دیکھ کر میں حقیقتاً متاثر ہوئی اور کافی عرصہ اس شخص کی وفا شعاری میرے ذہن پر چھائی رہی جو شدید بیماری کے باوجود امید کا دامن تھامے ہوئے تھا۔$SOL
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ بڑی سخت گرمی پڑی اور برسات $BTC کا موسم بھی صاف نکل گیا۔تالاب اور جھیلیں خشک ہونے لگیں۔جھیلوں میں مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مرنے لگیں۔بگلوں نے اب دریا کا رخ کیا جہاں بے شمار مچھلیاں رہتی تھیں۔ایک بگلے نے ایک موٹی تازی مچھلی پکڑی اور چونچ میں دبا کر لے اڑاکہ کسی درخت پر بیٹھ کر مزے سے کھاؤں گا،مگر مچھلی بھی طاقتور تھی ،زور سے پھڑ پھڑائی اور یوں بگلے کی چونچ سے آزاد ہو کر نیچے گری۔اتفاق سے بگلا اس وقت ایک کنویں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔مچھلی آزاد ہو کر گری تو کنویں میں آن پڑی۔ اس کنویں کے اندر کئی چھوٹے بڑے مینڈک بہت دنوں سے رہتے تھے۔مچھلی کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔انہوں نے ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی تھی۔
(جاری ہے)$BNB ایک بڑا سا مینڈک ہمت کرکے آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”تم کون ہو؟کہاں سے آئی ہو؟“ مچھلی نے اسے بتایا،”میں پانی کی مخلوق ہوں۔ مجھے مچھلی کہتے ہیں۔میں دریا میں رہتی تھی اور دریا ہی میرا گھر ہے۔“ مینڈک نے حیرانی سے پوچھا”دریا کیا ہوتا ہے؟“ مچھلی نے بتایا،”دریا بہت لمبا چوڑا ہوتا ہے۔اس میں گہرا پانی ہوتا ہے جو بہتا رہتا ہے ۔بہت لمبا چوڑا۔جب پانی بہتا ہے تو لہریں اٹھتی ہیں اور ہمیں جھولا جھلاتی ہیں۔“ مینڈک اچھل کر کنویں کے ایک کنارے پر پہنچا اور وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھا،”کیا دریا اتنا چوڑا ہوتا ہے؟“ مچھلی نے کہا،”نہیں بھائی مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں۔دریا تو کہیں زیادہ چوڑا ہوتاہے۔“ مینڈک پھر اچھلا اور اچھل کر کنویں کے دوسرے کنارے پر گیا۔پھر وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”دریا کیا اتنا لمبا ہوتاہے؟“ مچھلی کو ہنسی آگئی اور وہ کہنے لگی،”نہیں نہیں میاں مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔دریا تو میلوں لمبا ہوتا ہے۔“ مینڈک بڑی بڑی آنکھیں نکال کر مچھلی کو دیکھنے لگا اور بولا،”تم ضرور مجھ سے مذاق کر رہی ہو۔بھلا کوئی دریا ہمارے کنویں سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔تم یا تو میرا مذاق اڑا رہی ہو یا تم نے ضرور کوئی خواب دیکھا ہے۔بھلا سوچنے کی بات ہے کہاں یہ لمبا چوڑا کنواں اور کہاں تمہارا دریا!“ مچھلی بے چاری کیا جواب دیتی۔خاموش ہو گئی اور آہستہ سے مینڈک سے کہنے لگی،”بھائی مینڈک!بات دراصل یہ ہے کہ جب تک تم نے کنویں سے نکل کر باہر کی دنیا نہیں دیکھو گے،تمہیں کسی بات کا یقین نہیں آئے گا۔دنیا دیکھنی ہے اور نئی نئی چیزیں دیکھنی ہیں تو کنویں سے نکلو،مگر مشکل یہ ہے کہ تمہارا کنواں سچ مچ بہت گہرا ہے۔میں سوچتی ہوں کہ بگلے کی چونچ سے تو نکل آئی،مگر اس کنویں سے کس طرح نکلوں گی۔“ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کچھ بچے پانی کی تلاش میں اس طرف آنکلے۔ان کے ہاتھ میں ڈول اور لمبی سی رسی تھی۔ایک لڑکے نے ڈول کو رسی سے باندھ کر کنویں میں ڈالا۔ڈول میں پانی کے ساتھ مچھلی اور مینڈک بھی آگئے۔ ایک لڑکا خوشی سے چلا اٹھا،”دوستو!ڈول تو ہم نے پانی نکالنے کے لئے ڈالا تھا۔یہ مچھلی اور مینڈک کہاں سے آگئے۔“ دوسرا لڑکا بولا،”یہ بے چاری مچھلی اس کنویں میں کہاں سے آگئی۔چلو اسے دریا میں چھوڑ آئیں۔ہمیں تو پانی چاہیے۔“ بڑے رحمدل بچے تھے کہ انہیں مچھلی کے حال پر ترس آگیا۔دوڑتے ہوئے دریا پر گئے اور مچھلی اور مینڈک کو دریا میں چھوڑ آئے۔اگر دریا کا پانی بھی کنویں کے پانی کی طرح شفاف ہوتا تو دریا میں سے پانی لے جایا کرتے۔ مینڈک نے جب دریا دیکھا تو حیران رہ گیا۔اب اسے مچھلی کی باتوں پر یقین آنے لگا اور سوچنے لگا کہ اب میں واپس کنویں میں جاکر دوسرے مینڈکوں کو بتاؤں گا کہ مچھلی جو کچھ کہہ رہی تھی وہ سچ تھا۔میں وہ سب دیکھ کر آرہا ہوں!$ETH
BTC Price Right Now: roughly $BNB $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).* 📉 Short-Term Price Action & Market Mood 🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally: BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. � MarketWatch$ETH This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#CZAMAonBinanceSquare #USPPIJump #BitcoinETFWatch #USGovShutdown $BTC
BTC Price Right Now: roughly $BTC $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).* 📉 Short-Term Price Action & Market Mood 🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally: BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. � MarketWatch$SOL This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#MarketCorrection #WhoIsNextFedChair #USGovShutdown #BitcoinETFWatch $BNB
BTC Price Right Now: roughly $ETH $82,500–$84,000 USD (markets are volatile today, showing a slight dip).* 📉 Short-Term Price Action & Market Mood 🔻 Bitcoin has slipped after a recent rally: BTC has fallen from recent highs and dipped toward the $80,000 support zone, signaling weaker risk appetite among traders. � MarketWatch$BNB This drop comes amid broader market stress and macroeconomic pressure — especially risk-off sentiment pushing investors toward safer assets like gold.#FedHoldsRates #ZAMAPreTGESale #USIranStandoff #PreciousMetalsTurbulence $BTC
”کیا․․․․․!“عافیہ نے جونہی اپنا بستہ کھولا اور اس میں $XRP سے 500 روپے کا نوٹ غائب پایا تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکل پڑا:”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“اس نے اپنے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے خود کلامی کی اور پھر اپنے بستے میں سے تمام کتابیں باہر نکال کر اپنے بستے کا اچھی طرح معائنہ کرنے لگی۔ عافیہ کے اسکول والے ٹھیک دو ہفتے بعد تمام طلبہ کو تعلیمی دورے کے لئے ایک تاریخی مقام پر لے جا رہے تھے۔اسی لئے عافیہ نے اپنے ابو سے 500 روپے لئے تھے۔آج پیسے جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی۔اس نے اپنے بستے سے تمام چیزیں نکال کر باہر پھینک دی تھیں،مگر پیسوں کا تو کہیں نام و نشان ہی نہیں تھا۔ اچانک اس کی نظر زینب پر پڑی۔
(جاری ہے)$BTC اس کے ہاتھ میں 500 روپے کا نوٹ دیکھ کر وہ چونک اُٹھی۔ زینب ایک غریب لڑکی تھی۔اس لئے وہ فیس جمع نہ کرانے کی وجہ سے اسکول کے کسی پروگرام میں نہ جا پاتی تھی۔ عافیہ نے سوچا کہ آخر زینب کے پاس 500 روپے کہاں سے آئے۔یقینا زینب نے اس کے بستے میں سے پیسے چرائے ہوں گے۔عافیہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔اس نے اچانک زینب کی گردن پکڑ کر زور سے ہلا دی۔زینب کی آنکھیں حیرت اور خوف کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں:”یہ․․․․․یہ․․․․․یہ کیا کر رہی ہو؟“اس نے گھبراتے ہوئے بولا۔ ”میں؟میں تو وہی کر رہی ہوں جو مجھے کرنا چاہیے۔میرے بستے سے پیسے چوری کرتے ہوئے تمھیں ذرا شرم نہیں آئی؟“ ”تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟میں بھلا کیوں تمھارے پیسے چوری کرنے لگی؟کیا تم کو میں اتنی گئی گزری لگتی ہوں؟“زینب،عافیہ کا ہاتھ اپنی گردن سے چھڑاتے ہوئے بلند اور سخت لہجے میں بولی۔ ”ٹھیک ہے!میں جا رہی ہوں مس حرا کے پاس۔تمھیں تمھارے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔“یہ کہتے ہوئے عافیہ اسٹاف روم کی طرف جانے لگی۔غصے میں اس نے اپنا ہاتھ اپنی جیب میں ڈالا تو اسے کاغذ جیسا کچھ محسوس ہوا۔جیسے ہی اس نے وہ کاغذ اپنی جیب سے نکالا تو وہ ہکا بکا رہ گئی۔وہ پانچ سو کا نوٹ تھا۔اسے اسی وقت یاد آیا کہ صبح اسکول سے نکلتے ہوئے اس نے وہ پیسے اپنے بستے سے نکال کر اپنی جیب میں ڈال لئے تھے۔شرمندگی اور ندامت کے مارے عافیہ کا سر شرم سے جھک گیا۔اس کی ذرا سی غلط فہمی نے اس کی غریب سہیلی کا دل توڑ دیا تھا اور اب شاید اس ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لئے معافی کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہ تھا$SOL
بیل کو کھونٹے پر بندھا ہوا دیکھ کر طوطا طنز سے $BTC ہنسا”بھائی تمہارے تو کیا ٹھاٹھ ہیں۔دن بھر ہل کھینچنا پڑتا ہے۔کسان کے ڈنڈے بھی کھانے پڑتے ہیں،تب جا کر تمہیں چارہ ملتا ہے۔دن کی چلچلاتی دھوپ بھی تمہیں اپنی پیٹھ پر جھیلنی پڑتی ہے۔“ بیل چارہ کھاتے کھاتے رُکا اور بولا”تمہاری طرح دن بھر چار دانوں کے لئے میلوں میل مارا ماری تو نہیں کرنی پڑتی۔گھر لوٹنے پر اتنا تو طے رہتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لئے پورا چارہ مل جائے گا۔اور پھر جو چارہ کھلائے گا،وہ کام تو لے گا ہی۔بنا محنت کے بنا کام کئے کھانا بھی تو ٹھیک بات نہیں ہے۔تم کوئی کام نہیں کرتے۔چپکے سے کسی کے مکئی کے کھیت میں گھس جاتے ہو۔کسی کے باغ میں چوری چھپے جا کر پھل کترنے لگتے ہو۔“ ”اس طرح کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔
(جاری ہے) طرح طرح کے اچھے پھل کھانے کو مل جاتے ہیں۔ اچھے پھل ڈھونڈنے کے لئے بھی تو محنت کرنی پڑتی ہے۔ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے،اس کا تو مزہ ہی کچھ الگ ہے۔ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔اپنی مرضی کا کھا بھی نہیں سکتے۔تمہارے مالک جو چنے کی اچھی دال کھاتے ہیں،ہم اُن کے آنگن میں جا کر کچھ دانے اس میں سے کھا لیتے ہیں۔تمہارے آنگن کے آم کے پیڑ پر ہر سال مزیدار آم لگتے ہیں۔تم نے کبھی چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ہمیں دیکھو!پکے ہوئے آموں کا مزہ ہم سب سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔تمہارے مالک کسان سے بھی پہلے“ طوطے نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔ بیل کہاں چپ رہنے والا تھا۔وہ اپنے تھوتھن کو ہلا کر بولا”میرا مالک کسان میری حفاظت کرتا ہے،ٹھنڈ اور بارش میں مجھے الگ کوٹھری میں باندھ دیتا ہے۔تمہیں تو باہر کھلے درختوں پر ٹھنڈ،بارش اور اولوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔“ ”ارے بھائی!ہم بھی کسی مکان کے کونے میں جا کر دبک جاتے ہیں۔ہمارا بھی وقت کٹ جاتا ہے۔اچھا بُرا وقت تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔اب ہماری زندگی کو بھی دیکھو آزادی کے فائدے تو ہیں لیکن کبھی ہمیں شکاری مار گراتے ہیں،کبھی کوئی چڑی مار پکڑ کر پنجرے میں بند کر لیتے ہیں۔آسمان میں اُڑتے ہوئے بھی باز عقاب جھپٹا مار کر ہم پر حملہ کر دیتے ہیں۔آزادی ملی ہے تو اس کی کچھ قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔مزہ اور آزادی کوئی مفت میں تھوڑے ہی ملتے ہیں؟“$BNB طوطے نے اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے کہا”ویسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے“ ”تم صحیح کہتے ہو“بیل نے سر ہلا کر کہا”مگر میری زندگی صرف میرے لئے نہیں ہے۔میں جس فصل کو اُگانے میں مدد کرتا ہوں،اس سے پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔میرا مالک مجھے چارہ کھلانے کے بعد ہی کھانا کھاتا ہے۔وہ صبح اُٹھ کر مجھے پہلے چارہ کھلاتا ہے،تب خود کچھ کھاتا ہے۔میری زندگی تمہاری طرح آزاد بھلے ہی نہ ہو،مگر ایک دم بے معنی بھی نہیں ہے۔“طوطے کو بیل کی بات صحیح لگی۔وہ بولا،”ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔قدرت نے ہماری زندگی کو جیسا بنایا ہے،ہمیں ویسے ہی جینا ہے۔اچھا چلتا ہوں“یہ کہہ کر طوطا پھُر سے اُڑ گیا۔بیل دیر تک سر اُٹھائے دیکھتا رہ گیا$
Here’s the latest Bitcoin (BTC) analysis as of $BTC today, Friday, Jan 30, 2026 — combining live data, price trends, market drivers, and forecasts so you get a real-time picture. 📊 Bitcoin (BTC) $82899.00 -$4971.00 (-5.66%) Today 1D$SOL 5D 1M 6M YTD 1Y 5Y Bitcoin live price snapshot: ≈ $82,899 USD and showing weakness in recent trading, with price down from earlier levels.#ZAMAPreTGESale #USIranStandoff #PreciousMetalsTurbulence #MarketCorrection #WhoIsNextFedChair $XRP
Here’s the latest Bitcoin (BTC) analysis as of today, Friday, Jan 30, 2026 — combining live data, price trends, market drivers, and forecasts so you get a real-time picture. 📊 Bitcoin (BTC) $82899.00 -$4971.00 (-5.66%) Today$BNB 1D 5D 1M 6M YTD 1Y 5Y Bitcoin live price snapshot:$ETH ≈ $82,899 USD and showing weakness in recent trading, with price down from earlier levels.#TokenizedSilverSurge #VIRBNB #GoldOnTheRise #FedHoldsRates $BTC
بیل کو کھونٹے پر بندھا ہوا دیکھ کر طوطا طنز سے $XRP ہنسا”بھائی تمہارے تو کیا ٹھاٹھ ہیں۔دن بھر ہل کھینچنا پڑتا ہے۔کسان کے ڈنڈے بھی کھانے پڑتے ہیں،تب جا کر تمہیں چارہ ملتا ہے۔دن کی چلچلاتی دھوپ بھی تمہیں اپنی پیٹھ پر جھیلنی پڑتی ہے۔“ بیل چارہ کھاتے کھاتے رُکا اور بولا”تمہاری طرح دن بھر چار دانوں کے لئے میلوں میل مارا ماری تو نہیں کرنی پڑتی۔گھر لوٹنے پر اتنا تو طے رہتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے لئے پورا چارہ مل جائے گا۔اور پھر جو چارہ کھلائے گا،وہ کام تو لے گا ہی۔بنا محنت کے بنا کام کئے کھانا بھی تو ٹھیک بات نہیں ہے۔تم کوئی کام نہیں کرتے۔چپکے سے کسی کے مکئی کے کھیت میں گھس جاتے ہو۔کسی کے باغ میں چوری چھپے جا کر پھل کترنے لگتے ہو۔“ ”اس طرح کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔
(جاری ہے)W $BTC طرح طرح کے اچھے پھل کھانے کو مل جاتے ہیں۔ اچھے پھل ڈھونڈنے کے لئے بھی تو محنت کرنی پڑتی ہے۔ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے،اس کا تو مزہ ہی کچھ الگ ہے۔ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی نہیں جا سکتے۔اپنی مرضی کا کھا بھی نہیں سکتے۔تمہارے مالک جو چنے کی اچھی دال کھاتے ہیں،ہم اُن کے آنگن میں جا کر کچھ دانے اس میں سے کھا لیتے ہیں۔تمہارے آنگن کے آم کے پیڑ پر ہر سال مزیدار آم لگتے ہیں۔تم نے کبھی چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ہمیں دیکھو!پکے ہوئے آموں کا مزہ ہم سب سے پہلے اُٹھاتے ہیں۔تمہارے مالک کسان سے بھی پہلے“ طوطے نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔ بیل کہاں چپ رہنے والا تھا۔وہ اپنے تھوتھن کو ہلا کر بولا”میرا مالک کسان میری حفاظت کرتا ہے،ٹھنڈ اور بارش میں مجھے الگ کوٹھری میں باندھ دیتا ہے۔تمہیں تو باہر کھلے درختوں پر ٹھنڈ،بارش اور اولوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔“ ”ارے بھائی!ہم بھی کسی مکان کے کونے میں جا کر دبک جاتے ہیں۔ہمارا بھی وقت کٹ جاتا ہے۔اچھا بُرا وقت تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔اب ہماری زندگی کو بھی دیکھو آزادی کے فائدے تو ہیں لیکن کبھی ہمیں شکاری مار گراتے ہیں،کبھی کوئی چڑی مار پکڑ کر پنجرے میں بند کر لیتے ہیں۔آسمان میں اُڑتے ہوئے بھی باز عقاب جھپٹا مار کر ہم پر حملہ کر دیتے ہیں۔آزادی ملی ہے تو اس کی کچھ قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔مزہ اور آزادی کوئی مفت میں تھوڑے ہی ملتے ہیں؟“ طوطے نے اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے کہا”ویسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے“ ”تم صحیح کہتے ہو“بیل نے سر ہلا کر کہا”مگر میری زندگی صرف میرے لئے نہیں ہے۔میں جس فصل کو اُگانے میں مدد کرتا ہوں،اس سے پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔میرا مالک مجھے چارہ کھلانے کے بعد ہی کھانا کھاتا ہے۔وہ صبح اُٹھ کر مجھے پہلے چارہ کھلاتا ہے،تب خود کچھ کھاتا ہے۔میری زندگی تمہاری طرح آزاد بھلے ہی نہ ہو،مگر ایک دم بے معنی بھی نہیں ہے۔“طوطے کو بیل کی بات صحیح لگی۔وہ بولا،”ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔قدرت نے ہماری زندگی کو جیسا بنایا ہے،ہمیں ویسے ہی جینا ہے۔اچھا چلتا ہوں“یہ کہہ کر طوطا پھُر سے اُڑ گیا۔بیل دیر تک سر اُٹھائے دیکھتا رہ گیا۔$SOL
چڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $$BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔
(جاری ہے)
اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ ”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔ ”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔ ”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔ صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔ کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“$BNB ”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔ دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں گے۔“$ETH
Current price dynamics:$ETH BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. � The Economic Times +1 Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. � Barron's$BTC 📉 Market sentiment & short-term trend Bearish/cautious signals Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#GoldOnTheRise #FedHoldsRates $BNB #ZAMAPreTGESale #StrategyBTCPurchase
Current price dynamics:$SOL BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. � The Economic Times +1 Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. � Barron's$BTC 📉 Market sentiment & short-term trend Bearish/cautious signals Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#TokenizedSilverSurge #VIRBNB #WhoIsNextFedChair #GoldOnTheRise $XRP
Current price dynamics:$ETH BTC is trading below $90,000, roughly in the $87 K–$88 K range today, showing some bearish pressure and sideways movement after recent volatility and ETF outflows. � The Economic Times +1$BNB Last sessions have seen the price dip slightly — notably falling 1–2% as traders rotate into safer assets like gold. � Barron's 📉 Market sentiment & short-term trend Bearish/cautious signals Weak ETF flows are keeping pressure on BTC and broader crypto sentiment subdued. �#StrategyBTCPurchase #USIranStandoff #ClawdbotSaysNoToken #TSLALinkedPerpsOnBinance $BTC
چڑیا بی منہ میں ایک شاپر لیے جس میں تھوڑے سے $BTC پکے ہوئے چاولوں کے دانے تھے اپنے گھونسلے میں بیٹھ کر ابھی اپنے بچوں کو کھلانے ہی لگی تھی کہ شرارتی کوا جو ماہر شکاریوں کی طرح گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا شاپر اُچک کر یہ جا وہ جا۔چڑیا بیچاری جو اتنی محنت سے اپنا رزق اکٹھا کر کے لائی تھی دل مسوس کر رہ گئی۔وہیں اُس کے بچوں نے چی چی کر کے شور مچایا تو صائم جو صحن میں کتاب لے کر بیٹھا پیپر کی تیاری کر رہا تھا اُن کی طرف متوجہ ہوا۔آج تیسرا دن تھا اُسے صحن میں بیٹھ کر پیپر کی تیاری کرتے ایک دو دفعہ اُس نے کوے کی شرارت دیکھی بھی تھی، شور مچاتے چڑیا کے بچوں کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگا پھر اٹھ کر اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے لگا۔اپنے سوچے پر عمل کر کے وہ دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا، اب اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔
(جاری ہے)
اگلے دن چڑیا نرم روٹی کا ٹکڑا منہ میں دبوچے آ رہی تھی کہ اُسے شرارتی کوا نظر آیا جو ایک درخت کے نیچے بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ ”کوے بھائی! کیا ہوا؟“ چڑیا بی کوے کے پاس جا کر پریشانی سے بولی۔ ”مجھے بخار ہے بہن میں کچھ کھانے کو بھی نہیں لینے جا سکتا“۔اتنا بول کر کوے نے اپنا سر پھر زمین پر رکھ دیا تو چڑیا نے اپنے منہ میں دبایا ہوا ٹکڑا اور پنجوں میں پکڑی ہوئی پنیر کوے کے آگے رکھ دی اور بولی۔”یہ تم کھا لو میں بچوں کے لئے اور لے آتی ہوں۔“بہت شکریہ بہن۔کوے نے کہا۔ ”ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنا ہی نیکی ہے۔“ کہتی ہوئی چڑیا اُڑ گئی۔کوے نے اپنے پر جھاڑے اور بیٹھ کر کھانے لگا۔ ”بیوقوف چڑیا ہونہہ۔“ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے شرارتی کوا نظر نہ آیا۔چڑیا کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ اچانک سے شرارتی کوا آیا اور چڑیا کا لایا کھانا لے کر بھاگنے لگا تو ڈور میں پھنس کر رہ گیا۔ صائم جو کافی دنوں سے کوے کا گھونسلا خالی دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کوا بدل گیا ہے اُسے ڈور سے اُلجھتے دیکھ کر پاس گیا اور بولا۔ ”ہاں بھئی کوے! میں تو سمجھا تھا تم بدل گئے ہو پر نہیں تم ابھی تک کسی کا حق چھین کر کھانے والے کوے ہو۔ایسے ہی لٹکے رہو یہی تمہاری سزا ہے۔“ اتنا بول کر وہ گھر کے اندر چلا گیا۔ کوے کو اپنی چالاکیاں یاد آ رہی تھیں جو وہ معصوم چڑیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ$SOL نے لگے اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔چڑیا کے بچے خوشی سے چہچہا رہے تھے کہ کوے سے اُن کی جان جو چھوٹنے والی تھی، مگر چڑیا اُداس آنکھوں سے کوے کو دیکھ رہی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے کوے کے پاس گئی اور اُسے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شرارتی کوا بولا۔”چڑیا بہن نہ کرو میری یہی سزا ہے۔“ ”نہیں کوے بھائی تمہیں احساس ہو گیا یہی بہت ہے۔“ چڑیا بولی تو ندامت سے مزید کوے کا سر جھک گیا۔صائم جو دکان پر جانے کے لئے باہر آ رہا تھا چڑیا کو جدوجہد کرتے اور کوے کو سر جھکائے ہوئے دیکھ کر پاس آیا اور کوے کے پیروں سے اُلجھی ہوئی ڈور نکالتے ہوئے بولا۔”یہ چڑیا کا تم پر احسان ہے کہ اسے اتنا تنگ کرنے کے باوجود وہ تمہیں آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اُمید ہے تم سدھر جاوٴ گے اور اپنی محنت آپ کے تحت رزق تلاش کر کے کھایا کرو گے۔“ کوے نے اقرار میں سر ہلایا اور دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُڑ گیا۔ دیکھا بچو! ”چڑیا کی رحم دلی نے شرارتی کوے کو بدل دیا تھا۔ہم بھی اپنے اخلاق اور نرم لہجے کی بدولت بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تو آئیے عہد کیجیے ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں$BNB
”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔$XRP اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔ امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“ ”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔ آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔
(جاری ہے)$BTC کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔چند لمحوں بعد کنڈکٹر نے ٹکٹ کے پیسے مانگے تو جاوید نے پرس نکالا اور پیسے دے کر ٹکٹ لے لیا۔ پھر بس جاوید کے اسٹاپ پر رُکی تو جاوید لوگوں کو آگے پیچھے کرتا ہوا نیچے اُتر گیا۔نیچے اُترتے ہی اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔کوئی ظالم بڑی صفائی سے اس کی جیب صاف کر چکا تھا۔اب اس کو یاد آیا کہ جب اس نے ٹکٹ دینے کے لئے پرس نکالا تھا تو اس کے قریب ہی کھڑے ایک نوجوان کی نظریں اس کے پرس پر تھیں۔ یقینا وہ ایک جیب کترا تھا،مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ جاوید فٹ پاتھ پر کھڑا اپنے نقصان کا اندازہ کرنے لگا۔ تقریباً چھے سو روپے ،شناختی کارڈ اور اُف،وہ ظالم پرس کے ساتھ چیک بھی لے گیا۔ چیک کا خیال آتے ہی اس کی نگاہوں کے سامنے”رانی “ کی معصوم صورت ابھر آئی اور اس کی پریشانی بڑھ گئی۔ جاوید ایک درد مند نوجوان تھا۔اس نے محلے کے چند اپنے جیسے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی ،جس کا مقصد غریب لوگوں کی مدد کرنا تھا۔ان نوجوانوں کی محنت کی وجہ سے کئی غریب خاندان اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے تھے۔ ان غریبوں کی مدد کرنے کے لئے تنظیم کے نوجوان نیک دل اور مال دار حضرات سے چندہ وصول کرتے اور پھر اس چندے سے غریب لڑکیوں کے لئے جہیز وغیرہ خریدتے۔ رانی کے والدین بھی غریب تھے ۔جب رانی کا رشتہ طے ہوا تو ان نوجوانوں کو پتا چل گیا۔انھوں نے فوراً ہی اس غریب بہن کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔اس دن جاوید نے اسی سلسلے میں ایک سیٹھ صاحب سے چندہ لیا تھا،مگر سیٹھ صاحب نے نقد رقم کے بجائے چیک دیا تھا۔ یہ چیک دس ہزار روپے کا تھا۔ آج جاوید کو چیک رانی کے والدین کو پہنچانا تھا، مگر پرس کے ساتھ ،وہ جیب کترا چیک بھی لے اُڑا۔جاوید کو اپنی رقم سے کہیں زیادہ اس چیک کا غم تھا جو اس جیب کترے کے لئے صرف کاغذ کا ٹکڑا تھا،مگر اس کے نہ ملنے سے رانی کی شادی رک سکتی تھی۔ اسی پریشانی میں دس روز گزر گئے ۔اس دوران جاوید نے اخبار میں اشتہار بھی دیا کہ شاید چیک مل جائے،مگر کچھ نہ ہوا۔رانی کی شادی میں پانچ دن رہ گئے تھے ۔لڑکے والوں کا فرنیچر کا مطالبہ جوں کا توں رہا۔رانی کے والدین کے ساتھ جاوید کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ایک روز جاوید اپنے دفتر میں بیٹھا اس سوچ میں گم تھاکہ چپراسی نے ایک خط اسے لا کر دیا ۔خط پر جاوید کا نام لکھا تھا ۔ جاوید نے لفافہ کھولا تو اُچھل پڑا۔اس میں سے وہی چیک نکلا جس کے لئے جاوید پریشان تھا۔لفافے میں چیک کے علاوہ ایک چھوٹا پرچہ بھی پڑا تھا۔ جاوید نے دھڑکتے دل کے ساتھ پرچہ کھولا اور پڑھنے لگا۔لکھا تھا: محترمہ جاوید انور صاحب!السلام علیکم! میں آپ کا مجرم آپ سے مخاطب ہوں ۔آپ کا پرس میں نے ہی لیا تھا۔مانا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ،مگر میں بہت مجبور تھا۔ مجھے روپوں کی سخت ضرورت تھی ۔دراصل میری بہن ”رانی“ کی شادی ایک اچھے خاندان میں طے ہو گئی ہے ،مگر لڑکے والوں کے مطالبات اتنے زیادہ ہیں کہ مجبوراً مجھے یہ قدم اُٹھانا پڑا۔اُمید ہے کہ آپ اپنے ایک ضرورت مند بھائی کو معاف کر دیں گے۔ ”اور ہاں! آپ کے پرس میں کافی بڑی رقم کا ایک چیک بھی تھا جو میرے کسی کام کا نہ تھا،کیونکہ وہ کر اس چیک تھا اور صرف اسی شخص کے اکاؤنٹ میں جمع ہو سکتا تھا جس کا اس پر نام لکھا ہو ۔لہٰذا وہ چیک آپ کو واپس بھجوا رہا ہوں۔ایک بار پھر آپ سے معافی چاہتا ہوں۔“ ایک بہن کا مجبور بھائی یہ خط پڑھ کر جاوید سوچنے لگا کہ میں نے خود رانی کے لئے یہ چیک حاصل کیا تھا۔ اگر رانی کا بھائی اللہ پر بھروسا کرتا اور کچھ دن اور صبر کرتا تو یہ چیک بھی رانی کے کام آجاتا،مگر اس نے غلط راستہ اختیار کیا ۔خود بھی پریشان ہوا اور مجھے بھی پریشان کیا۔$SOL
اقبال صاحب اور ان کی اہلیہ نسرین اپنی تینوں بیٹیوں $ETH ثنا، فوزیہ اور نور کے ہمراہ دو کمروں کے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔اس سے پہلے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ آبائی گھر میں رہتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ خاندان بڑا ہوا تو سب نے باہمی مشورے سے مکان بیچنے کا فیصلہ کیا۔بڑے بھائیوں نے تو نیا گھر خرید لیا، لیکن اقبال صاحب نے دکان خریدنے کو ترجیح دی۔کافی عرصے دکان پر کام کرنے کی وجہ سے انھیں کام کا اچھا تجربہ ہو گیا تھا۔ان کی رائے تھی کہ معقول آمدنی ہو تو مکان بھی بن جاتا ہے۔رات کے کھانے کے بعد ان کی اہلیہ نے بچیوں کے اسکول کا مسئلہ اُٹھایا، کیونکہ پہلے والا اسکول اب کافی دور ہو گیا تھا۔ ”میں کل ہی بچیوں کے لئے اچھا سا اسکول ڈھونڈتا ہوں۔
(جاری ہے)$BNB ان کا وقت بالکل ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ “ اقبال صاحب بولے۔ تھوڑی دیر میں اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آ گئے۔باتوں باتوں میں بچیوں کے اسکول کا ذکر بھی آیا۔ ”ارے بھئی! بچیوں کے لئے اچھے اسکول کی کیا ضرورت ہے بھلا۔کسی بھی عام سے اسکول میں داخل کرا دو۔پڑھ لکھ کر افسر تھوڑی بن جائیں گی۔شادی کر کے دوسرے گھر ہی تو جانا ہے۔اگر کوئی بیٹا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی۔کم از کم کاروبار میں تمہارا ہاتھ تو بٹاتا۔لڑکیوں پر اتنے پیسے خرچ کرنا تو سراسر بے وقوفی ہے۔“ بھائی نے انتہائی لاپرواہی سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ”بھائی صاحب! یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔“ اقبال صاحب حیرانی سے بولے۔ ”ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں تمہارے بھائی۔بیٹیوں کو تو ویسے بھی پرائے گھر جانا ہوتا ہے تو کیا ضرورت ہے ان پر اتنے پیسے خرچ کرنے کی۔اب دیکھو نا ہمارے ما شاء اللہ! چار بیٹے ہیں۔تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیں گے تو اپنے والد کے ساتھ کاروبار سنبھال لیں گے اور ویسے بھی آج کل تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ! ملازمت تو ملتی نہیں ہے۔بہتر یہی ہے کہ پیسے بچا کر رکھیں۔“ بھابھی نے تو اپنی دانست میں بڑی دور اندیشی کی بات کی تھی۔ بچیوں کی ماں سے رہا نہ گیا اور وہ بھی بول پڑیں:”بھابھی! اچھی تعلیم تو لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے ضروری ہے۔اگر اچھی تعلیم ہو گی تو وہ کاروبار ہی نہیں معاشرے میں بھی کامیاب ہوں گے۔“ ”بھابھی! آج کل یہی بچے ملازمت کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جس سے پیٹ بھی نہ بھر سکے۔“ ”لیکن میں بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے حق میں ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“ اقبال صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔ ”جیسی تمہاری مرضی اقبال! ہم تو جتنا سمجھا سکتے تھے تمہیں ہم نے سمجھا دیا۔اب تم جانو، تمہارا کام جانے۔“ بھائی صاحب نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد اقبال صاحب کی اہلیہ ان سے شکایت کرنے لگیں:”آخر آپ کے گھر والے بچیوں کی تعلیم کے اتنے خلاف کیوں ہیں! کیا ملتا ہے انھیں ایسی باتیں کر کے۔مجھے تو غصہ آ رہا ہے ان کی سوچ پر۔“ ”بیگم! تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔ان باتوں کو نظر انداز کر دیا کرو۔کل جب یہ بچیاں پڑھ لکھ کر ہمارا فخر بنیں گی تو یہی لوگ ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکیں گے۔وقت بہترین جواب ہوتا ہے۔تم بس صبر کرو۔“ وقت گزرتا رہا۔اقبال صاحب کی بچیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتی رہیں۔فوزیہ کو ادب سے خاص لگاؤ تھا۔اس نے کم عمری میں ہی انگریزی شاعری میں نام بنا لیا۔ساتھ ساتھ میڈیکل کی تعلیم بھی جاری رکھی اور پھر فوج میں ایک قابل ڈاکٹر بن گئی۔ثنا بھی پڑھ لکھ کر بینک کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئی۔نور کو وکالت میں دلچسپی تھی تو اقبال صاحب نے اس کا داخلہ شہر کے بہترین لاء کالج میں کرا دیا جہاں وہ تھرڈ ایئر کی طالبہ تھی۔کل تک جن بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کی جا رہی تھی آج وہ اپنے خاندان کا فخر بن گئی تھیں۔ہر کوئی اقبال صاحب اور ان کی بیگم کی اعلیٰ ترتیب کی تعریف کرتا تھا۔پھر ایک دن اقبال صاحب کے بھائی اور بھابھی ان سے ملنے آئے۔وہ کچھ پریشان لگ رہے تھے۔ ”اقبال! تم نے اور نسرین نے جو کہا وہ کر کے دکھا دیا۔ہماری لاکھ مخالفت کے باوجود تم نے بچیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آج میں تمہارے اور ثنا کے پاس ایک خاص کام سے آیا ہوں۔“ ”بھائی صاحب! ہم نے تو بس اپنا فرض ادا کیا۔آپ کہیے۔ہم سے جو ہو سکا،ضرور کریں گے، ان شاء اللہ!“ اتنی دیر میں ثنا بھی چائے لے کر آ گئی۔ ”اصل میں تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ آج کل کاروبار کے حالات کچھ ٹھیک نہیں۔“ بھائی صاحب نے کہنا شروع کیا:”اب بچوں کی بھی شادی ہو گئی ہے، ایسے میں ایک دکان سے گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔میں چاہ رہا تھا کہ ثنا بیٹی اپنے بھائیوں کو کہیں ملازمت پر لگوا دے۔ماشاء اللہ! ہماری بیٹی اتنے بڑے عہدے پر کام کر رہی ہے اور پھر اس کے تعلقات بھی ہیں۔“ بھائی صاحب نے بڑی لجاجت سے بات مکمل کی۔ ”وہ تو ٹھیک ہے تایا ابو!“ ثنا کہنے لگی:”مگر آپ کے بچوں نے تو تعلیم مکمل ہی نہیں کی۔صرف میٹرک کر کے چھوڑ دیا۔اب ایسے میں اچھی نوکری ملنا تو مشکل ہے،لیکن آپ فکر نہ کریں۔میں کوشش کرتی ہوں،ان شاء اللہ!سب بہتر ہو جائے گا۔“ ثنا نے تایا ابو کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔اقبال صاحب کی بھابھی کچھ شرمندہ سی ہو رہی تھیں۔ ”ویسے ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔“ وہ کہنے لگیں:”تعلیم بیچ میں ختم کروا کر ہم نے انھیں کاروبار میں لگا دیا۔اگر وہ بھی تعلیم جاری رکھتے تو آج کچھ بن جاتے۔یہ تو صرف تم اور نسرین ہی تھے جو ہر مشکل برداشت کر گئے، لیکن بچیوں کی تعلیم پہ فرق نہیں آنے دیا۔تعلیم کا جو چراغ تم دونوں نے روشن کیا ہے، ہم اب اسے کبھی بجھنے نہیں دیں گے۔“بھابھی کی اس بات پر سبھی خوشی سے مسکرانے لگے۔اقبال صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی بیگم کی جانب دیکھا جو وقت کے اس جواب سے مطمئن نظر آ رہی تھیں۔$BTC
Short-Term Price & Technical View$BNB Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1$XRP Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1 Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#FedWatch #StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #USIranStandoff $ETH
Short-Term Price & Technical View$BTC Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1 Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1$SOL Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#ClawdbotTakesSiliconValley #ClawdbotSaysNoToken #TokenizedSilverSurge #ClawdbotTakesSiliconValley $XRP
Short-Term Price & Technical View$ETH Current action: Bitcoin is hovering around the $88,000–$90,000 zone after bouncing back from recent dips below $86K. Analysts see this range as critical support — holding here keeps short-term bullish potential alive. A move above $92,000 would be a positive breakout signal, potentially reigniting momentum toward $96K–$100K. � LatestLY +1$BNB Technical structure: BTC is around key moving averages (20/50-day EMA), acting as a pivot for next moves. MACD is showing early signs of underlying buy pressure even if price hasn’t decisively rallied yet. Consolidation between ~$85K and ~$92K dominates the short term. � LatestLY +1 Trader sentiment: Community posts suggest traders are watching support around the 100-day MA (~$90.5K) and using disciplined risk management until a breakout or breakdown confirms direction. � Reddit#StrategyBTCPurchase #Mag7Earnings #SouthKoreaSeizedBTCLoss #FedWatch $BTC